- احادیثِ نبوی ﷺ

 

1234Last ›

11. باب تَحْلِيلِ الْغَنَائِمِ لِهَذِهِ الأُمَّةِ خَاصَّةً

وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ مَعْمَرٍ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « غَزَا نَبِىٌّ مِنَ الأَنْبِيَاءِ فَقَالَ لِقَوْمِهِ لاَ يَتْبَعْنِى رَجُلٌ قَدْ مَلَكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِىَ بِهَا وَلَمَّا يَبْنِ وَلاَ آخَرُ قَدْ بَنَى بُنْيَانًا وَلَمَّا يَرْفَعْ سُقُفَهَا وَلاَ آخَرُ قَدِ اشْتَرَى غَنَمًا أَوْ خَلِفَاتٍ وَهُوَ مُنْتَظِرٌ وِلاَدَهَا. قَالَ فَغَزَا فَأَدْنَى لِلْقَرْيَةِ حِينَ صَلاَةِ الْعَصْرِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ فَقَالَ لِلشَّمْسِ أَنْتِ مَأْمُورَةٌ وَأَنَا مَأْمُورٌ اللَّهُمَّ احْبِسْهَا عَلَىَّ شَيْئًا. فَحُبِسَتْ عَلَيْهِ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ - قَالَ - فَجَمَعُوا مَا غَنِمُوا فَأَقْبَلَتِ النَّارُ لِتَأْكُلَهُ فَأَبَتْ أَنْ تَطْعَمَهُ فَقَالَ فِيكُمْ غُلُولٌ فَلْيُبَايِعْنِى مِنْ كُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ. فَبَايَعُوهُ فَلَصِقَتْ يَدُ رَجُلٍ بِيَدِهِ فَقَالَ فِيكُمُ الْغُلُولُ فَلْتُبَايِعْنِى قَبِيلَتُكَ. فَبَايَعَتْهُ - قَالَ - فَلَصِقَتْ بِيَدِ رَجُلَيْنِ أَوْ ثَلاَثَةٍ فَقَالَ فِيكُمُ الْغُلُولُ أَنْتُمْ غَلَلْتُمْ - قَالَ - فَأَخْرَجُوا لَهُ مِثْلَ رَأْسِ بَقَرَةٍ مِنْ ذَهَبٍ - قَالَ - فَوَضَعُوهُ فِى الْمَالِ وَهُوَ بِالصَّعِيدِ فَأَقْبَلَتِ النَّارُ فَأَكَلَتْهُ. فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لأَحَدٍ مِنْ قَبْلِنَا ذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رَأَى ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَطَيَّبَهَا لَنَا ».

It was narrated that Hammam bin Munabbih said: This is what Abu Hurairah narrated from the Messenger of Allah (s.a.w), and he mentioned a number of Ahadith, including the following: The Messenger of Allah (s.a.w) said: "One of the Prophets went out on a campaign, and he said to his people: No man should accompany me who has gotten married and wants to consummate the marriage but has not yet done so, or a man who has built a house but has not yet put the roof on, or a man who has bought some sheep or pregnant she-camels and is waiting for them to give birth. He went out to fight, and he approached a town at the time of 'Asr prayer, or close to that time. He said to the sun: You are under the command of Allah and I am under the command of Allah. O Allah, halt it for me for a while." So it was halted for him until Allah granted him victory. They gathered the booty that they had seized, and the fire came close to consume it, but it did not touch it. He said: "There is theft from the booty among you. Let one man from each tribe swear allegiance to me." They swore allegiance to him, and the hand of one man stuck to his hand. He said: "There is theft from the booty among you. Let your tribe swear allegiance to me." They swore allegiance to him, and the hands of two or three men stuck to his hand. He said: "There is theft from the booty among you; you have stolen from the booty." They brought forth to him gold equal to the size of a cow's head. They placed it with the wealth which was on the ground, then the fire came and consumed it. The booty was not permissible for anyone before us, but Allah (blessed and exalted is He) saw our weakness and vulnerability, so He permitted it to us.

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ ﷺکی احادیث میں سے ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انبیاء علیہ السلام میں سے ایک نبی نے جہاد کیا اور اپنی قوم سے انہوں نے فرمایا جس آدمی نے ابھی شادی کی ہو اور اس نے ابھی تک شب زفاف نہ گزاری ہو اور وہ یہ چاہتا ہو کہ اپنی بیوی کے ساتھ رات گزارے تو وہ آدمی میرے ساتھ نہ چلے اور نہ ہی وہ آدمی میرے ساتھ چلے کہ جس نے مکان بنایا ہو اور ابھی تک اس کی چھت نہ ڈالی ہو اور میرے ساتھ وہ بھی نہ جائے جس نے بکریاں اور گابھن اونٹیاں خریدی ہوں اور وہ ان کے بچہ جننے کا انتظار میں ہو راوی کہتے ہیں کہ اس نبی علیہ السلام نے جہاد کیا وہ عصر کی نماز یا اس کے قریب وقت میں ایک گاؤں کے قریب آئے تو انہوں نے سورج سے کہا تو بھی مامور ہے اور میں بھی مامور ہوں اے اللہ اس سورج کو کچھ دیر مجھ پر روک دے پھر سورج کو ان پر روک دیا گیا یہاں تک کہ اللہ نے ان کو فتح عطا فرمائی پھر انہوں نے غنیمت کا مال جمع فرمایا پھر اس مال غنیمت کو کھانے کے لئے آگ آئی تو اس آگ نے اسے کھانے سے انکار کر دیا یعنی نہ کھایا انہوں نے فرمایا کہ تم میں سے کسی نے اس کی خیانت کی ہے تو ہر قبیلہ کا ایک آدمی مجھ سے بیعت کرے پھر سب قبیلوں کے آدمیوں نے بیعت کی تو ایک شخص کا ہاتھ نبی کی ہاتھ کے ساتھ چپک گیا اللہ کے نبی علیہ السلام نے اس آدمی سے فرمایا اس مال میں خیانت کرنے والا آدمی تمہارے قبیلہ میں ہے تو اب پورا قبیلہ میرے ہاتھ پر بیعت کرے انہوں نے بیعت کی تو پھر دو یا تین آدمیوں کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چپک کیا تو اللہ کے نبی علیہ السلام نے فرمایا تم نے خیانت کی ہے پھر وہ گائے کے سر کے برابر سونا نکال کر لائے نبی نے فرمایا کہ تم اسے مال غنیمت میں اونچی جگہ میں رکھ دو تو آگ نے اسے قبول کیا اور کھا لیا آپ ﷺنے فرمایا ہم سے پہلے کسی کے لئے مال غنیمت حلال نہیں تھا اللہ تعالی نے ہماری کمزوری اور عاجزی دیکھی تو ہماری لئے مال غنیمت کو حلال فرما دیا۔

