- احادیثِ نبوی ﷺ

 

12345Last ›

21. باب إِخْرَاجِ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ

وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ح وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أَخْبَرَنِى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لأُخْرِجَنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ حَتَّى لاَ أَدَعَ إِلاَّ مُسْلِمًا ».

Jabir bin 'Abdullah said: 'Umar bin Al-Khattab said that he heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: "I shall certainly expel the Jews and Christians from the Arabian Peninsula, until I leave only Muslims there."

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا: میں یہود او رنصاریٰ کو جزیرہ عرب سے ضرور نکال دوں گا اور مسلمان کے سوا کسی کو وہاں رہنے نہیں دوں گا۔


وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِىُّ ح وَحَدَّثَنِى سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ - وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ - كِلاَهُمَا عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

A similar report (as no. 4594) was narrated from Az-Zubair, with this chain.

یہ حدیث دو اور سندوں سے اسی طرح مروی ہے۔

22. بابُ جَوَازِ قِتَالِ مَنْ نَقَضَ الْعَهْدَ وَجَوَازِ إِنْزَالِ أَهْلِ الْحِصْنِ عَلَى حُكْمِ حَاكِمٍ عَدْلٍ أَهْلٍ لِلْحُكْمِ

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ - وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ - قَالَ أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ - عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِىَّ قَالَ نَزَلَ أَهْلُ قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِلَى سَعْدٍ فَأَتَاهُ عَلَى حِمَارٍ فَلَمَّا دَنَا قَرِيبًا مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لِلأَنْصَارِ « قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ - أَوْ خَيْرِكُمْ ». ثُمَّ قَالَ « إِنَّ هَؤُلاَءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ ». قَالَ تَقْتُلُ مُقَاتِلَتَهُمْ وَتَسْبِى ذُرِّيَّتَهُمْ. قَالَ فَقَالَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « قَضَيْتَ بِحُكْمِ اللَّهِ - وَرُبَّمَا قَالَ - قَضَيْتَ بِحُكْمِ الْمَلِكِ ». وَلَمْ يَذْكُرِ ابْنُ الْمُثَنَّى وَرُبَّمَا قَالَ « قَضَيْتَ بِحُكْمِ الْمَلِكِ ».

Abu Sa'eed Al-Khudri said: The people of Quraizah surrendered subject to the arbitration of Sa'd bin Mu'adh. The Messenger of Allah (s.a.w) sent for Sa'd, who came to him riding a donkey, and when he drew close to the Masjid, the Messenger of Allah (s.a.w) said to the Ansar: "Stand up for your leader" - or the best of you. Then he said: "These people have surrendered, subject to your arbitration." He said: You should kill their warriors and take their women and children captive. The Prophet (s.a.w) said: "You have judged in accordance with the ruling of Allah." Or he said: "with the ruling of the Sovereign (Allah)."

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو قریظہ ، حضرت سعد بن معاذ کے فیصلے پر قلعہ سے نکل آئے،رسول اللہ ﷺنے حضرت سعد کو بلوایا ، وہ ایک گدھے پر سوار ہوکر آپ کے پاس آئے ، جب وہ مسجد کے قریب پہنچے تو رسو ل اللہﷺنے انصار سے کہا: اپنے سردار یا اپنے افضل کی طرف کھڑے ہو، پھر فرمایا: یہ لوگ تمہارے فیصلہ پر قلعہ سے نکلے ہیں ، حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: ان میں سے جو لوگ لڑائی کے قابل ہیں ان کو قتل کردیجئے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو قید کرلیجئے ، نبی ﷺنے فرمایا: تم نے اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے او رکبھی کہا: تم نے بادشاہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔ابن مثنی نے آخری جملہ ذکر نہیں کیا۔


وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فِى حَدِيثِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللَّهِ ». وَقَالَ مَرَّةً « لَقَدْ حَكَمْتَ بِحُكْمِ الْمَلِكِ ».

It was narrated from Shu'bah with this chain (a Hadith similar to no. 4596), and he said in his Hadith: The Messenger of Allah (s.a.w) said: "You have judged concerning them according to the ruling of Allah." and on one occasion he said: "with the ruling of the Sovereign (Allah)."

یہ حدیث ایک اور سند سے اسی طرح مروی ہے ،اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: تم نے اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے اور کبھی فرمایا: تم نے بادشاہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ الْهَمْدَانِىُّ كِلاَهُمَا عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ قَالَ ابْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْعَرِقَةِ. رَمَاهُ فِى الأَكْحَلِ فَضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- خَيْمَةً فِى الْمَسْجِدِ يَعُودُهُ مِنْ قَرِيبٍ فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنَ الْخَنْدَقِ وَضَعَ السِّلاَحَ فَاغْتَسَلَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ وَهُوَ يَنْفُضُ رَأْسَهُ مِنَ الْغُبَارِ فَقَالَ وَضَعْتَ السِّلاَحَ وَاللَّهِ مَا وَضَعْنَاهُ اخْرُجْ إِلَيْهِمْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « فَأَيْنَ ». فَأَشَارَ إِلَى بَنِى قُرَيْظَةَ فَقَاتَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَنَزَلُوا عَلَى حُكْمِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الْحُكْمَ فِيهِمْ إِلَى سَعْدٍ قَالَ فَإِنِّى أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ الْمُقَاتِلَةُ وَأَنْ تُسْبَى الذُّرِّيَّةُ وَالنِّسَاءُ وَتُقْسَمَ أَمْوَالُهُمْ.

It was narrated that 'Aishah said: Sa'd was wounded on the day of (the battle of) Al-Khandaq, when a man from Quraish who was called Ibn Al-'Ariqah, shot him in the artery of his forearm. The Messenger of Allah (s.a.w) set up a tent for him in the Masjid so that he could visit him easily. When the Messenger of Allah (s.a.w) returned from Al-Khandaq, he lay down his arms and took a bath (ghusl). Then Jibril came to him, brushing dust from his hair, and said: Have you laid down your arms? By Allah, we have not laid them down. Go out to them. The Messenger of Allah (s.a.w) said: "Where?" He pointed towards Banu Quraizah. So the Messenger of Allah (s.a.w) fought them, and they surrendered, subject to the ruling of the Messenger of Allah (s.a.w). The Messenger of Allah (s.a.w) referred judgement concerning them to Sa'd, who said: I judge that their warriors should be killed, and their children and women should be taken prisoner, and their wealth should be divided.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جنگ خندق کے دن حضرت سعد بن معاذ کو قریش کے ایک آدمی نے تیر مارا ، اس آدمی کا نام ابن العرقہ تھا، یہ تیر آپ کے بازو کی ایک رگ میں لگا، رسول اللہﷺنے حضرت سعد کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگوادیا اور وہیں قریب سے ان کی عیادت کرتے تھے ، جب رسول اللہﷺجنگ خندق سے واپس لوٹے تو آپﷺنے ہتھیار اتار کر غسل کیا،اس وقت آپﷺکے پاس حضرت جبریل آئے اس حال میں کہ وہ اپنے سر سے غبار جھاڑ رہے تھے ، انہوں نے کہا: آپﷺنے ہتھیار اتار دیے ؟ اللہ کی قسم! ہم نے ابھی تک ہتھیار نہیں اتارے ، ان کی طرف روانہ ہوں، رسول اللہﷺنے دریافت کیا، کہاں ؟ انہوں نے بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا ، پھر رسول اللہﷺنے ان سے جنگ کی ، وہ رسو ل اللہﷺکے فیصلے پر قلعہ سے نکل آئے ، رسول اللہﷺنے ان کا فیصلہ حضرت سعد کی طرف مفوض کردیا ، انہوں نے کہا: میرا فیصلہ یہ ہے کہ ان کے جنگجو افراد کو قتل کیا جائے ، اور ان کے بچوں اور عورتوں کو گرفتار کیا جائے او ران کے اموال کو تقسیم کردیا جائے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ قَالَ قَالَ أَبِى فَأُخْبِرْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ».

Hisham said: My father said: I was told that the Messenger of Allah (s.a.w) said (to S'ad bin Mu'adh): "You have judged concerning them according to the ruling of Allah."

ہشام اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے یہ خبر دی گئی کہ رسو ل اللہﷺنے حضرت سعد سے فرمایا: تم نے اللہ عز و جل کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے ۔


حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ أَخْبَرَنِى أَبِى عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ سَعْدًا قَالَ وَتَحَجَّرَ كَلْمُهُ لِلْبُرْءِ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنْ لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَىَّ أَنْ أُجَاهِدَ فِيكَ مِنْ قَوْمٍ كَذَّبُوا رَسُولَكَ -صلى الله عليه وسلم- وَأَخْرَجُوهُ اللَّهُمَّ فَإِنْ كَانَ بَقِىَ مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَىْءٌ فَأَبْقِنِى أُجَاهِدْهُمْ فِيكَ اللَّهُمَّ فَإِنِّى أَظُنُّ أَنَّكَ قَدْ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَإِنْ كُنْتَ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَافْجُرْهَا وَاجْعَلْ مَوْتِى فِيهَا. فَانْفَجَرَتْ مِنْ لَبَّتِهِ فَلَمْ يَرُعْهُمْ - وَفِى الْمَسْجِدِ مَعَهُ خَيْمَةٌ مِنْ بَنِى غِفَارٍ - إِلاَّ وَالدَّمُ يَسِيلُ إِلَيْهِمْ فَقَالُوا يَا أَهْلَ الْخَيْمَةِ مَا هَذَا الَّذِى يَأْتِينَا مِنْ قِبَلِكُمْ فَإِذَا سَعْدٌ جُرْحُهُ يَغِذُّ دَمًا فَمَاتَ مِنْهَا.

It was narrated from 'Aishah that when Sa'd's wound became dry and was about to heal, he said: O Allah, You know that there is nothing dearer to me than striving in Jihad for Your sake, against people who disbelieved in Your Messenger (s.a.w) and expelled him. O Allah, if any war against Quraish remains, keep me alive so that I may fight in Jihad against them for Your sake. O Allah, I think that You have ended the war between us and them. If You have ended the war between us and them, then open my wound so that my death may be due to that. Then he began to bleed from the base of his throat, and the people - there were some tents of Banu Ghifar in the Masjid with him - were startled when they saw the blood flowing towards them. Then they said: O people of the tents, what is this that is coming from you? Then they saw that Sa'd's wound was pouring with blood and he died of that.