12. باب الأَنْفَالِ

وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَخَذَ أَبِى مِنَ الْخُمْسِ سَيْفًا فَأَتَى بِهِ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ هَبْ لِى هَذَا. فَأَبَى فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ( يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ)

It was narrated that Mus'ab bin Sa'd said: My father took something from the Khums and brought it to the Prophet (s.a.w) and said: Give me this, but he refused. Then Allah revealed (the words): "They ask you (O Muhammad (s.a.w)) about the spoils of war. Say: The spoils are for Allah and the Messenger" [Al-Anfal 8:1].

مصعب بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میرے والد نے خمس میں سے ایک تلوار نکالی اور اس کو لیکر نبی ﷺکے پاس آئے اور کہا : مجھے یہ تلوار ہبہ کردیجئے ،آپﷺنے اس سے انکار کردیا،اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی: آپ سے یہ لوگ مال غنیمت کے بارے میں پوچھتے ہیں ، آپ کہہ دیجئے کہ مال غنیمت اللہ اور اس کے رسول ﷺکے لیے ہیں۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ الْمُثَنَّى - قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ نَزَلَتْ فِىَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ أَصَبْتُ سَيْفًا فَأَتَى بِهِ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفِّلْنِيهِ. فَقَالَ « ضَعْهُ ». ثُمَّ قَامَ فَقَالَ لَهُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ ». ثُمَّ قَامَ فَقَالَ نَفِّلْنِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ « ضَعْهُ ». فَقَامَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفِّلْنِيهِ أَأُجْعَلُ كَمَنْ لاَ غَنَاءَ لَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- « ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهَ ». قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ (يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ قُلِ الأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ)

It was narrated from Mus'ab bin Sa'd that his father said: Four Verses were revealed concerning me: I acquired a sword (as booty) and brought it to the Prophet (s.a.w) and said: O Messenger of Allah, grant it to me (as my share of the booty). He said: "Put it down." Then he got up and said: O Messenger of Allah, grant it to me. The Prophet (s.a.w) said to him: "Put it back where you got it from." Then he stood up and said: Grant it to me, O Messenger of Allah. He said: "Put it down." He said: O Messenger of Allah, grant it to me. Shall I be treated like one who is of no use (in war)? The Prophet (s.a.w) said to him: "Put it back where you got it from." Then this Verse was revealed: "They ask you (O Muhammad (s.a.w)) about the spoils of war. Say: The spoils are for Allah and the Messenger" [Al-Anfal 8:1].

مصعب بن سعدکے والد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میرے متعلق چار آیتیں نازل ہوئیں ، ایک مرتبہ میں نے ایک تلوار پائی، میں اس کو لیکر نبیﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: یارسول اللہﷺ!یہ تلوار مجھے عنایت کیجئے ، آپﷺنے فرمایا: اس کو رکھ دو، پھر جب میں کھڑا ہوا تو آپﷺنے فرمایا: ا سکو وہیں رکھ دو جہاں سے اٹھائی تھی ، پھر میں کھڑا ہوا او رمیں نے کہا: یارسول اللہﷺ!یہ تلوار مجھے دے دیجئے ، آپﷺنے فرمایا: اس کو رکھ دو، میں نے پھر کھڑے ہوکر کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ!یہ مجھے دے دیں ! کیا میں ان لوگوں کی طرح کیا جاؤں گا جن کا اس کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ہے؟نبیﷺنے فرمایا: اس تلوار کو وہیں رکھ دو جہاں سے اس کو اٹھایا تھا، پھر یہ آیت نازل ہوئی : یہ لوگ آپﷺسے مال غنیمت کے متعلق پوچھتے ہیں ، آپ کہہ دیں مال غنیمت اللہ اور اس کے رسولﷺ کے لیے ہیں۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ بَعَثَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- سَرِيَّةً وَأَنَا فِيهِمْ قِبَلَ نَجْدٍ فَغَنِمُوا إِبِلاً كَثِيرَةً فَكَانَتْ سُهْمَانُهُمُ اثْنَى عَشَرَ بَعِيرًا أَوْ أَحَدَ عَشَرَ بَعِيرًا وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا.

It was narrated that Ibn 'Umar said: The Prophet (s.a.w) sent an expedition, of whom I was one, towards Najd, and they captured a large number of camels. Each share was eleven or twelve camels, and they were each given one extra camel.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے نجد کی جانب ایک سریہ بھیجا اور میں اس میں تھا، انہیں وہاں مال غنیمت میں بہت سارے اونٹ ملے ، ہر ایک کے حصہ میں بارہ بارہ یا گیارہ گیارہ اونٹ ملے ،اور ایک ایک اونٹ زائد ملا۔


وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَعَثَ سَرِيَّةً قِبَلَ نَجْدٍ وَفِيهِمُ ابْنُ عُمَرَ وَأَنَّ سُهْمَانَهُمْ بَلَغَتِ اثْنَىْ عَشَرَ بَعِيرًا وَنُفِّلُوا سِوَى ذَلِكَ بَعِيرًا فَلَمْ يُغَيِّرْهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.