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا زخم بھرنے کے قریب تھا تو انہوں نے یہ دعا مانگی تھی: اے اللہ ! تو خوب جانتا ہے کہ مجھے تیری راہ میں اس قوم کے خلاف جہاد کرنے سے کوئی چیز عزیز نہیں ہے ، جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کوجھوٹا کہا،اور آپﷺکو شہر سے نکالا ،اے اللہ! اگر قریش کے خلاف جنگ ابھی رہتی ہو تو مجھے ابھی زندہ رکھ تاکہ میں ان سے جہاد کرسکوں ، کیونکہ میرا گمان یہ ہے کہ تو نے ہمارے اور ان کے درمیان جنگ ختم کردی، سوا اگر تو نے ہماری اور ان کی جنگ ختم کردی ہے تو اس زخم کو جاری کردے اور اسی میں میری موت واقع ہوجائے ،وہ زخم ہنسلی کی جگہ سے بہنے لگا ، مسجد میں ان کے ساتھ بنو غفار کا خیمہ تھا ، خون ان کی طرف بہہ کر آرہا تھا ، وہ اس سے خوف زدہ ہوگئے اور کہنے لگے: اے خیمہ والو! یہ تمہاری طرف سے ہمارے پاس کیا چیز بہہ کر آرہی ہے ؟ پس دیکھا تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا زخم بہہ رہا تھا ، اور وہ اسی میں فوت ہوگئے۔


وَحَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ سُلَيْمَانَ الْكُوفِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَانْفَجَرَ مِنْ لَيْلَتِهِ فَمَازَالَ يَسِيلُ حَتَّى مَاتَ وَزَادَ فِى الْحَدِيثِ قَالَ فَذَاكَ حِينَ يَقُولُ الشَّاعِرُ: أَلاَ يَا سَعْدُ سَعْدَ بَنِى مُعَاذٍ فَمَا فَعَلَتْ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ لَعَمْرُكَ إِنَّ سَعْدَ بَنِى مُعَاذٍ غَدَاةَ تَحَمَّلُوا لَهُوَ الصَّبُورُ تَرَكْتُمْ قِدْرَكُمْ لاَ شَىْءَ فِيهَا وَقِدْرُ الْقَوْمِ حَامِيَةٌ تَفُورُ وَقَدْ قَالَ الْكَرِيمُ أَبُو حُبَابٍ أَقِيمُوا قَيْنُقَاعُ وَلاَ تَسِيرُوا وَقَدْ كَانُوا بِبَلْدَتِهِمْ ثِقَالاً كَمَا ثَقُلَتْ بِمَيْطَانَ الصُّخُورُ.

A similar report (as no. 4600) was narrated from Hisham with this chain, except that he said: He (i.e., S'ad bin Mu'adh) began to bleed that night, and the blood flowed until he died. And he added in his Hadith: that is when the poet said: Hark, O Sa'd, Sa'd of Banu Mu'adh What have Quraizah and Nadir done? Indeed, Sa'd bin Mu'adh Was steadfast on the morning they departed. You have left your cooking-pot empty, Whilst the cooking-pot of the people is hot and boiling. Abu Hubab the nobleman has said: O Qainuqa', do not depart. They were well settled in their country, Just as rocks are well settled in Maytan (a hilly tract near Al-Madinah)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا زخم بھرنے کے قریب تھا تو انہوں نے یہ دعا مانگی تھی: اے اللہ ! تو خوب جانتا ایک اور سند سے یہ روایت اسی طرح مروی ہے اور اس میں یہ ہے کہ اسی رات سے زخم جاری ہوگیا او رمسلسل وہ خون بہتا رہا یہاں تک کہ وہ فوت ہوگئے ، اور حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ شاعر نے اس موقع پر کہا: سنو ا ے سعد! سعد بن معاذ! بنو قریظہ اور بنو نضیر نے کیا کیا ؟ اے سعد بن معاذ ! تمہاری زندگی کی قسم ! جس صبح کو انہوں نے مصائب برداشت کیے و ہ بڑے صبر والی ہے ۔ تم نے اپنی ہانڈی خالی چھوڑ دی اور قوم کی ہانڈی گرم ہے اور ابل رہی ہے ۔ نیک شخص ابوحباب نے کہا: اے بنو قینقاع ! ٹھہرو ! مت جاؤ۔حالانکہ وہ اپنے شہر میں وزن والے تھے ۔ جیسا کہ میطان پہاڑی کے پتھر وزنی ہیں۔

23. باب المبادرة بالغزو ، وتقديم أهم الأمرين المتعارضين

وَحَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِىُّ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَادَى فِينَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ انْصَرَفَ عَنِ الأَحْزَابِ « أَنْ لاَ يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ الظُّهْرَ إِلاَّ فِى بَنِى قُرَيْظَةَ ». فَتَخَوَّفَ نَاسٌ فَوْتَ الْوَقْتِ فَصَلُّوا دُونَ بَنِى قُرَيْظَةَ. وَقَالَ آخَرُونَ لاَ نُصَلِّى إِلاَّ حَيْثُ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَإِنْ فَاتَنَا الْوَقْتُ قَالَ فَمَا عَنَّفَ وَاحِدًا مِنَ الْفَرِيقَيْنِ.

It was narrated that 'Abdullah said: The Messenger of Allah (s.a.w) called out to us on the day he returned from (the battle of) Al-Ahzab: "No one should pray Zuhr except in Banu Quraizah." But some people were afraid that the time (for Zuhr) would end, so they prayed before reaching Banu Quraizah, and others said: We will not pray anywhere but where the Messenger of Allah (s.a.w) commanded us, even if the time ends. And he (s.a.w) did not criticize either of the two groups.

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب ہم غزوہ احزاب سے واپس لوٹے تو رسول اللہ ﷺنے یہ ندا کی کہ بنوقریظہ میں پہنچنے سے پہلے کوئی شخص ظہر کی نماز نہ پڑھے ۔ بعض صحابہ نے وقت ختم ہونے کی وجہ سے بنو قریظہ پہنچنے سے پہلے نماز پڑھ لی اور دوسرے صحابہ نے کہا: ہم اسی جگہ نماز پڑھیں گے جہاں نماز پڑھنے کا ہمیں رسول اللہﷺنے حکم دیا ہے ، خواہ نماز قضا ہوجائے ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے کسی کو ملامت نہیں کی۔

24. باب رَدِّ الْمُهَاجِرِينَ إِلَى الأَنْصَارِ مَنَائِحَهُمْ مِنَ الشَّجَرِ وَالثَّمَرِ حِينَ اسْتَغْنَوْا عَنْهَا بِالْفُتُوحِ

وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ مِنْ مَكَّةَ الْمَدِينَةَ قَدِمُوا وَلَيْسَ بِأَيْدِيهِمْ شَىْءٌ وَكَانَ الأَنْصَارُ أَهْلَ الأَرْضِ وَالْعَقَارِ فَقَاسَمَهُمُ الأَنْصَارُ عَلَى أَنْ أَعْطَوْهُمْ أَنْصَافَ ثِمَارِ أَمْوَالِهِمْ كُلَّ عَامٍ وَيَكْفُونَهُمُ الْعَمَلَ وَالْمَئُونَةَ وَكَانَتْ أُمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَهْىَ تُدْعَى أُمَّ سُلَيْمٍ - وَكَانَتْ أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى طَلْحَةَ كَانَ أَخًا لأَنَسٍ لأُمِّهِ - وَكَانَتْ أَعْطَتْ أُمُّ أَنَسٍ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عِذَاقًا لَهَا فَأَعْطَاهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أُمَّ أَيْمَنَ مَوْلاَتَهُ أُمَّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِى أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لَمَّا فَرَغَ مِنْ قِتَالِ أَهْلِ خَيْبَرَ وَانْصَرَفَ إِلَى الْمَدِينَةِ رَدَّ الْمُهَاجِرُونَ إِلَى الأَنْصَارِ مَنَائِحَهُمُ الَّتِى كَانُوا مَنَحُوهُمْ مِنْ ثِمَارِهِمْ - قَالَ - فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِلَى أُمِّى عِذَاقَهَا وَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أُمَّ أَيْمَنَ مَكَانَهُنَّ مِنْ حَائِطِهِ. قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَكَانَ مِنْ شَأْنِ أُمِّ أَيْمَنَ أُمِّ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهَا كَانَتْ وَصِيفَةً لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَكَانَتْ مِنَ الْحَبَشَةِ فَلَمَّا وَلَدَتْ آمِنَةُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَعْدَ مَا تُوُفِّىَ أَبُوهُ فَكَانَتْ أُمُّ أَيْمَنَ تَحْضُنُهُ حَتَّى كَبِرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَعْتَقَهَا ثُمَّ أَنْكَحَهَا زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ ثُمَّ تُوُفِّيَتْ بَعْدَ مَا تُوُفِّىَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِخَمْسَةِ أَشْهُرٍ.

It was narrated that Anas bin Malik said: When the Muhajirun came from Makkah to Al-Madinah, they came with nothing in their hands. The Ansar were people with land and date palms, so they shared what they had with them, giving them half of the yield each year, and they (the Muhajirin) gave their labour in return. The mother of Anas bin Malik was called Umm Sulaim, and she was also the mother of 'Abdullah bin Abi Talhah, who was the brother of Anas through his mother. Umm Anas had given the Messenger of Allah (s.a.w) some date palms of hers, and the Messenger of Allah (s.a.w) gave them to Umm Ayman, his freed slave, the mother of Usamah binZaid. Ibn Shihab said: Anas bin Malik told me that when the Messenger of Allah (s.a.w) had finished fighting the people of Khaibar, and had gone back to Al-Madinah, the Muhajirun gave back their gifts of fruits and produce to the Ansar. He said: The Messenger of Allah (s.a.w) gave the date palms back to my mother, and the Messenger of Allah (s.a.w) gave Umm Ayman some trees of his own garden instead of them. Ibn Shihab said: Umm Ayman, the mother of Usamah bin Zaid, was the slave woman of 'Abdullah bin 'Abdul-Muttalib, and she was from Ethiopia. When Aminah gave birth to the Messenger of Allah (s.a.w), after his father had died, Umm Ayman looked after him, then when the Messenger of Allah (s.a.w) grew up, he manumitted her and arranged her marriage to Zaid bin Harithah, she died five months after the death of the Messenger of Allah (s.a.w).