It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) sent an expedition towards Najd, among whom was Ibn 'Umar, and each share was twelve camels, and they were each given one camel apart from that, and the Messenger of Allah (s.a.w) did not make any change in that.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے نجد کی جانب ایک سریہ بھیجا اور اس میں ابن عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے، اس میں ان کے حصہ میں بارہ بارہ اونٹ آئے او راس کے علاوہ ایک ایک اونٹ زائد ملا۔رسول اللہﷺنے اس تقسیم میں کوئی تغیر و تبدل نہیں کیا۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سَرِيَّةً إِلَى نَجْدٍ فَخَرَجْتُ فِيهَا فَأَصَبْنَا إِبِلاً وَغَنَمًا فَبَلَغَتْ سُهْمَانُنَا اثْنَىْ عَشَرَ بَعِيرًا وَنَفَّلَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَعِيرًا بَعِيرًا.

It was narrated that Ibn 'Umar said: The Messenger of Allah (s.a.w) sent an expedition towards Najd, and I went out with them. We acquired camels and sheep (as war booty), and the share of each of us was twelve camels, and the Messenger of Allah (s.a.w) granted each of us an extra camel.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے نجد کی طرف ایک لشکر روانہ کیا ، میں بھی اس میں شامل تھا، وہاں ہم کو بہت سے اونٹ اور بکریاں ملیں ، ہماے حصے میں بارہ بارہ اونٹ آئے اور رسول اللہﷺنے ہمیں ایک ایک اونٹ زائد دیا۔


وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالاَ حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ الْقَطَّانُ - عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الإِسْنَادِ.

It was narrated from 'Ubaidullah with this chain.

یہ حدیث ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عَدِىٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ كَتَبْتُ إِلَى نَافِعٍ أَسْأَلُهُ عَنِ النَّفَلِ فَكَتَبَ إِلَىَّ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ فِى سَرِيَّةٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى مُوسَى ح وَحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.

(a similar Hadith) It was narrated that Ibn 'Awn said: I wrote to Nafi', asking him about the spoils of war. He wrote back to me (saying): Ibn 'Umar was among an expedition... (a Hadith similar to no. 4560) A Hadith like theirs was narrated from Nafi', with this chain.

امام مسلم رحمہ اللہ نے اس حدیث کی تین اور سندیں بیان کی ہیں۔


وَحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ - وَاللَّفْظُ لِسُرَيْجٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ نَفَّلَنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَفَلاً سِوَى نَصِيبِنَا مِنَ الْخُمْسِ فَأَصَابَنِى شَارِفٌ وَالشَّارِفُ الْمُسِنُّ الْكَبِيرُ.

It was narrated from Salim that his father said: The Messenger of Allah (s.a.w) granted us something in addition to our share of the Khums, and he gave me a big old camel.

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مال غنیمت کے خمس میں سے جو ہمارا حصہ نکلتا تھا ، اس کے علاوہ بھی رسول اللہﷺنے ہمیں مال عطا فرمایا، میرے حصہ میں ایک شارف آیا ، اور شارف بڑی عمر کا اونٹ ہوتا ہے۔


وَحَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِىِّ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ ح وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ كِلاَهُمَا عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ بَلَغَنِى عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سَرِيَّةً بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ رَجَاءٍ.

It was narrated that Ibn 'Umar said: The Messenger of Allah (s.a.w) gave the troops a share of the spoils... a Hadith like that of Ibn Raja' (no. 4563).

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے ایک لشکر کومال غنیمت دیا ، باقی حدیث ابن رجاء کی حدیث کی طرح ہے (یعنی مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے)


وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ جَدِّى قَالَ حَدَّثَنِى عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَدْ كَانَ يُنَفِّلُ بَعْضَ مَنْ يَبْعَثُ مِنَ السَّرَايَا لأَنْفُسِهِمْ خَاصَّةً سِوَى قَسْمِ عَامَّةِ الْجَيْشِ وَالْخُمْسُ فِى ذَلِكَ وَاجِبٌ كُلِّهِ.

It was narrated from 'Abdullah that the Messenger of Allah (s.a.w) gave something extra to some of those who had been on an expedition, apart from the shares that they were given like the rest of the army, and the Khums was due on the full amount (of booty).

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺلشکر کے بعض مجاہدین کو مال غنیمت میں سے ان کے حصہ کے علاوہ خصوصیت کے ساتھ کچھ عنایت فرماتے تھے ، اور پورے لشکر کے لیے خمس واجب تھا۔

13. باب اسْتِحْقَاقِ الْقَاتِلِ سَلَبَ الْقَتِيلِ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِىُّ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ عَنْ أَبِى مُحَمَّدٍ الأَنْصَارِىِّ وَكَانَ جَلِيسًا لأَبِى قَتَادَةَ قَالَ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ. وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ.

It was narrated that Abu Muhammad Al-Ansari, who was a companion of Abu Qatadah, said: Abu Qatadah said... and he narrated the same Hadith as no. 4568).

ابو محمد انصاری جو حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کے ساتھی تھے ، انہوں نے کہا: کہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اورحدیت بیان کی ۔


وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ أَبِى مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِى قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ قَالَ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ.

It was narrated from Abu Muhammad, the freed slave of Abu Qatadah, that Abu Qatadah said .. and he quoted the Hadith (as no. 4568).