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب مہاجرین مکہ سے مدینہ آئے تھے تو ان کے ہاتھ خالی تھے اور انصار زمین و جائیداد والے تھے تو انصار نے اس شرط پر زمینیں ان کے سپرد کر دیں کہ وہ ہر سال پیداوار کا نصف انہیں دیا کریں گے ، اور باقی رکھ لیں گے اور زمینوں پر انصار کی جگہ کام کریں گے ۔حضرت انس بن مالک کی والدہ جن کو ام سلیم کہا جاتا تھا ، وہ حضرت عبد اللہ بن ابی طلحہ کی والدہ بھی تھیں ، اور وہ حضرت انس کی ماں کی طرف بھائی تھے ،ام انس نے رسول اللہ ﷺکو ایک کجھور کا درخت دیا تھا ، رسو ل اللہﷺنے وہ درخت اپنی آزاد کردہ باندی حضرت ام ایمن کو دے دیا ، جو حضرت اسامہ بن زید کی والدہ تھیں، ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے مجھے خبردی کہ جب رسول اللہ ﷺاہل خیبر سے جہاد کرکے مدینہ واپس لوٹے تو مہاجرین نے انصار کو ان کے وہ عطایا واپس کردیے جو انہوں نے پھلوں کی شکل میں ان کو دیے تھے ، تب رسول اللہ ﷺنے بھی میری والدہ کو ان کا کجھور کا درخت واپس کردیا ، او رحضرت ام ایمن کو رسول اللہﷺنے اس درخت کے عوض اپنے باغ سے ایک اور درخت دے دیا۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں کہ حضرت ام ایمن جو حضرت اسامہ بن زید کی والدہ تھیں ،وہ حضرت عبد اللہ بن عبد المطلب کی باندی تھیں اور حبشہ کی رہنے والی تھیں ۔ جب رسول اللہﷺاپنے والد کی وفات کے بعد حضرت آمنہ کے ہاں پیدا ہوئے تو اس وقت حضرت ام ایمن آپﷺکی پرورش کرتی تھیں ، جب رسول اللہ ﷺبڑے ہوئے تو آپﷺنے ان کو آزاد کردیا اور پھر ان کا نکاح حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے کردیا۔ حضرت ام ایمن رسول اللہ ﷺکے وفات کے پانچ ماہ بعد انتقال کرگئیں۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَكْرَاوِىُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الْقَيْسِىُّ كُلُّهُمْ عَنِ الْمُعْتَمِرِ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِى شَيْبَةَ - حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِىُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلاً - وَقَالَ حَامِدٌ وَابْنُ عَبْدِ الأَعْلَى أَنَّ الرَّجُلَ - كَانَ يَجْعَلُ لِلنَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- النَّخَلاَتِ مِنْ أَرْضِهِ. حَتَّى فُتِحَتْ عَلَيْهِ قُرَيْظَةُ وَالنَّضِيرُ فَجَعَلَ بَعْدَ ذَلِكَ يَرُدُّ عَلَيْهِ مَا كَانَ أَعْطَاهُ. قَالَ أَنَسٌ وَإِنَّ أَهْلِى أَمَرُونِى أَنْ آتِىَ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَأَسْأَلَهُ مَا كَانَ أَهْلُهُ أَعْطَوْهُ أَوْ بَعْضَهُ وَكَانَ نَبِىُّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَدْ أَعْطَاهُ أُمَّ أَيْمَنَ فَأَتَيْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَأَعْطَانِيهِنَّ فَجَاءَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَجَعَلَتِ الثَّوْبَ فِى عُنُقِى وَقَالَتْ وَاللَّهِ لاَ نُعْطِيكَاهُنَّ وَقَدْ أَعْطَانِيهِنَّ. فَقَالَ نَبِىُّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَا أُمَّ أَيْمَنَ اتْرُكِيهِ وَلَكِ كَذَا وَكَذَا ». وَتَقُولُ كَلاَّ وَالَّذِى لاَ إِلَهَ إِلاَّ هُوَ. فَجَعَلَ يَقُولُ كَذَا حَتَّى أَعْطَاهَا عَشْرَةَ أَمْثَالِهِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ عَشْرَةِ أَمْثَالِهِ.

It was narrated from Anas that a man put the date palms on his land at the Prophet's disposal, until he conquered Quraizah and An-Nadir, after which he returned them to the one who had given them to him. Anas said: My family told me to go to the Prophet (s.a.w) and ask him for what they had given to him, or some of it. But the Prophet (s.a.w) had given it to Umm Ayman, so I went to the Prophet (s.a.w) and he gave them to me, then Umm Ayman came and put a cloth around my neck and said: By Allah, we will not give them to you, after he gave them to me. The Prophet of Allah (s.a.w) said: "O Umm Ayman, let him go, and you will have such and such." She said: No, by the One besides Whom there is no other god! And she kept saying such words until he gave her ten times as much, or nearly ten times as much.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺکی خدمت میں لوگ اپنے درخت پیش کرتے تھے یہاں تک کہ جب بنو قریظہ اور بنو نضیر فتح ہوگئے تو رسو ل اللہ ﷺنے لوگوں کے دیے ہوئے درخت واپس کردیے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میرے گھر والوں نے مجھ سے کہا: کہ میں نبی ﷺکی خدمت میں جاؤں اور یہ سوال کروں کہ ہمارے گھر والوں نے آپ کو جو درخت دیے تھے وہ سب یا بعض اس میں سے واپس کردیں اس حال میں کہ نبیﷺوہ درخت حضرت ام ایمن رضی اللہ عنہا کو دے چکے تھے ، میں نبی ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ ﷺنے وہ درخت مجھے دے دیے ، اتنے میں حضرت ام ایمن آگئیں ، انہوں نے میری گردن میں کپڑا ڈال کر کہا: اللہ کی قسم! میں تم کو وہ درخت نہیں دوں گی جو رسول اللہ ﷺمجھے د ے چکے ہیں ۔ نبیﷺنے فرمایا: اے ام ایمن ! وہ درخت چھوڑ دو اور تم کو اتنے اور درخت مل جائیں گے ، وہ کہنے لگیں: ہرگز نہیں ! اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ، آپﷺفرمانے لگے : میں تم کو اتنا دوں گا ، یہاں تک کہ ان کو تقریبا دس گنا زیادہ درخت عطا فرمائے۔

25. بابُ جَوَازِ الْأَكْلِ مِن طَعَامِ الْغَنِيْمَةِ فِي دَارِ الْحَرْبِ

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ - يَعْنِى ابْنَ الْمُغِيرَةِ - حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ أَصَبْتُ جِرَابًا مِنْ شَحْمٍ يَوْمَ خَيْبَرَ - قَالَ - فَالْتَزَمْتُهُ فَقُلْتُ لاَ أُعْطِى الْيَوْمَ أَحَدًا مِنْ هَذَا شَيْئًا - قَالَ - فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مُتَبَسِّمًا.

It was narrated that 'Abdullah bin Mughaffal said: I found a leather bag full of fat on the day of (the battle of) Khaibar, and I took hold of it and said: I will not give any of it to anyone this day. Then I turned around, and saw the Messenger of Allah (s.a.w) smiling.

حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھے چربی کی ایک تھیلی غزوہ خیبر میں ملی، میں نے اس کو رکھ لیااور میں نے کہا: کہ آج میں کسی کو اس میں سے کچھ نہیں دوں گا، میں نے مڑکر دیکھا تو رسول اللہﷺ مسکرا رہے تھے ۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ الْعَبْدِىُّ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِى حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُغَفَّلٍ يَقُولُ رُمِىَ إِلَيْنَا جِرَابٌ فِيهِ طَعَامٌ وَشَحْمٌ يَوْمَ خَيْبَرَ فَوَثَبْتُ لآخُذَهُ قَالَ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَاسْتَحْيَيْتُ مِنْهُ. وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ جِرَابٌ مِنْ شَحْمٍ وَلَمْ يَذْكُرِ الطَّعَامَ.

'Abdullah bin Mughaffal said: A leather bag of food and fat was thrown to us on the day of (the battle of) Khaibar, and I leapt forward and caught it. Then I turned around and saw the Messenger of Allah (s.a.w), and I felt shy before him. Shu'bah narrated it with this chain (a Hadith similar to no. 4606), except that he said: A leather bag full of fat, and he did not mention food.

حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جنگ خیبر کے دن کسی نے ہماری طرف ایک تھیلی پھینکی جس میں طعام اور چربی تھی،میں اس کو اٹھانے کے لیے دوڑا، مڑکر دیکھا تو رسول اللہﷺکھڑے تھے ، پھر مجھے شرم آئی۔ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے ، اس میں تھیلی کے اندر چربی کا ذکر ہے ، طعام کا ذکر نہیں ہے۔

26. باب كِتَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى هِرَقْلَ يَدْعُوهُ إِلَى الإِسْلاَمِ

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِىُّ وَابْنُ أَبِى عُمَرَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رَافِعٍ - قَالَ ابْنُ رَافِعٍ وَابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ أَخْبَرَهُ مِنْ فِيهِ إِلَى فِيهِ قَالَ انْطَلَقْتُ فِى الْمُدَّةِ الَّتِى كَانَتْ بَيْنِى وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ فَبَيْنَا أَنَا بِالشَّأْمِ إِذْ جِىءَ بِكِتَابٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِلَى هِرَقْلَ يَعْنِى عَظِيمَ الرُّومِ - قَالَ - وَكَانَ دِحْيَةُ الْكَلْبِىُّ جَاءَ بِهِ فَدَفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ بُصْرَى فَدَفَعَهُ عَظِيمُ بُصْرَى إِلَى هِرَقْلَ فَقَالَ هِرَقْلُ هَلْ هَا هُنَا أَحَدٌ مِنْ قَوْمِ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِى يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِىٌّ قَالُوا نَعَمْ - قَالَ - فَدُعِيتُ فِى نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَدَخَلْنَا عَلَى هِرَقْلَ فَأَجْلَسَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ أَيُّكُمْ أَقْرَبُ نَسَبًا مِنْ هَذَا الرَّجُلِ الَّذِى يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِىٌّ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ فَقُلْتُ أَنَا. فَأَجْلَسُونِى بَيْنَ يَدَيْهِ وَأَجْلَسُوا أَصْحَابِى خَلْفِى ثُمَّ دَعَا بِتَرْجُمَانِهِ فَقَالَ لَهُ قُلْ لَهُمْ إِنِّى سَائِلٌ هَذَا عَنِ الرَّجُلِ الَّذِى يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِىٌّ فَإِنْ كَذَبَنِى فَكَذِّبُوهُ. قَالَ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ وَايْمُ اللَّهِ لَوْلاَ مَخَافَةَ أَنْ يُؤْثَرَ عَلَىَّ الْكَذِبُ لَكَذَبْتُ. ثُمَّ قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ سَلْهُ كَيْفَ حَسَبُهُ فِيكُمْ قَالَ قُلْتُ هُوَ فِينَا ذُو حَسَبٍ قَالَ فَهَلْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ قُلْتُ لاَ. قَالَ فَهَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ قُلْتُ لاَ. قَالَ وَمَنْ يَتَّبِعُهُ أَشْرَافُ النَّاسِ أَمْ ضُعَفَاؤُهُمْ قَالَ قُلْتُ بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ. قَالَ أَيَزِيدُونَ أَمْ يَنْقُصُونَ قَالَ قُلْتُ لاَ بَلْ يَزِيدُونَ. قَالَ هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَ فِيهِ سَخْطَةً لَهُ قَالَ قُلْتُ لاَ. قَالَ فَهَلْ قَاتَلْتُمُوهُ قُلْتُ نَعَمْ. قَالَ فَكَيْفَ كَانَ قِتَالُكُمْ إِيَّاهُ قَالَ قُلْتُ تَكُونُ الْحَرْبُ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ سِجَالاً يُصِيبُ مِنَّا وَنُصِيبُ مِنْهُ. قَالَ فَهَلْ يَغْدِرُ قُلْتُ لاَ. وَنَحْنُ مِنْهُ فِى مُدَّةٍ لاَ نَدْرِى مَا هُوَ صَانِعٌ فِيهَا. قَالَ فَوَاللَّهِ مَا أَمْكَنَنِى مِنْ كَلِمَةٍ أُدْخِلُ فِيهَا شَيْئًا غَيْرَ هَذِهِ. قَالَ فَهَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ قَالَ قُلْتُ لاَ. قَالَ لِتَرْجُمَانِهِ قُلْ لَهُ إِنِّى سَأَلْتُكَ عَنْ حَسَبِهِ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ فِيكُمْ ذُو حَسَبٍ وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْعَثُ فِى أَحْسَابِ قَوْمِهَا. وَسَأَلْتُكَ هَلْ كَانَ فِى آبَائِهِ مَلِكٌ فَزَعَمْتَ أَنْ لاَ. فَقُلْتُ لَوْ كَانَ مِنْ آبَائِهِ مَلِكٌ قُلْتُ رَجُلٌ يَطْلُبُ مُلْكَ آبَائِهِ. وَسَأَلْتُكَ عَنْ أَتْبَاعِهِ أَضُعَفَاؤُهُمْ أَمْ أَشْرَافُهُمْ فَقُلْتَ بَلْ ضُعَفَاؤُهُمْ وَهُمْ أَتْبَاعُ الرُّسُلِ. وَسَأَلْتُكَ هَلْ كُنْتُمْ تَتَّهِمُونَهُ بِالْكَذِبِ قَبْلَ أَنْ يَقُولَ مَا قَالَ فَزَعَمْتَ أَنْ لاَ. فَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ لِيَدَعَ الْكَذِبَ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ يَذْهَبَ فَيَكْذِبَ عَلَى اللَّهِ. وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَرْتَدُّ أَحَدٌ مِنْهُمْ عَنْ دِينِهِ بَعْدَ أَنْ يَدْخُلَهُ سَخْطَةً لَهُ فَزَعَمْتَ أَنْ لاَ. وَكَذَلِكَ الإِيمَانُ إِذَا خَالَطَ بَشَاشَةَ الْقُلُوبِ. وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَزِيدُونَ أَوْ يَنْقُصُونَ فَزَعَمْتَ أَنَّهُمْ يَزِيدُونَ وَكَذَلِكَ الإِيمَانُ حَتَّى يَتِمَّ. وَسَأَلْتُكَ هَلْ قَاتَلْتُمُوهُ فَزَعَمْتَ أَنَّكُمْ قَدْ قَاتَلْتُمُوهُ فَتَكُونُ الْحَرْبُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ سِجَالاً يَنَالُ مِنْكُمْ وَتَنَالُونَ مِنْهُ. وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ تُبْتَلَى ثُمَّ تَكُونُ لَهُمُ الْعَاقِبَةُ وَسَأَلْتُكَ هَلْ يَغْدِرُ فَزَعَمْتَ أَنَّهُ لاَ يَغْدِرُ. وَكَذَلِكَ الرُّسُلُ لاَ تَغْدِرُ. وَسَأَلْتُكَ هَلْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ فَزَعَمْتَ أَنْ لاَ. فَقُلْتُ لَوْ قَالَ هَذَا الْقَوْلَ أَحَدٌ قَبْلَهُ قُلْتُ رَجُلٌ ائْتَمَّ بِقَوْلٍ قِيلَ قَبْلَهُ. قَالَ ثُمَّ قَالَ بِمَ يَأْمُرُ كُمْ قُلْتُ يَأْمُرُنَا بِالصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ وَالصِّلَةِ وَالْعَفَافِ قَالَ إِنْ يَكُنْ مَا تَقُولُ فِيهِ حَقًّا فَإِنَّهُ نَبِىٌّ وَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ خَارِجٌ وَلَمْ أَكُنْ أَظُنُّهُ مِنْكُمْ وَلَوْ أَنِّى أَعْلَمُ أَنِّى أَخْلُصُ إِلَيْهِ لأَحْبَبْتُ لِقَاءَهُ وَلَوْ كُنْتُ عِنْدَهُ لَغَسَلْتُ عَنْ قَدَمَيْهِ وَلَيَبْلُغَنَّ مُلْكُهُ مَا تَحْتَ قَدَمَىَّ. قَالَ ثُمَّ دَعَا بِكِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَرَأَهُ فَإِذَا فِيهِ « بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى هِرَقْلَ عَظِيمِ الرُّومِ سَلاَمٌ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّى أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الإِسْلاَمِ أَسْلِمْ تَسْلَمْ وَأَسْلِمْ يُؤْتِكَ اللَّهُ أَجْرَكَ مَرَّتَيْنِ وَإِنْ تَوَلَّيْتَ فَإِنَّ عَلَيْكَ إِثْمَ الأَرِيسِيِّينَ وَ (يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَنْ لاَ نَعْبُدَ إِلاَّ اللَّهَ وَلاَ نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلاَ يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ) فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ قِرَاءَةِ الْكِتَابِ ارْتَفَعَتِ الأَصْوَاتُ عِنْدَهُ وَكَثُرَ اللَّغْطُ وَأَمَرَ بِنَا فَأُخْرِجْنَا. قَالَ فَقُلْتُ لأَصْحَابِى حِينَ خَرَجْنَا لَقَدْ أَمِرَ أَمْرُ ابْنِ أَبِى كَبْشَةَ إِنَّهُ لَيَخَافُهُ مَلِكُ بَنِى الأَصْفَرِ - قَالَ - فَمَا زِلْتُ مُوقِنًا بِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ سَيَظْهَرُ حَتَّى أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَىَّ الإِسْلاَمَ.

It was narrated from Ibn 'Abbas that Abu Sufyan told him: During the truce between me and the Messenger of Allah (s.a.w), I set out, and whilst I was in Syria, a letter came from the Messenger of Allah (s.a.w) to Heraclius, the ruler of the Byzantines. Dihyah Al-Kalbi brought the letter, and gave it to the ruler of Busra, and the ruler of Busra gave it to Heraclius. Heraclius said: Is there anyone here from the people of this man who claims that he is a Prophet? They said: Yes. I was called, along with a number of men from Quraish, and we entered upon Heraclius, who seated us before him and said: Which of you is closest in kinship to this man who claims that he is a Prophet? Abu Sufyan said: I said: I am. So he seated me in front of him, and my companions sat behind me, then he called his interpreter and said to him: Tell them that I am going to ask this man about the man who claims that he is a Prophet, and if he tells me a lie, let them refute him. Abu Sufyan said: By Allah, were it not for the fear that people would say that I lied, I would have lied. Then he said to his interpreter: Ask him, what is his (the Prophet's) lineage among you? I said: He is of good lineage among us. He said: Was there any king among his forefathers? I said: No. He said: Did you ever accuse him of lying before he said what he said? I said: No. He said: Who are his followers? Are they the nobles among the people or the lowly? I said: The lowly. He said: Are they increasing in number or decreasing? He said: They are increasing. He said: Have any of them turned away from his religion after entering it, out of dissatisfaction? I said: No. He said: Have you fought him? I said: Yes. He said: How was (the outcome of) your fighting with him? I said: The war between us goes by turns; sometimes he prevails over us and sometimes we prevail over him. He said: Does he act treacherously? I said: No, but we have recently concluded a truce with him, and we do not know what he will do. He (Abu Sufyan) said: By Allah, I could not say anything more than that. He said: Has anyone said such a thing before him? I said: No. He said to his interpreter: Tell him: I asked you about his lineage and you said that he is of good lineage among you; such are the Messengers, who are sent from the best lineages of their people. I asked: Was there any king among his forefathers, and you said: No. If there had been any king among his forefathers, I would have said that he was a man seeking the kingdom of his forefathers. I asked about his followers, whether they were lowly or noble, and you said they were lowly. Such are the followers of the Messengers. I asked you whether you accused him of lying before he said what he said, and you said no. I knew that if he did not tell lies about people, he would not tell lies about Allah. I asked you whether anyone had turned away from his religion after entering it, out of dissatisfaction with it, and you said: No. Such is faith: when it penetrates deeply into the heart. I asked you whether they are increasing in number or decreasing, and you said that they are increasing. Such is faith, until it prevails. I asked you whether you have fought them, and you said that you have fought them, and the war between you and him goes by turns: sometimes he defeats you and sometimes you defeat him. Thus the Messengers are tested, but ultimately the victory is theirs. I asked you whether he acts treacherously, and you said that he does not act treacherously. Such are the Messengers, they do not act treacherously. I asked you whether anyone had said such a thing before, and you said: No. I thought that if anyone had said such a thing before, he would be a man who was following what was said before. Then he said: What does he enjoin upon you? I said: He enjoins us to pray, give Zakat, uphold ties of kinship and remain chaste. He said: If what you say about him is true, then he is a Prophet. I knew that he would appear, but I did not think that he would be from among you. If I knew that I would be able to reach him safely, I would like to meet him, and if I were with him, I would wash his feet. His dominion will most certainly reach that which is beneath my feet. Then he called for the letter of the Messenger of Allah (s.a.w) and read it. It said: "In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful. From Muhammad the Messenger of Allah to Heraclius the ruler of the Byzantines. Peace be upon those who follow true guidance. I invite you with the call of Islam. Become Muslim and you will be safe. Become Muslim and Allah will give you a twofold reward, but if you turn away, then upon you will be the sins of the peasants (your subjects). Say (O Muhammad (s.a.w)): 'O people of the Scripture (Jews and Christians): Come to a word that is just between us and you, that we worship none but Allah (Alone), and that we associate no partners with Him, and that none of us shall take others as lords besides Allah. Then, if they turn away, say: Bear witness that we are Muslims.' [AI 'Imran 3:64]." When he had finished reading the letter, there were raised voices and a great deal of clamour, and he ordered that we be expelled. I said to my companions when we left: Ibn Abi Kabshah (i.e., the Prophet (s.a.w)) has come to wield a great deal of power; the king of Banu Al-Asfar is afraid of him. I continued to be certain that the Messenger of Allah (s.a.w) would prevail, until Allah caused me to become Muslim.