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے حدیت بیان کی ۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ - وَاللَّفْظُ لَهُ - أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ يَقُولُ حَدَّثَنِى يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ عَنْ أَبِى مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِى قَتَادَةَ عَنْ أَبِى قَتَادَةَ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَامَ حُنَيْنٍ فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ. قَالَ فَرَأَيْتُ رَجُلاً مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلاَ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِينَ فَاسْتَدَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ فَضَرَبْتُهُ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ وَأَقْبَلَ عَلَىَّ فَضَمَّنِى ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِى فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ مَا لِلنَّاسِ فَقُلْتُ أَمْرُ اللَّهِ. ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. فَقَالَ « مَنْ قَتَلَ قَتِيلاً لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ ». قَالَ فَقُمْتُ فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِى ثُمَّ جَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ فَقَالَ فَقُمْتُ فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِى ثُمَّ جَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ الثَّالِثَةَ فَقُمْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ ». فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَلَبُ ذَلِكَ الْقَتِيلِ عِنْدِى فَأَرْضِهِ مِنْ حَقِّهِ. وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ لاَهَا اللَّهِ إِذًا لاَ يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسُدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ وَعَنْ رَسُولِهِ فَيُعْطِيكَ سَلَبَهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « صَدَقَ فَأَعْطِهِ إِيَّاهُ ». فَأَعْطَانِى قَالَ فَبِعْتُ الدِّرْعَ فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِى بَنِى سَلِمَةَ فَإِنَّهُ لأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِى الإِسْلاَمِ. وَفِى حَدِيثِ اللَّيْثِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ كَلاَّ لاَ يُعْطِيهِ أُضَيْبِعَ مِنْ قُرَيْشٍ وَيَدَعُ أَسَدًا مِنْ أُسُدِ اللَّهِ. وَفِى حَدِيثِ اللَّيْثِ لأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ.

It was narrated that Abu Qatadah said: We set out with the Messenger of Allah (s.a.w) in the year of (the battle of) Hunain, and when we met (the enemy), the Muslims fell into a state of confusion. I saw that one of the Mushrik men had overpowered one of the Muslim men, so I crept up on him from behind and struck him between his neck and shoulders. He turned around and he grabbed me in such a way that I thought I was about to die, then he died. I joined 'Umar bin Al-Khattab and he said: What is the matter with the people? I said: It is the decree of Allah. Then the people came back, and the Messenger of Allah (s.a.w) sat down and said: "Whoever killed someone has to bring his proof, then he may take his belongings." I stood up and said: Who will bear witness for me? Then I sat down. Then he (s.a.w) said likewise, and I stood up and said: Who will bear witness for me? Then I sat down. Then he (s.a.w) said that a third time and I stood up again. The Messenger of Allah (s.a.w) said: "What is the matter with you, O Abu Qatadah?" I told him the story and a man who was there said: He has spoken the truth, O Messenger of Allah. The belongings of that dead man are with me; persuade him to give up his right. Abu Bakr As-Siddiq said: No, by Allah, you should not expect one of the lions of Allah who fought for Allah and His Messenger to give up his booty to you. The Messenger of Allah (s.a.w) said: "He is right; give it to him." So he gave it to me. I sold the shield and bought a garden in Banu Salimah, and that was the first property I acquired in Islam. According to the Hadith of Al-Laith: Abu Bakr said: No, he will not give it to a little hyena from Quraish and ignore one of the lions of Allah.

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم غزہ حنین میں رسول اللہﷺکے ہمراہ نکلے ، جب مقابلہ ہوا تو مسلمانوں نے ایک بار بھاگنے کے بعد پھر حملہ کیا ، میں نے دیکھا کہ ایک مشرک ایک مسلمان پر چھایا ہوا ہے ، میں گھوم کر اس کے پیچھے گیا اور اس کے شانہ پر تلوار ماری وہ میری طرف مڑا اور مجھ کو پکڑ کر اس طرح دبوچا کہ مجھے موت نظر آنے لگی ، پھر اس کو موت نے آلیا اور اس نے مجھے چھوڑ دیا۔میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ،انہوں نے کہا: لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ؟ میں نے کہا: اللہ کا حکم ہے ، پھر لوگ پلٹ آئے اور رسول اللہ ﷺبیٹھ گئے،آپﷺنے فرمایا: جس آدمی نے کسی شخص کو قتل کیا اور اس پر کوئی گواہ ہو تو اس مقتول سے چھینا ہوا مال اس قاتل کو ملےگا۔حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں کھڑا ہوا اور میں نے کہا: میرا کون گواہ ہے ؟ پھر آپﷺ نے اسی طرح فرمایا : میں نے پھر کھڑے ہوکر کہا: میرا کون گواہ ہے ؟پھر میں بیٹھ گیا ، آپﷺنے تیسری مرتبہ فرمایا: میں پھر کھڑا ہوا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: اے ابو قتادہ ! کیا بات ہے ؟ میں نے آپﷺسے واقعہ بیان کیا ، قوم میں سے ایک آدمی نےکہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ سچ کہہ رہا ہے اس مقتول کا سامان میرے پاس ہے اب آپ اس کو راضی کردیں تو یہ اپنے حق سے دستبردار ہوجائے ۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! ہرگز نہیں ، ایک اللہ کا شیر اللہ اور اس کے رسول ﷺکی طرف سے لڑے اور وہ اپنا سلب تمہیں دے دے، ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا، رسول اللہﷺنے فرمایا: ابو بکر نے سچ کہا، تم وہ مال ان کو دے دو، سو اس نے وہ مال مجھے دے دیا ، میں نے وہ زرہ بیچ دی اور اس کی قیمت سے بنوسلمہ کے محلہ میں ایک باغ خرید لیا۔یہ سب سے پہلا مال تھا جس کو میں نے اسلام میں حاصل کیا ،لیث کی روایت میں ہے کہ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے کہا: یہ نہیں ہوگا کہ آپﷺقریش کی ایک لومڑی کویہ مال دیں اور اللہ کے شیروں میں ایک شیر کو چھوڑ دیں۔اور لیث کی روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ پہلا مال تھا جس کو میں نے حاصل کیا۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِىُّ أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ قَالَ بَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ فِى الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ نَظَرْتُ عَنْ يَمِينِى وَشِمَالِى فَإِذَا أَنَا بَيْنَ غُلاَمَيْنِ مِنَ الأَنْصَارِ حَدِيثَةٍ أَسْنَانُهُمَا تَمَنَّيْتُ لَوْ كُنْتُ بَيْنَ أَضْلَعَ مِنْهُمَا فَغَمَزَنِى أَحَدُهُمَا. فَقَالَ يَا عَمِّ هَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَهْلٍ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ وَمَا حَاجَتُكَ إِلَيْهِ يَا ابْنَ أَخِى قَالَ أُخْبِرْتُ أَنَّهُ يَسُبُّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَالَّذِى نَفْسِى بِيَدِهِ لَئِنْ رَأَيْتُهُ لاَ يُفَارِقُ سَوَادِى سَوَادَهُ حَتَّى يَمُوتَ الأَعْجَلُ مِنَّا. قَالَ فَتَعَجَّبْتُ لِذَلِكَ فَغَمَزَنِى الآخَرُ فَقَالَ مِثْلَهَا - قَالَ - فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ نَظَرْتُ إِلَى أَبِى جَهْلٍ يَزُولُ فِى النَّاسِ فَقُلْتُ أَلاَ تَرَيَانِ هَذَا صَاحِبُكُمَا الَّذِى تَسْأَلاَنِ عَنْهُ قَالَ فَابْتَدَرَاهُ فَضَرَبَاهُ بِسَيْفَيْهِمَا حَتَّى قَتَلاَهُ ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَخْبَرَاهُ. فَقَالَ « أَيُّكُمَا قَتَلَهُ ». فَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَا قَتَلْتُ. فَقَالَ « هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَيْكُمَا ». قَالاَ لاَ. فَنَظَرَ فِى السَّيْفَيْنِ فَقَالَ « كِلاَكُمَا قَتَلَهُ ». وَقَضَى بِسَلَبِهِ لِمُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ وَالرَّجُلاَنِ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ وَمُعَاذُ ابْنُ عَفْرَاءَ.