حرقت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابو سفیان نے مجھے خود روبرو بیان کیا کہ جس عرصہ میں میرے اور رسول اللہ ﷺکے درمیان معاہدہ تھا، اس دوران میں ملک شام گیا ، وہاں قیام کے دوران رسول اللہﷺ کا روم کے بادشاہ ہرقل کے نام مکتوب پہنچا ، حضرت دحیہ کلبی نے اس مکتوب کو بصریٰ کے حاکم تک پہنچایا، ا س نے وہ مکتوب ہرقل تک پہنچایا، ہرقل نے کہا : کہ یہاں اس شخص کی قوم کا کوئی شخص حاضر ہے جس کا یہ دعویٰ ہے کہ میں نبی ہوں؟ لوگوں نے کہا: ہاں ، حضرت ابو سفیان نے کہا: پھر مجھے قریش کی ایک جماعت کے ساتھ بلایا گیا ، پھر ہم ہرقل کے پاس گئے ، ہرقل نے ہمیں اپنے سامنے بٹھایا ۔ اس نے کہا: تم میں سے اس شخص کا قریبی رشتہ دار کون ہے جس کا دعویٰ ہے کہ میں نبی ہوں ؟ حضرت ابو سفیان نے کہا: میں ہوں ، پھر انہوں نے مجھے ہرقل کے سامنے بٹھایا اور میرے ساتھیوں کو میرے پیچھے بٹھا دیا،پھر اس نے مترجم کو بلایا اور اس نے کہا: اس سے کہوں کہ میں اس شخص کے بارے میں سوال کررہا ہوں جس کا یہ دعویٰ ہے کہ میں نبی ہوں ، اگر یہ مجھ سے جھوٹ بولے تو تم بتا دینا کہ یہ جھوٹا ہے ، حضرت ابو سفیان نے کہا: اللہ کی قسم! اگر مجھے یہ خدشہ نہ ہوتا کہ یہ مجھ کو جھوٹا کہیں گے تو میں ضرور جھوٹ بولتا ، پھر اس نے مترجم سے کہا: اس سے پوچھو کہ ان کا تم میں حسب (خاندان ) کیسا ہے ؟ میں نے کہا: وہ ہم میں اچھے حسب والے ہیں اس نے پوچھا : کیا ان کے آباء میں کوئی بادشاہ بھی گزرا ہے ؟ میں نے کہا: نہیں ، اس نے پوچھا : کیا اس دعویٰ سے پہلے تم ان پر جھوٹ کی تہمت لگاتے تھے ؟ میں نے کہا: نہیں ،اس نے پوچھا : ان کی پیروی اعلیٰ طبقے کے لوگ کرتے ہیں یا نچلے طبقے کے ؟ میں نے کہا: نچلے طبقے کے ، اس نے پوچھا : ان کے پیروکار زیادہ ہورہے ہیں یا کم؟ میں نے کہا: نہیں ، بلکہ وہ زیادہ ہورہے ہیں ، اس نے پوچھا : ان کے دین میں داخل ہونے کے بعد کیا کوئی ان سے ناراض ہوکر ان کے دین سے پلٹ جاتا ہے ؟ میں نے کہا: نہیں ، اس نے پوچھا : کیا تم نے کبھی ان سے جنگ کی ہے ؟ میں نے کہا: ہاں ، اس نے پوچھا: ان کا تمہارے ساتھ جنگ میں کیا نتیجہ رہا؟ میں نے کہا: ہمارے اور ان کے درمیان جنگ ایک ڈول کی طرح ہے کبھی وہ کھینچ لیتے ہیں اور کبھی ہم ، اس نے پوچھا : کبھی انہوں نے عہد شکنی کی ہے ؟ میں نے کہا: نہیں ،لیکن جس دوران ہم یہاں ہیں ہمیں ان کا حال معلوم نہیں ، حضرت ابو سفیان کہتے ہیں اللہ کی قسم!صرف اس ایک جملہ کے سوا مجھے اور کسی بات کو اپنی گفتگو میں داخل کرنے کی گنجائش نہیں ملی، اس نے پوچھا: کیا ان سے پہلے کسی اور نے بھی یہ دعویٰ کیا تھا؟ میں نے کہا: نہیں ، پھر اس نے اپنے مترجم سے کہا: اس کو بتاؤ میں نے تم سے ان کے حسب کے متعلق پوچھا تو تم نے یہ بتایا کہ وہ تم میں اچھے حسب والے ہیں اور قاعدہ یہی ہے کہ انبیاء اپنی قوم کے سب سے اچھے حسب میں مبعوث ہوتے ہیں ، پھر میں نے تم سے پوچھا کہ کیا ان کے آباؤ اجداد میں کوئی باشاہ گزرا ہے ؟تم نے کہا: نہیں ، میں نے سوچا کہ اگر ان کے آباء میں کوئی بادشاہ ہو تو یہ گمان ہوسکتا تھا کہ انہوں نے اپنے آباء کی حکومت حاصل کرنے کےلیے یہ دعوی کیا ہے ، پھر میں نے پوچھا کہ ان کے پیروکار پسماندہ ہیں یا ذی حیثیت ؟ تم نے کہا: وہ پسماندہ لوگ ہیں اور رسولوں کے پیروکارمیں پسماندہ لوگ ہی ہوتے ہیں ، پھر میں نے تم سے پوچھا : کیا اس دعویٰ سے پہلے تم ان پر جھوٹ کی تہمت لگاتے تھے ؟ تم نے کہا: نہیں ، سو میں نے جان لیا کہ جو آدمی بندوں پر جھوٹ نہیں باندھتا وہ اللہ پر کب جھوٹ باندھے گا ، اور میں نے تم سے سوال کیا : کیا ان کے دین میں داخل ہونے کے بعد کوئی آدمی ان سے ناراض ہوکر ان کے دین سے پلٹ جاتا ہے ؟ تم نے کہا: نہیں ، اور دل میں ایمان کے رچ جانے کے بعد یہی ہوتا ہے ، میں نے تم سے سوال کیا : ان کے پیروکار زیادہ ہورہے ہیں یا کم؟ تم نے کہا: وہ زیادہ ہورہے ہیں اورایمان لانے کا یہی قاعدہ ہے یہاں تک کہ وہ اپنے کمال کو پہنچ جاتا ہے اور میں نے تم سے پوچھا: کیا کبھی تم نے ان سے جنگ کی ہے ؟ تم نے کہا: ہاں جنگ کی ہے اور ہمارے جنگ ڈول کی طرح ہے کبھی اس کو وہ کھینچ لیتے ہیں اور کبھی ہم اور یہی قاعدہ ہے پہلے رسولوں کے ساتھ اسی طرح ہوتا رہا ہے ، پھر آخری فتح انہی کی ہوتی ہے اور میں نے تم سے پوچھا: کیا انہوں نے کبھی عہد شکنی کی ہے ؟ تم نے کہا: وہ عہد شکنی نہیں کرتے اور یہی قاعدہ ہے کہ رسول عہد شکنی نہیں کرتے اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا ان سے پہلے کبھی کسی نے یہ دعویٰ کیا تھا ، تم نے کہا: نہیں ، میں نے سوچا کہ اگر ان سے پہلے کوئی آدمی یہ دعویٰ کرتا ہے تو میں یہ کہتا کہ اس آدمی نے اس پہلے قول کی اتباع کی ہے ، پھر ابو سفیان نے کہا کہ پھر ہرقل نے پوچھا: وہ تم کو کن باتوں کا حکم دیتا ہے ؟ میں نے کہا: وہ ہمیں نماز پڑھنے ، زکاۃ دینے ، صلہ رحمی کرنے اور پاکدامنی کا حکم دیتے ہیں ، اس نے کہا:اگر تم نے سچ بیان کیا ہے تو وہ واقعی نبی ہیں اور مجھے علم تھا کہ اس نبی کا ظہور ہونے والا ہے ۔لیکن مجھے یہ گمان نہیں تھا، کہ اس کا تم میں ظہور ہوگا، اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ میں ان تک پہنچ جاؤں گا تو میں ان سے ملاقات کو پسند کرتا اور اگر میں وہاں موجود ہوتا تو ان کے مبارک قدموں کو دھوتا، ان کی حکومت یہاں تک ضرور پہنچے گی، پھر اس نے رسول اللہﷺکا خط منگوایا اور اس کو پڑھا، اس میں لکھا ہوا تھا : بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ محمد رسول اللہ ﷺکی جانب سے روم کے بادشاہ ہرقل کے نام ہے ، جو ہدایت کا پیروکار ہے ، اس کو سلام ہو ، اس کے بعد واضح ہو کہ میں تم کو اسلام کی دعوت دیتا ہوں ، اسلام لے آؤ ، سلامتی سے رہوگے ، اسلام قبول کرلو، اللہ تعالیٰ تم کو دہرا اجر عطا فرمائے گا اور اگر تم نے اعراض کیا تو تمہارے پیروکاروں کے اعراض کا گناہ بھی تم پر ہوگا ، اے اہل کتاب !آؤ اس بات کو قبول کرلو جو ہمارے اور تمہارے درمیان اتفاق ہے یہ کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کریں گے ، اور اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے اور ہم میں سے کوئی بھی اللہ کے سوا کسی کو معبود نہیں بنائے گا ، اگر وہ اس سے اعراض کریں تو کہہ دو، گواہ رہو ہم مسلمان ہیں جب ہرقل اس مکتوب کو پڑھ کر فارغ ہوا تو اس کے سامنے شور مچ گیا اور بکثرت آوازیں آنے لگیں ، اس نے ہمیں باہر نکالنے کا حکم دیا او رہم کو نکال دیا گیا ، باہر آنے کے بعد میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ابن ابی کبشہ (یعنی رسول اللہﷺ) کی اہمیت اب بہت بڑھ گی ہے کیونکہ روم کا بادشاہ بھی ان سے بہت ڈرتا ہے ، اس کے بعد مجھے ہمیشہ یہ یقین رہا کہ رسول اللہ ﷺکو عنقریب غلہ حاصل ہوگا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں اسلام داخل کردیا۔


وَحَدَّثَنَاهُ حَسَنٌ الْحُلْوَانِىُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ - حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ فِى الْحَدِيثِ وَكَانَ قَيْصَرُ لَمَّا كَشَفَ اللَّهُ عَنْهُ جُنُودَ فَارِسَ مَشَى مِنْ حِمْصَ إِلَى إِيلِيَاءَ شُكْرًا لِمَا أَبْلاَهُ اللَّهُ. وَقَالَ فِى الْحَدِيثِ « مِنْ مُحَمَّدٍ عَبْدِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ». وَقَالَ « إِثْمَ الْيَرِيسِيِّينَ ». وَقَالَ « بِدَاعِيَةِ الإِسْلاَمِ ».

It was narrated from Ibn Shihab with this chain (a similar Hadith as no. 4607), and he added: When Allah inflicted defeat on the Persian troops, Caesar traveled from Homs to Aelia (Jerusalem) to show his gratitude to Allah. And he said in the Hadith: "From Muhammad, the slave and Messenger of Allah."

یہ حدیث ایک اور سند سے اسی طرح مروی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ فارس کی افواج کو شکست دینے کے بعد جب قیصر روم حمص سے ایلیاء (بیت المقدس) کی طرف روانہ ہوا تاکہ اس امتحان میں سرخروئی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور اس حدیث میں ہے کہ محمد عبد اللہ ورسولہ کی جانب سے اور اثم الیریسیین ، اور داعیۃ الاسلام۔

27. باب كُتُبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مُلُوكِ الْكُفَّارِ يَدْعُوهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ

حَدَّثَنِى يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَبِىَّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَتَبَ إِلَى كِسْرَى وَإِلَى قَيْصَرَ وَإِلَى النَّجَاشِىِّ وَإِلَى كُلِّ جَبَّارٍ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِىِّ الَّذِى صَلَّى عَلَيْهِ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم-.

It was narrated from Anas that the Prophet of Allah (s.a.w) wrote to Chosroes, Caesar, the Negus and to every tyrant, calling them to Allah. That was not the Negus for whom the Prophet (s.a.w) offered the funeral prayer.

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے کسریٰ اور قیصر کی طرف خط لکھا اور نجاشی کی طرف خط لکھا اورہرحاکم کی طرف خط لکھا اور اس کو اسلام کی دعوت دی۔ یہ وہ نجاشی نہیں ہے جس کی نبی ﷺنے نماز جنازہ پڑھائی تھی۔


وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. بِمِثْلِهِ وَلَمْ يَقُلْ وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِى الَّذِى صَلَّى عَلَيْهِ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم-.

It was narrated from Qatadah that Anas bin Malik narrated a similar report (as no. 4609) from the Prophet (s.a.w), but he did not say: That was not the Negus for whom the Prophet (s.a.w) offered the funeral prayer.

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺسے حسب سابق نقل کیا ہے ، لیکن اس میں یہ نہیں ہے کہ یہ وہ نجاشی نہیں تھا ، جس کی نبیﷺنے نماز جنازہ پڑھائی تھی۔


وَحَدَّثَنِيهِ نَصْرُ بْنُ عَلِىٍّ الْجَهْضَمِىُّ أَخْبَرَنِى أَبِى حَدَّثَنِى خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ وَلَمْ يَذْكُرْ وَلَيْسَ بِالنَّجَاشِىِّ الَّذِى صَلَّى عَلَيْهِ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم-.

It was narrated from Qatadah, from Anas (a similar report as no. 4609), but he did not say: That was not the Negus for whom the Prophet (s.a.w) offered the funeral prayer (a similar report as no. 4609).

ایک اور سند سے بھی یہ روایت اسی طرح منقول ہے ، اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ یہ وہ نجاشی نہیں تھا، جس کی نبی ﷺنے نماز جنازہ پڑھائی تھی۔

28. بابٌ فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ

وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِى كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ قَالَ عَبَّاسٌ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ حُنَيْنٍ فَلَزِمْتُ أَنَا وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَلَمْ نُفَارِقْهُ وَرَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ بَيْضَاءَ أَهْدَاهَا لَهُ فَرْوَةُ بْنُ نُفَاثَةَ الْجُذَامِىُّ فَلَمَّا الْتَقَى الْمُسْلِمُونَ وَالْكُفَّارُ وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَرْكُضُ بَغْلَتَهُ قِبَلَ الْكُفَّارِ قَالَ عَبَّاسٌ وَ أَنَا آخِذٌ بِلِجَامِ بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَكُفُّهَا إِرَادَةَ أَنْ لاَ تُسْرِعَ وَأَبُو سُفْيَانَ آخِذٌ بِرِكَابِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَىْ عَبَّاسُ نَادِ أَصْحَابَ السَّمُرَةِ ». فَقَالَ عَبَّاسٌ وَكَانَ رَجُلاً صَيِّتًا فَقُلْتُ بِأَعْلَى صَوْتِى أَيْنَ أَصْحَابُ السَّمُرَةِ قَالَ فَوَاللَّهِ لَكَأَنَّ عَطْفَتَهُمْ حِينَ سَمِعُوا صَوْتِى عَطْفَةُ الْبَقَرِ عَلَى أَوْلاَدِهَا. فَقَالُوا يَا لَبَّيْكَ يَا لَبَّيْكَ - قَالَ - فَاقْتَتَلُوا وَالْكُفَّارَ وَالدَّعْوَةُ فِى الأَنْصَارِ يَقُولُونَ يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ يَا مَعْشَرَ الأَنْصَارِ قَالَ ثُمَّ قُصِرَتِ الدَّعْوَةُ عَلَى بَنِى الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ فَقَالُوا يَا بَنِى الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ يَا بَنِى الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ. فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ كَالْمُتَطَاوِلِ عَلَيْهَا إِلَى قِتَالِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « هَذَا حِينَ حَمِىَ الْوَطِيسُ ». قَالَ ثُمَّ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَصَيَاتٍ فَرَمَى بِهِنَّ وُجُوهَ الْكُفَّارِ ثُمَّ قَالَ « انْهَزَمُوا وَرَبِّ مُحَمَّدٍ ». قَالَ فَذَهَبْتُ أَنْظُرُ فَإِذَا الْقِتَالُ عَلَى هَيْئَتِهِ فِيمَا أَرَى - قَالَ - فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلاَّ أَنْ رَمَاهُمْ بِحَصَيَاتِهِ فَمَا زِلْتُ أَرَى حَدَّهُمْ كَلِيلاً وَأَمْرَهُمْ مُدْبِرًا.

It was narrated that Ibn Shihab said: Kathir bin 'Abbas bin 'Abdul-Muttalib said: 'Abbas said: I was present with the Messenger of Allah (s.a.w) on the day of (of the battle of) Hunain. Abu Sufyan bin Al-Harith bin 'Abdul-Muttalib and I stayed close to the Messenger of Allah (s.a.w) and did not leave him. The Messenger of Allah (s.a.w) was riding a white mule of his, that had been given to him by Farwah bin Nufathah Al-Judhami. When the Muslims and the Kuffar met, the Muslims turned and fled, but the Messenger of Allah (s.a.w) spurred his mule towards the Kuffar. 'Abbas said: I was holding on to the reins of the mule of the Messenger of Allah (s.a.w), checking it so that it did not go too fast, and Abu Sufyan was holding on to the stirrup of the Messenger of Allah (s.a.w). The Messenger of Allah (s.a.w) said: "O 'Abbas, call the people of Al-Samurah." 'Abbas - who was a man with a loud voice - said: I said at the top of my voice: Where are the people of Al-Samurah? He said: By Allah, when they heard my voice, they came back like cows coming back to their calves, saying: "Here we are, here we are!" They fought with the Kuffar, then the call went out to the Ansar: O Ansar, O Ansar! And the last to be called were Banu Al-Harith bin Al-Khazraj. They said: O Banu Al-Harith bin Al-Khazraj, O Banu Al-Harith bin Al-Khazraj! The Messenger of Allah (s.a.w), seated on his mule, craned his neck to watch the fighting, and the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Now the battle is raging." Then the Messenger of Allah (s.a.w) took some pebbles and flung them at the faces of the Kuffar, then he said: "They are defeated, by the Lord of Muhammad (s.a.w)!" Then I went and looked, and saw that the fighting was as it had been before. He said: By Allah, all he did was throw some pebbles at them. Then their force was spent and they began to retreat.

حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں غزوہ حنین میں رسول اللہ ﷺکے ساتھ تھا، میں اور حضرت ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب رسول اللہ ﷺکے ساتھ ساتھ رہے اور آپ ﷺسے بالکل الگ نہیں ہوئے ، رسول اللہﷺاس سفید رنگ کی خچر پر سوار تھے جو آپ کو فروہ بن نفاثہ جذامی نے ہدیہ کی تھی، جب مسلمانوں اور کفار کا مقابلہ ہوا تو مسلمان پیٹھ پھیر کر بھاگے ، رسول اللہ ﷺاپنے خچر کو کفار کی جانب دوڑا رہے تھے ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسو ل اللہ ﷺکے خچر کی لگام تھام کر اس کو تیز بھاگنے سے روک رہا تھا اور حضرت ابو سفیان رسول اللہﷺکی رکاب پکڑے ہوئے تھے ، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اے عباس ! اصحاب سمرہ کو آواز دو، حضرت عباس رضی اللہ عنہ بلند آواز آدمی تھے ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے بلند آواز سے پکارا : اصحاب سمرہ کہاں ہیں ؟ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یہ آواز سنتے ہی وہ اس طرح پلٹے جس طرح گائے اپنے بچوں کی طرف پلٹتی ہے ، وہ یا لبیک ، یا لبیک کہتے ہوئے دوڑے آئے ،انہوں نے کافروں سے لڑنا شروع کردیا اور انہوں نے انصار کو بلایا اور کہتے تھے : اے انصار کی جماعت! انہوں نے انصار کو بلایا اور کہتے تھے : اے انصار کی جماعت ! اے انصار کی جماعت! پھر بنو حارث بن خزرج کو بلایا گیا اور کہا: اے بنو حارث بن خزرج ! اے بنو حارث بن خزرج! اس کے بعد رسول اللہ ﷺنے گردن مبارک اٹھاکر ان کی طرف دیکھا اس حال میں کہ آپﷺ خچر پر سوار تھے ،اور ان کی جنگ کا منظر دیکھ رہے تھے ،رسول اللہﷺنے فرمایا: اس وقت تنور گرم ہے ، پھر رسول اللہﷺنے چند کنکریاں اٹھاکر کفار کی طرف پھینک دیں اور فرمایا: محمد کے رب کی قسم! وہ ہار گئے ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں دیکھ رہا تھا کہ لڑائی اسی تیزی کے ساتھ جاری تھی میں اسی طرح دیکھ رہا تھا کہ اچانک آپﷺنے کنکریاں پھینکیں ، اللہ کی قسم! میں نے دیکھا کہ ان کا زور ٹوٹ گیا اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگے۔


وَحَدَّثَنَاهُ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ. نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَرْوَةُ بْنُ نُعَامَةَ الْجُذَامِىُّ. وَقَالَ « انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ انْهَزَمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ». وَزَادَ فِى الْحَدِيثِ حَتَّى هَزَمَهُمُ اللَّهُ قَالَ وَكَأَنِّى أَنْظُرُ إِلَى النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- يَرْكُضُ خَلْفَهُمْ عَلَى بَغْلَتِهِ.

A similar report (as no. 4612) was narrated from Az-Zuhri with this chain, except that he said: Farwah bin Nu'amah Al-Judhami. And he said: "They have been defeated, by the Lord of the Ka'bah, they have been defeated, by the Lord of the Ka'bah!" and he added: until Allah defeated them. He said: It is as if I can see the Prophet (s.a.w), pursuing them on his mule.

یہ حدیث ایک اور سند سے اسی طرح مروی ہے اس میں یہ ہے کہ آپﷺنے فرمایا: رب کعبہ کی قسم! وہ ہار گئے ، رب کعبہ کی قسم! وہ ہار گئے اور اس حدیث میں یہ اضافہ ہے: یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شکست دے دی ، گویا کہ میں رسول اللہ ﷺکی طرف دیکھ رہا ہوں کہ آپ ان کے پیچھے اپنا خچر دوڑا رہے ہیں۔


وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِى عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِىِّ قَالَ أَخْبَرَنِى كَثِيرُ بْنُ الْعَبَّاسِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ حُنَيْنٍ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ. غَيْرَ أَنَّ حَدِيثَ يُونُسَ وَحَدِيثَ مَعْمَرٍ أَكْثَرُ مِنْهُ وَأَتَمُّ.

Kathir bin 'Abbas narrated that his father said: I was with the Prophet (s.a.w) on the day of (of the battle of) Hunain... and he quoted the Hadith, but the Hadith of Yunus and the Hadith of Ma'mar are longer and more complete.

کثیر بن عباس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں غزوہ حنین میں نبی ﷺکے ساتھ تھا، آگے حدیث اسی طرح ہے ، البتہ یونس اور معمر کی روایت زیادہ اتم ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلْبَرَاءِ يَا أَبَا عُمَارَةَ أَفَرَرْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَالَ لاَ وَاللَّهِ مَا وَلَّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَلَكِنَّهُ خَرَجَ شُبَّانُ أَصْحَابِهِ وَأَخِفَّاؤُهُمْ حُسَّرًا لَيْسَ عَلَيْهِمْ سِلاَحٌ أَوْ كَثِيرُ سِلاَحٍ فَلَقُوا قَوْمًا رُمَاةً لاَ يَكَادُ يَسْقُطُ لَهُمْ سَهْمٌ جَمْعَ هَوَازِنَ وَبَنِى نَصْرٍ فَرَشَقُوهُمْ رَشْقًا مَا يَكَادُونَ يُخْطِئُونَ فَأَقْبَلُوا هُنَاكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَرَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَقُودُ بِهِ فَنَزَلَ فَاسْتَنْصَرَ وَقَالَ « أَنَا النَّبِىُّ لاَ كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ ». ثُمَّ صَفَّهُمْ.