It was narrated that 'Abdur-Rahman bin 'Awf said: Whilst I was standing in the ranks on the Day of Badr, I looked to my right and my left, and I saw that I was between two boys of the Ansar who were very young. I wished that I was standing between two who were stronger than them. One of them gestured to me and said: O uncle, do you know Abu Jahl? I said: Yes; what do you want with him, O son of my brother? He said: I have been told that he reviles the Messenger of Allah (s.a.w). By the One in Whose Hand is my soul, if I see him I will not leave him until the one of us who is destined to die first is dead. I was impressed by that. Then the other one gestured to me and said something similar. It was not long before I saw Abu Jahl moving about among the people. I said (to the boys): Do you not see? This is your companion about whom you were asking. They hastened towards him and struck him with their swords until they killed him. Then they went to the Messenger of Allah (s.a.w) and told him. He (s.a.w) said: "Which of you killed him?" Each of them said: I killed him. He said: "Have you wiped your swords yet?" They said: No. So he (s.a.w) looked at their swords then he said: "Both of you killed him." And he gave his (Abu Jahl's) belongings to Mu'adh bin 'Arm bin Al-Jamuh. The two men were Mu'adh bin 'Amr bin Al-Jamuh and Mu'adh bin 'Afra'.

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے دن میں صف میں کھڑا تھا میں اپنے دائیں اور بائیں کیا دیکھتا ہوں کہ انصار کے دو نوجوان لڑکے کھڑے ہیں میں نے گمان کیا کہ کاش کہ میں طاقتور آدمیوں کے درمیان کھڑا ہوتا تو زیادہ بہتر تھا اسی دوران ان میں سے ایک لڑکے نے میری طرف اشارہ کر کے کہا اے چچا جان! کیا آپ ابوجہل کو جانتے ہیں میں نے کہا ہاں اور اے بھیجتے تجھے اس سے کیا کام اس نے کہا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺکو گالیاں دیتا ہے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں اس کو دیکھ لوں میرا جسم اس کے جسم سے علیحدہ نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ وہ مر جائے حضرت عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ مجھے اس کی بات سے تعجب ہوا اسی دوران میں دوسرے لڑکے نے مجھے اشارہ کر کے اسی طرح کہا حضرت عبدالرحمن نے کہا کہ ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ میری نظر ابوجہل کی طرف پڑی وہ لوگوں میں گھوم رہا تھا میں نے ان لڑکوں سے کہا کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ یہ وہی ابوجہل ہے جس کے بارے میں تم مجھ سے پوچھ رہے تھے وہ فورا اس کی طرف جھپٹے اور تلواریں مار مار کر اسے قتل کر ڈالا پھر وہ دونوں لڑکے رسول اللہ ﷺکی طرف لوٹے اور آپ ﷺکو اس کی خبر دی تو آپ ﷺنے فرمایا کیا تم دونوں نے اپنی اپنی تلوار سے اس کا خون صاف کر دیا ہے انہوں نے کہا نہیں آپ ﷺنے دونوں کی تلواروں کو دیکھا تو آپ ﷺنے فرمایا تم دونوں نے ابوجہل کو قتل کیا ہے اور آپ ﷺنے حضرت معاذ بن عمرو بن جموع کو ابوجہل سے چھینا ہوا مال ان دونوں لڑکوں معاذ بن عمرو بن جموع اور معاذ بن عفراء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دینے کا حکم فرمایا۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ حِمْيَرَ رَجُلاً مِنَ الْعَدُوِّ فَأَرَادَ سَلَبَهُ فَمَنَعَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَكَانَ وَالِيًا عَلَيْهِمْ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ لِخَالِدٍ « مَا مَنَعَكَ أَنْ تُعْطِيَهُ سَلَبَهُ ». قَالَ اسْتَكْثَرْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ « ادْفَعْهُ إِلَيْهِ ». فَمَرَّ خَالِدٌ بِعَوْفٍ فَجَرَّ بِرِدَائِهِ ثُمَّ قَالَ هَلْ أَنْجَزْتُ لَكَ مَا ذَكَرْتُ لَكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَاسْتُغْضِبَ فَقَالَ « لاَ تُعْطِهِ يَا خَالِدُ لاَ تُعْطِهِ يَا خَالِدُ هَلْ أَنْتُمْ تَارِكُونَ لِى أُمَرَائِى إِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُهُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتُرْعِىَ إِبِلاً أَوْ غَنَمًا فَرَعَاهَا ثُمَّ تَحَيَّنَ سَقْيَهَا فَأَوْرَدَهَا حَوْضًا فَشَرَعَتْ فِيهِ فَشَرِبَتْ صَفْوَهُ وَتَرَكَتْ كَدَرَهُ فَصَفْوُهُ لَكُمْ وَكَدَرُهُ عَلَيْهِمْ ».

It was narrated that 'Awf bin Malik said: A man from Himyar killed a man of the enemy, and wanted to take his belongings, but Khalid bin AI-Walid, who was their commander, did not let him. 'Awf bin Malik went to the Messenger of Allah (s.a.w) and told him, and he said to Khalid: "What prevented you from giving his belongings to him?" He said: Because I thought that that was too much for him to take, O Messenger of Allah. He said: "Give it to him." 'Awf pulled on Khalid's cloak (as a rebuke), then he said: Didn't I tell you that I was going to go to the Messenger of Allah (s.a.w)? The Messenger of Allah (s.a.w) heard him and became angry, and said: "Do not give him anything, O Khalid! Do not give him anything, O Khalid! Won't you leave my commanders alone? The likeness of you and them is that of a man who takes camels and sheep out for grazing, and he grazes them, then when the time comes to water them, he brings them to the tank and they start to drink, and they drink the clear water and leave the stagnant water. The clear water is for you and the stagnant water is for them."

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ حمیر کے ایک آدمی نے دشمنوں کے ایک آدمی کو قتل کر دیا اور جب اس نے اس کا سامان لینے کا ارادہ کیا تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سامان کو روک لیا ، کیونکہ وہ لشکر کے امیر تھے ، حضرت عوف بن مالک نے رسو ل اللہﷺکی خدمت میں جاکر ان کی شکایت کی ، رسول اللہﷺنے حضرت خالد سے فرمایا: تم نے اس کو وہ سلب کیوں نہیں دیا؟ انہوں نے کہا: یارسو ل اللہ ﷺ!میں نے اس سلب کو بہت زیادہ سمجھا، آپﷺنے فرمایا: وہ سلب اس کو دے دو، پھر حضرت خالد رضی اللہ عنہ ، حضرت عوف کے پاس سے گزرے تو انہوں نے خالد کی چادر کھینچی اور کہا: کہ میں نے تم سے جو کچھ کہا تھا، کیا میں نے رسو ل اللہﷺسے وہی پورا نہیں کرالیا؟ رسول اللہﷺنے یہ سن لیا، آپﷺناراض ہوئے اور فرمایا: اے خالد!اب اس کو مت دینا، اے خالد! اب اس کو مت دینا، کیا تم میرے مقرر کردہ امیروں (کی اطاعت ) کو چھوڑنے والے ہو؟ تمہاری اور ان کی مثال ایسی ہے جیسے کسی آدمی نے اونٹ یا بکریاں چرانے کے لئے لیں ، پھر ان کو چرایا، پھر ان جانوروں کے پانی پینے کا وقت دیکھ کر ان کو حوض پر لایا ،انہوں نے صاف صاف پانی پی لیا اور تلچھٹ چھوڑ دیا ، تو کیا صاف چیزیں تمہارے لیے ہیں اور تلچھٹ امیروں کے لیے ہیں؟


وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الأَشْجَعِىِّ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ مَنْ خَرَجَ مَعَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ فِى غَزْوَةِ مُؤْتَةَ وَرَافَقَنِى مَدَدِىٌّ مِنَ الْيَمَنِ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. بِنَحْوِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فِى الْحَدِيثِ قَالَ عَوْفٌ فَقُلْتُ يَا خَالِدُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَضَى بِالسَّلَبِ لِلْقَاتِلِ قَالَ بَلَى وَلَكِنِّى اسْتَكْثَرْتُهُ.

It was narrated that 'Awf bin Malik Al-Ashja'i said: I went out among those who went out with Zaid bin Harithah, on the campaign of Mu'tah, and I was traveling with one of those who had come as reinforcements from Yemen... and he quoted a similar Hadith (as no. 4570) from the Prophet (s.a.w), except that he said: 'Awf said: I said: O Khalid, do you not know that the Messenger of Allah (s.a.w) has ruled that the belongings are for the killer? He said: Yes, but I thought it was too much.

حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو لوگ حضرت زید بن حارثہ کے ساتھ غزوہ مؤتہ میں گئے تھے ، ان کے ساتھ میں بھی گیا تھا اور یمن سے بھی مجھ کو مدد پہنچی ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے،البتہ اس حدیث میں یہ ہے کہ حضرت عوف نے کہا: اے خالد!آپ کو معلوم نہیں ہے کہ رسول اللہﷺنے قاتل کو سلب دلوایا ہے ؟ حضرت خالد نے کہا: کیوں نہیں ، میرے خیال میں یہ زیادہ ہے۔


حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِىُّ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنِى إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنِى أَبِى سَلَمَةُ بْنُ الأَكْوَعِ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- هَوَازِنَ فَبَيْنَا نَحْنُ نَتَضَحَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ فَأَنَاخَهُ ثُمَّ انْتَزَعَ طَلَقًا مِنْ حَقَبِهِ فَقَيَّدَ بِهِ الْجَمَلَ ثُمَّ تَقَدَّمَ يَتَغَدَّى مَعَ الْقَوْمِ وَجَعَلَ يَنْظُرُ وَفِينَا ضَعْفَةٌ وَرِقَّةٌ فِى الظَّهْرِ وَبَعْضُنَا مُشَاةٌ إِذْ خَرَجَ يَشْتَدُّ فَأَتَى جَمَلَهُ فَأَطْلَقَ قَيْدَهُ ثُمَّ أَنَاخَهُ وَقَعَدَ عَلَيْهِ فَأَثَارَهُ فَاشْتَدَّ بِهِ الْجَمَلُ فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ عَلَى نَاقَةٍ وَرْقَاءَ. قَالَ سَلَمَةُ وَخَرَجْتُ أَشْتَدُّ فَكُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ النَّاقَةِ. ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى كُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ الْجَمَلِ ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ فَأَنَخْتُهُ فَلَمَّا وَضَعَ رُكْبَتَهُ فِى الأَرْضِ اخْتَرَطْتُ سَيْفِى فَضَرَبْتُ رَأْسَ الرَّجُلِ فَنَدَرَ ثُمَّ جِئْتُ بِالْجَمَلِ أَقُودُهُ عَلَيْهِ رَحْلُهُ وَسِلاَحُهُ فَاسْتَقْبَلَنِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَالنَّاسُ مَعَهُ فَقَالَ « مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ ». قَالُوا ابْنُ الأَكْوَعِ. قَالَ « لَهُ سَلَبُهُ أَجْمَعُ ».