It was narrated that Abu Ishaq said: A man said to Al-Bara': O Abu 'Umarah, did you run away on the day of (of the battle of) Hunain? He said: No, by Allah, the Messenger of Allah (s.a.w) did not turn his back, but some young men among his Companions were hasty and ill-prepared. They did not have any weapons, or many weapons, and they met some archers from among Hawazin and Banu Nasr whose arrows hardly ever missed their targets. They shot at them, and hardly any of their arrows missed. They came to the Messenger of Allah (s.a.w), and the Messenger of Allah (s.a.w) was on his white mule, and Abu Sufyan bin Al-Harith bin 'Abdul-Muttalib was leading it. He (s.a.w) dismounted and prayed for help, saying: "I am the Prophet and no doubt I am the son of 'Abdul-Muttalib." Then he formed them into ranks.

ابو اسحاق سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت براء سے کہا: اے ابو عمارہ ! کیا آپ جنگ حنین کے دن بھاگ گئے تھے ؟ انہوں نے کہا: نہیں ، اللہ کی قسم! رسول اللہﷺنے پیٹھ نہیں پھیری تھی، بلکہ واقعہ یوں ہے کہ آپﷺکے صحابہ میں سے کچھ نوجوان جلد باز اور بغیر ہتھیار کے آگے نکلے اور ان کا مقابلہ ہوازن ، اور بنو نضر کے تیر اندازوں سے ہوا جن کا کوئی تیر خطا نہیں جاتا تھا ، انہوں نے تاک تاک کر اس طرح تیر برسائے کہ کوئی خطا نہیں گیا ، پھر یہ نوجوان رسول اللہ ﷺکی طرف آئے ، رسول اللہﷺایک سفید خچر پر سوار تھے ، اور ابو سفیان بن حارث بن عبد المطلب اس کے آگے تھے ، نبی ﷺاترے اور اللہ سے مدد طلب کی اور فرمایا: میں نبی ہوں ، یہ جھوٹ نہیں ہے ، میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں ، اس کے بعد آپﷺنے ان کی صف بندی کی۔


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَنَابٍ الْمِصِّيصِىُّ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ زَكَرِيَّاءَ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى الْبَرَاءِ فَقَالَ أَكُنْتُمْ وَلَّيْتُمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ يَا أَبَا عُمَارَةَ فَقَالَ أَشْهَدُ عَلَى نَبِىِّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مَا وَلَّى وَلَكِنَّهُ انْطَلَقَ أَخِفَّاءُ مِنَ النَّاسِ وَحُسَّرٌ إِلَى هَذَا الْحَىِّ مِنْ هَوَازِنَ وَهُمْ قَوْمٌ رُمَاةٌ فَرَمَوْهُمْ بِرِشْقٍ مِنْ نَبْلٍ كَأَنَّهَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ فَانْكَشَفُوا فَأَقْبَلَ الْقَوْمُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ يَقُودُ بِهِ بَغْلَتَهُ فَنَزَلَ وَدَعَا وَاسْتَنْصَرَ وَهُوَ يَقُولُ « أَنَا النَّبِىُّ لاَ كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ اللَّهُمَّ نَزِّلْ نَصْرَكَ ». قَالَ الْبَرَاءُ كُنَّا وَاللَّهِ إِذَا احْمَرَّ الْبَأْسُ نَتَّقِى بِهِ وَإِنَّ الشُّجَاعَ مِنَّا لَلَّذِى يُحَاذِى بِهِ. يَعْنِى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم-.

It was narrated from Abu Ishaq that a man came to Al-Bara' and said: Did you run away on the day of (of the battle of) Hunain, O Abu 'Umarah? He said: I bear witness that the Prophet of Allah (s.a.w) did not retreat, but some hasty and ill-prepared young men went out and met this tribe of Hawazin, who were archers. They shot a volley of arrows at them and did not miss, and the people retreated. Then the people started coming to the Messenger of Allah (s.a.w) when Abu Sufyan bin Al-Harith was leading his mule, and he (s.a.w) dismounted and called upon Allah, seeking His help, and saying: "I am the Prophet and no doubt I am the son of 'Abdul-Muttalib. O Allah, send down Your help." Al-Bara' said: By Allah, when the battle grew fierce, we sought protection by his side, and the brave ones among us were those who managed to stand by his side.

ابو اسحاق سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضرت براء سے کہا: اے ابو عمارہ ! کیا آپ لوگ جنگ حنین کے دن بھاگ گئے تھے ؟ انہوں نے کہا: میں نبیﷺکے متعلق گواہی دیتا ہوں کہ آپﷺنے پیٹھ نہیں پھیری ، لیکن چند جلد بار اور نہتے نوجوان ہوازن کی طرف بڑے ، وہ لوگ تیر انداز تھے ، انہوں نے تیروں کی اس طرح بوچھاڑ کی جیسے ٹڈی دل ہو تو یہ لوگ ان کے سامنے سے ہٹ گئے اور رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے ، حضرت ابو سفیان بن حارث آپ کے خچر کے آگے تھے ، آپﷺخچر سے اترے اور دعا کی اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگی اور آپ ﷺ یہ فرما رہے تھے : میں نبی ہوں ، یہ جھوٹ نہیں ہے ، میں عبد المطلب کا بیٹا ہوں ، اے اللہ ! اپنی مدد نازل فرما۔ حضرت براء نے کہا: اللہ کی قسم! جب جنگ تیز ہوجاتی تو ہم خود کو آپﷺکی پناہ میں بچاتے تھے اور ہم میں بہادر وہ آدمی ہوتا تھا جو جنگ میں رسول اللہﷺکے ساتھ رہے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ أَفَرَرْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ الْبَرَاءُ وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لَمْ يَفِرَّ وَكَانَتْ هَوَازِنُ يَوْمَئِذٍ رُمَاةً وَإِنَّا لَمَّا حَمَلْنَا عَلَيْهِمُ انْكَشَفُوا فَأَكْبَبْنَا عَلَى الْغَنَائِمِ فَاسْتَقْبَلُونَا بِالسِّهَامِ وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ وَإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ آخِذٌ بِلِجَامِهَا وَهُوَ يَقُولُ « أَنَا النَّبِىُّ لاَ كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ ».

It was narrated that Abu Ishaq said: I heard Al-Bara' when a man from Qais asked him: Did you flee and leave the Messenger of Allah (s.a.w) on the day of (of the battle of) Hunain? Al-Bara' said: The Messenger of Allah (s.a.w) did not flee. At that time Hawazin were archers, and when we attacked them they retreated, and we fell upon the booty, but then they came towards us with their arrows. And I saw the Messenger of Allah (s.a.w) on his white mule, and Abu Sufyan bin Al-Harith was holding the reins, and he (the Prophet (s.a.w)) was saying: "I am the Prophet and no doubt I am the son of 'Abdul-Muttalib."

ابو اسحاق سے روایت ہے کہ میں نے براء سے سنا اور ان سے قبیلہ قیس کے ایک آدمی نے سوال کیا تم غزوہ حنین کے دن رسول اللہ ﷺکے پاس سے بھاگ گئے تھے حضرت براء نے کہا: لیکن رسول اللہ ﷺنہیں بھاگے اور اس دن ہوازن کے جوان تیر اندازی کررہے تھے،جب ہم نے ان پر حملہ کیا تو وہ بھاگ گئے، ہم مال غنیمت پر ٹوٹ پڑے اور انہوں نے تیروں سے ہمارا مقابلہ کیا اور میں نے رسول اللہ ﷺکو اپنے سفید خچر پر سوار دیکھا اور ابوسفیان بن حارث اس کی لگام پکڑے ہوئے تھے اور آپ ﷺفرما رہے تھے میں نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں ہے میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔


وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَأَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِى أَبُو إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ قَالَ لَهُ رَجُلٌ يَا أَبَا عُمَارَةَ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَهُوَ أَقَلُّ مِنْ حَدِيثِهِمْ وَهَؤُلاَءِ أَتَمُّ حَدِيثًا.

Abu Ishaq narrated that a man said to Al-Bara': O Abu 'Umarah... and he narrated the same Hadith (as no. 4616), but it was less complete than their Hadith.

حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک آدمی نے کہا: اے ابو عمارہ!اس کے بعد حدیث حسب سابق مروی ہے ،اس روایت میں کم الفاظ ہیں اور دیگر روایات اس کی بہ نسبت مکمل ہیں۔


وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِىُّ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنِى إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنِى أَبِى قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حُنَيْنًا فَلَمَّا وَاجَهْنَا الْعَدُوَّ تَقَدَّمْتُ فَأَعْلُو ثَنِيَّةً فَاسْتَقْبَلَنِى رَجُلٌ مِنَ الْعَدُوِّ فَأَرْمِيهِ بِسَهْمٍ فَتَوَارَى عَنِّى فَمَا دَرَيْتُ مَا صَنَعَ وَنَظَرْتُ إِلَى الْقَوْمِ فَإِذَا هُمْ قَدْ طَلَعُوا مِنْ ثَنِيَّةٍ أُخْرَى فَالْتَقَوْا هُمْ وَصَحَابَةُ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَوَلَّى صَحَابَةُ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَأَرْجِعُ مُنْهَزِمًا وَعَلَىَّ بُرْدَتَانِ مُتَّزِرًا بِإِحْدَاهُمَا مُرْتَدِيًا بِالأُخْرَى فَاسْتَطْلَقَ إِزَارِى فَجَمَعْتُهُمَا جَمِيعًا وَمَرَرْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مُنْهَزِمًا وَهُوَ عَلَى بَغْلَتِهِ الشَّهْبَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لَقَدْ رَأَى ابْنُ الأَكْوَعِ فَزَعًا ». فَلَمَّا غَشُوا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَزَلَ عَنِ الْبَغْلَةِ ثُمَّ قَبَضَ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ مِنَ الأَرْضِ ثُمَّ اسْتَقْبَلَ بِهِ وُجُوهَهُمْ فَقَالَ « شَاهَتِ الْوُجُوهُ ». فَمَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْهُمْ إِنْسَانًا إِلاَّ مَلأَ عَيْنَيْهِ تُرَابًا بِتِلْكَ الْقَبْضَةِ فَوَلَّوْا مُدْبِرِينَ فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- غَنَائِمَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ.