Abu Salamah bin Al-Akwa' said: We went out on the campaign to Hawazin with the Messenger of Allah (s.a.w). Whilst we were having lunch with the Messenger of Allah (s.a.w), a man came on a red camel and made it kneel, then he took a piece of leather from his belt and tied the camel with it, then he came and ate with the people, and he started looking around. Among us were those who were weak and had no mounts, and some of us were on foot. Then he rushed out, went to his camel, untethered it, made it kneel and sat on it, then he urged it and the camel took off with him. Another man followed him on a brown she-camel. Salamah said: I went out running, and I was by the haunch of the she-camel, then I went ahead until I was by the haunch of the (other) camel, then I went ahead until I grabbed hold of the camel's reins and made it kneel down. When it placed its knees on the ground I drew my sword and struck the man's head, and he fell down. Then I brought the camel, driving it, and his luggage and weapons were on it. The Messenger of Allah (s.a.w) and the people met me, and he said: "Who killed the man?" They said: Ibn Al-Akwa'. He said: "All his (the slain man's) belongings are his."

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہﷺکے ہمراہ قبیلہ ہوازن کے خلاف جہاد کے لیے نکلے ، ہم رسول اللہ کے ساتھ صبح کا ناشتہ کررہےتھے ، اتنے میں سرخ اونٹ پر سوار ایک آدمی آیا ، اس نے اونٹ کو بٹھایا، پھر اس نے اپنی کمر سے ایک تسمہ نکال کر اس کے ساتھ اونٹ کو باندھ دیا او رلوگوں کے ساتھ ناشتہ کرنے لگا، اور ادھر ادھر دیکھنے لگا ، ہم میں کچھ لوگ کمزور تھے ، کچھ سواریوں سے خالی تھے ،اور کچھ پیدل تھے ، اتنے میں وہ تیزی سے دوڑا اور اپنےاونٹ کے پاس آیا ، اس کا تسمہ کھول کر اس کو بٹھایا اور اس پر سوار ہوگیا ، اس نے اونٹ کو دوڑایا اور اونٹ اس کو لیکر دوڑا، ایک آدمی نے خاکی رنگ کی اونٹنی پر اس کا تعاقب کیا ،حضرت سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں بھی اس کے پیچھے دوڑتا ہوا بھاگا ، پہلے میں اونٹنی کی سرین کے پاس تھا، پھر میں اور آگے بڑھا یہاں تک کہ اونٹ کی سیرین کے پاس تھا، پھر میں اور آگے بڑھا ،یہاں تک کہ اونٹ کی سیرین کے پاس پہنچ گیا ، پھر میں نے نے آگے بڑھ کر اونٹ کی نکیل پکڑلی۔ میں نے اس اونٹ کو بٹھایا ، جونہی اس اونٹ نے اپنا گھٹنا زمین پر ٹپکا، میں نے تلوار سے آدمی کے سر پر مارا، وہ گر پڑا، پھر میں اس آدمی کے ہتھیا ر اور کجاوے سمیت اس اونٹ کو لیکر آیا،رسول اللہﷺاور صحابہ مجھے سامنے سےآتے ہوئے ملے ، آپﷺنے فرمایا: اس آدمی کو کس نے قتل کیا؟ لوگوں نے کہا:سلمہ بن اکوع نے ، آپﷺنے فرمایا: اس کا سارا سلب سلمہ بن اکوع کا ہے۔

14. بابُ التَّنْفِيلِ وَفِدَاءِ الْمُسْلِمِينَ بِالأَسَارَى

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنِى إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنِى أَبِى قَالَ غَزَوْنَا فَزَارَةَ وَعَلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ أَمَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَيْنَا فَلَمَّا كَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمَاءِ سَاعَةٌ أَمَرَنَا أَبُو بَكْرٍ فَعَرَّسْنَا ثُمَّ شَنَّ الْغَارَةَ فَوَرَدَ الْمَاءَ فَقَتَلَ مَنْ قَتَلَ عَلَيْهِ وَسَبَى وَأَنْظُرُ إِلَى عُنُقٍ مِنَ النَّاسِ فِيهِمُ الذَّرَارِىُّ فَخَشِيتُ أَنْ يَسْبِقُونِى إِلَى الْجَبَلِ فَرَمَيْتُ بِسَهْمٍ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْجَبَلِ فَلَمَّا رَأَوُا السَّهْمَ وَقَفُوا فَجِئْتُ بِهِمْ أَسُوقُهُمْ وَفِيهِمُ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِى فَزَارَةَ عَلَيْهَا قِشْعٌ مِنْ أَدَمٍ - قَالَ الْقِشْعُ النِّطَعُ - مَعَهَا ابْنَةٌ لَهَا مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ فَسُقْتُهُمْ حَتَّى أَتَيْتُ بِهِمْ أَبَا بَكْرٍ فَنَفَّلَنِى أَبُو بَكْرٍ ابْنَتَهَا فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا فَلَقِيَنِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى السُّوقِ فَقَالَ « يَا سَلَمَةُ هَبْ لِى الْمَرْأَةَ ». فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِى وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا ثُمَّ لَقِيَنِى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنَ الْغَدِ فِى السُّوقِ فَقَالَ لِى « يَا سَلَمَةُ هَبْ لِى الْمَرْأَةَ لِلَّهِ أَبُوكَ ». فَقُلْتُ هِىَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَوَاللَّهِ مَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا فَبَعَثَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ فَفَدَى بِهَا نَاسًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا أُسِرُوا بِمَكَّةَ.