Iyas bin Salamah, who was the son of Al-Akwa', said: My father told me: We fought alongside the Messenger of Allah (s.a.w) at Hunain. When we faced the enemy, I advanced and climbed a hillock, and a man of the enemy turned towards me, so I shot him with an arrow, but he ducked and I did not realize what he had done. Then I looked at the people, who had appeared from another hillock, and they met, they and the Companions of the Prophet (s.a.w)· The Companions of the Prophet (s.a.w) turned back and I began to retreat. I was wearing two garments, one around my waist and the other on my shoulders. My Izar became loose, so I was holding on to both of them. I passed by the Messenger of Allah (s.a.w) when I was running away, and he was on his white mule. The Messenger of Allah (s.a.w) said: "The son of Al-Akwa' has come back in fear." When they gathered around the Messenger of Allah (s.a.w), he dismounted and picked up a handful of dust from the ground, then he threw it in the direction of (the enemy) and said: "May their faces be deformed." There was not one man among them whom Allah had created, but his face was filled with dust from that handful, and they turned and fled. Thus Allah defeated them, and the Messenger of Allah (s.a.w) divided their booty among the Muslims.

حضرت ایاس بن سلمہ سے روایت ہے کہ مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی کہ ہم نے رسول اللہﷺکے ساتھ غزوہ حنین میں شرکت کی جب ہمارا دشمن سے مقابلہ ہوا تو میں آگے بڑھ کر ایک گھاٹی پر چڑھ گیا، سامنے سے دشمن کا ایک آدمی آیا میں نے اسے تیر مارا تو وہ مجھ سے چھپ گیا اور مجھے پتہ نہ چل سکا کہ اس نے کیا کیا ہے۔ میں نے قوم کو دیکھا تو وہ دوسری گھاٹی سے چڑھ رہے تھے ان کا اور نبیﷺ کا مقابلہ ہوا تو نبیﷺ کے صحابہ نے پشت پھیری اور میں بھی شکست خوردہ لوٹا اس حال میں کہ مجھ پر دو چادریں تھیں ایک کو میں نے باندھا ہوا تھا اور دوسری کو اوڑھا ہوا تھا میری تہبند کھل گئی تو میں نے دونوں چادروں کو اکٹھا کر لیا اورمیں رسول اللہﷺ کے پاس سے شکست خوردہ لوٹا اور آپﷺ اپنے شہباء خچر پر سوار تھے رسول اللہﷺ کو ابن اکوع نے گھبرائے ہوئے دیکھا ہے جب رسول اللہﷺ کو دشمنوں نے گھیر لیا تو آپﷺ خچر سے اترے پھر زمین سے ایک مٹھی مٹی کی بھری اور دشمن کے چہروں کی طرف پھینکتے ہوئے فرمایا: چہرے برے ہو گئے اللہ نے ان میں سے ہر انسان کی آنکھوں کو اس مٹھی کی مٹی سے بھر دیا اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے پس اللہ رب العزت نے انہیں شکست سے دوچار کیا اور رسول اللہ ﷺ نے ان کا مال غنیمت مسلمانوں میں تقسیم کر دیا۔

29. بابُ غَزْوَةِ الطَّائِفِ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ أَبِى الْعَبَّاسِ الشَّاعِرِ الأَعْمَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ حَاصَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَهْلَ الطَّائِفِ فَلَمْ يَنَلْ مِنْهُمْ شَيْئًا فَقَالَ « إِنَّا قَافِلُونَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ». قَالَ أَصْحَابُهُ نَرْجِعُ وَلَمْ نَفْتَتِحْهُ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « اغْدُوا عَلَى الْقِتَالِ ». فَغَدَوْا عَلَيْهِ فَأَصَابَهُمْ جِرَاحٌ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّا قَافِلُونَ غَدًا ». قَالَ فَأَعْجَبَهُمْ ذَلِكَ فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.

It was narrated from Abul-'Abbas, the blind poet, that 'Abdullah bin 'Amr said: The Messenger of Allah (s.a.w) besieged the people of At-Ta'if, but he did not attain any victory over them. He said: "We will return, if Allah wills." His Companions said: Are we going back without having conquered it? The Messenger of Allah (s.a.w) said to them: "We will attack in the morning." So they attacked it the following morning, and many of them were wounded. The Messenger of Allah (s.a.w) said to them: "We will depart in the morning." He said: That pleased them, and the Messenger of Allah (s.a.w) smiled.

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے طائف والوں کا محاصرہ کیا لیکن کامیابی حاصل نہ ہو سکی تو فرمایا: ہم ان شاء اللہ لوٹ جائیں گے آپ کے صحابہ نے عرض کیا ہم بغیر فتح کے لوٹیں گے تو رسول اللہﷺ نے انہیں فرمایا: تم کل صبح جنگ کرنا چنانچہ صحابہ رضی اللہ عنہ نے صبح ان پر حملہ کر دیا اور زخمی ہو گئے تو رسول اللہﷺ نے ان سے فرمایا: ہم کل صبح واپس چلے جائیں گے صحابہ نے اس بات کو پسند کیا تو رسول اللہﷺمسکرا دیے۔

30. باب غَزْوَةِ بَدْرٍ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- شَاوَرَ حِينَ بَلَغَهُ إِقْبَالُ أَبِى سُفْيَانَ قَالَ فَتَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ تَكَلَّمَ عُمَرُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ فَقَالَ إِيَّانَا تُرِيدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالَّذِى نَفْسِى بِيَدِهِ لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نُخِيضَهَا الْبَحْرَ لأَخَضْنَاهَا وَلَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَضْرِبَ أَكْبَادَهَا إِلَى بَرْكِ الْغِمَادِ لَفَعَلْنَا - قَالَ - فَنَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- النَّاسَ فَانْطَلَقُوا حَتَّى نَزَلُوا بَدْرًا وَوَرَدَتْ عَلَيْهِمْ رَوَايَا قُرَيْشٍ وَفِيهِمْ غُلاَمٌ أَسْوَدُ لِبَنِى الْحَجَّاجِ فَأَخَذُوهُ فَكَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَسْأَلُونَهُ عَنْ أَبِى سُفْيَانَ وَأَصْحَابِهِ. فَيَقُولُ مَا لِى عِلْمٌ بِأَبِى سُفْيَانَ وَلَكِنْ هَذَا أَبُو جَهْلٍ وَعُتْبَةُ وَشَيْبَةُ وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ. فَإِذَا قَالَ ذَلِكَ ضَرَبُوهُ فَقَالَ نَعَمْ أَنَا أُخْبِرُكُمْ هَذَا أَبُو سُفْيَانَ. فَإِذَا تَرَكُوهُ فَسَأَلُوهُ فَقَالَ مَا لِى بِأَبِى سُفْيَانَ عِلْمٌ وَلَكِنْ هَذَا أَبُو جَهْلٍ وَعُتْبَةُ وَأُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ فِى النَّاسِ. فَإِذَا قَالَ هَذَا أَيْضًا ضَرَبُوهُ وَرَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَائِمٌ يُصَلِّى فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ انْصَرَفَ قَالَ « وَالَّذِى نَفْسِى بِيَدِهِ لَتَضْرِبُوهُ إِذَا صَدَقَكُمْ وَتَتْرُكُوهُ إِذَا كَذَبَكُمْ ». قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « هَذَا مَصْرَعُ فُلاَنٍ ». قَالَ وَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى الأَرْضِ هَا هُنَا وَهَا هُنَا قَالَ فَمَا مَاطَ أَحَدُهُمْ عَنْ مَوْضِعِ يَدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.

It was narrated from Anas that the Messenger of Allah (s.a.w) consulted (his Companions) when news reached him that Abu Sufyan was advancing. Abu Bakr spoke, but he paid him no heed, then 'Umar spoke but he paid him no heed. Then Sa'd bin 'Ubadah stood up and said: Do you want us to speak, O Messenger of Allah? By the One in Whose Hand is my soul, if you tell us to plunge our horses into the sea, we will do so, and if you tell us to make our horses go as far as Bark Al-Ghimad, we will do so. The Messenger of Allah (s.a.w) encouraged the people, then they set out, and camped in Badr. Soon the water carriers of Quraish arrived, among whom was a black slave belonging to Banu Al-Hajjaj. They caught him, and the Companions of the Messenger of Allah (s.a.w) questioned him about Abu Sufyan and his Companions, but he said: I do not know about Abu Sufyan, but Abu Jahl, 'Utbah, Shaibah and Umayyah bin Khalaf are there. When he said that, they beat him, and he said: Yes, I will tell you about Abu Sufyan. But when they stopped beating him and they questioned him, he said: I do not know about Abu Sufyan, but Abu Jahl, 'Utbah, Shaibah and Umayyah bin Khalaf are among the people. When he said that again, they beat him again. The Messenger of Allah (s.a.w) was standing and praying, but when he saw that he stopped, and said: "By the One in Whose Hand is my soul, you beat him when he tells you the truth and you stop when he lies to you." And the Messenger of Allah (s.a.w) said: "This is the place where so-and-so will fall," placing his hand on the ground here and there. And none of them fell anywhere but in the places where the Messenger of Allah (s.a.w) had put his hand on the ground.

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہﷺکو ابو سفیان کے (قافلہ کے) آنے کی خبر ملی تو آپﷺنے صحابہ کرام سے مشورہ کیا ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی تو آپﷺنے اعراض کیا ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے گفتگو کی تو آپﷺنے ان سے بھی اعراض کیا ، پھر حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا:آپ ﷺ کی مراد ہم سے ہے، اے اللہ کے رسولﷺ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر آپ ﷺ ہمیں سمندر میں گھوڑے دوڑانے کا حکم دیں تو ہم انہیں ڈال دیں گے اگر آپﷺ ہمیں برک الغماد تک گھوڑے دوڑانے کا حکم دیں تو ہم ایسا کریں گے ، تب رسول اللہﷺنے لوگوں کو بلایا، پھر چلے یہاں تک کہ مقام بدر پر جاکر اترے، وہاں قریش کے پانی پلانے والے ملے ،اور ان میں بنو حجاج کا سیاہ فام غلام بھی تھا صحابہ نے اسے پکڑ لیا اوراس سے ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں پوچھنے لگے تو اس نے کہا: مجھے ابوسفیان کے بارے میں معلوم نہیں لیکن ابوجہل، عتبہ، شیبہ، امیہ بن خلف یہ سامنے ہیں جب اس نے یہ کہا تو صحابہ نے اسے مارا تو اس نے کہا ہاں میں تمہیں ابوسفیان کی خبر دیتا ہوں کہ ابوسفیان یہ ہے صحابہ نے اسے چھوڑ دیا پھر پوچھا تو اس نے کہا مجھے ابوسفیان کے بارے میں معلوم نہیں بلکہ ابوجہل، عتبہ، شیبہ اور امیہ بن خلف یہاں لوگوں میں ہیں اس نے جب یہ کہا تو صحابہ نے اسے پھر مارا اور رسول اللہﷺ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے جب نبیﷺ نے یہ کیفیت دیکھی تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد فرمایا اس ذات کی قسم جس کےہاتھ میں میری جان ہے جب یہ سچ کہتا ہے تو تم اسے مارتے ہو اور جب تم سے جھوٹ کہتا ہے تو چھوڑ دیتے ہو پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ فلاں کے گرنے کی جگہ ہے اور رسول اللہﷺ زمین پر اس اس جگہ اپنا ہاتھ مبارک رکھتے تھے، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ان میں سے کوئی بھی رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ رکھنے کی جگہ سے ادھر ادھر متجاوز نہ ہوا۔

12345Last ›