Iyas bin Salamah said: My father told me: We attacked Fazarah, and Abu Bakr was in charge of us; the Messenger of Allah (s.a.w) had appointed him in command of us. When there was an hour between us and the water, Abu Bakr told us to make a stop at the end of the night. Then led us in a raid and we reached the water, and we killed some of them and took some of them as prisoners. I looked at a group of people, among whom were children, and I was afraid that they would reach the mountain before me, so I shot an arrow between them and the mountain, and when they saw the arrow, they stopped, then I brought them, driving them along. Among them was a woman of Banu Fazarah who was wearing a leather coat, and with her was her daughter who was one of the most beautiful of the Arabs. I brought them to Abu Bakr, and Abu Bakr gave me her daughter as a prize. We came to Al-Madinah and I had not yet come close to her, and the Messenger of Allah (s.a.w) met me in the marketplace and said: "O Salamah, give that woman to me." I said: O Messenger of Allah, I like her but I have not yet come close to her. Then the Messenger of Allah (s.a.w) met me in the marketplace the next day and said to me: "O Salamah, give me that woman, may Allah bless your father." I said: She is yours, O Messenger of Allah. By Allah, I have not yet come close to her. The Messenger of Allah (s.a.w) sent her to the people of Makkah, and thus ransomed some Muslims who had been held captive in Makkah.

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے قبیلہ فزارہ کے ساتھ جہاد کیا ، اس جہاد میں رسول اللہﷺ نے حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کو ہمارا امیر بنایا تھا، جب ہمارے اور پانی کے درمیان کچھ دیر کی مسافت رہ گئی، تو حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم رات کے آخری حصہ میں اترے ، پھر ہر طرف سے حملہ کا حکم دیا ،اور ان کے پانی پر پہنچے اور اس جگہ جس کو قتل کرنا تھا اس کو قتل کردیا، اور قید کیا ، میں کفار کے ایک حصہ کی طرف دیکھ رہا تھا کہ جس میں کافروں کے بچے اور عورتیں تھیں مجھے ڈر لگا کہ کہیں وہ مجھ سے پہلے ہی پہاڑ تک نہ پہنچ جائیں تو میں نے ان کے اور پہاڑ کے درمیان ایک تیر پھینکا جب انہوں نے تیر دیکھا تو سب ٹھہر گئے میں ان سب کو گھیر کر لے آیا ان لوگوں میں قبیلہ فزارہ کی عورت تھی جو چمڑے کے کپڑے پہنے ہوئے تھی اور اس کے ساتھ عرب کی حسین ترین ایک لڑکی تھی میں ان سب کو لے کر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آگیا حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ لڑکی انعام کے طور پر مجھے عنایت فرما دی جب ہم مدینہ منورہ آگئے اور میں نے ابھی تک اس لڑکی کا کپڑا نہیں کھولا تھا کہ بازار میں رسول اللہ ﷺسے میری ملاقات ہوگئی تو آپ ﷺنے فرمایا: اے سلمہ یہ لڑکی مجھے دے دو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اللہ کی قسم یہ لڑکی مجھے بڑی اچھی لگی ہے اور میں نے اس کا ابھی تک کپڑا نہیں کھولا پھر اگلے دن میری ملاقات رسول اللہ ﷺسے بازار میں دوبارہ ہوگئی تو آپ نے فرمایا: اے سلمہ! وہ لڑکی مجھے دے دو تیرا باپ بہت اچھا تھا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسولﷺ! وہ لڑکی آپ ﷺکے لئے ہے اور اللہ کی قسم میں نے تو ابھی اس کا کپڑا تک نہیں کھولا۔ پھر رسول اللہ ﷺنے وہ لڑکی مکہ والوں کو بھیج دی اور اس کے بدلہ میں بہت سے مسلمانوں کو چھڑایا جو کہ مکہ میں قید کر دیے گئے تھے۔

15. باب حُكْمِ الْفَيْءِ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَيُّمَا قَرْيَةٍ أَتَيْتُمُوهَا وَأَقَمْتُمْ فِيهَا فَسَهْمُكُمْ فِيهَا وَأَيُّمَا قَرْيَةٍ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ خُمُسَهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ثُمَّ هِىَ لَكُمْ ».

It was narrated that Hammam bin Munabbih said: This is what Abu Hurairah narrated to us from Muhammad, the Messenger of Allah (s.a.w), and he mentioned a number of Ahadith, including the following: The Messenger of Allah (s.a.w) said: "If you come to a town (and take it peacefully) and stay there, then you have your share in it, but any town that disobeys Allah and His Messenger (and is seized by force), one fifth of it is for Allah and His Messenger (s.a.w) then the rest is for you."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: تم جس بستی میں جاؤ اور وہاں قیام کرلو، تو تمہارا حصہ اس بستی میں ہوگا، جو بستی اللہ اور اس کے رسول ﷺکی نافرمانی کرے (یعنی اس نے مسلمانوں سے جنگ کی ) تو اس کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول کا ہے اور باقی تمہارا ہے۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ أَبِى شَيْبَةَ - قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ عُمَرَ قَالَ كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِى النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِمَّا لَمْ يُوجِفْ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ بِخَيْلٍ وَلاَ رِكَابٍ فَكَانَتْ لِلنَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- خَاصَّةً فَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَةٍ وَمَا بَقِىَ يَجْعَلُهُ فِى الْكُرَاعِ وَالسِّلاَحِ عُدَّةً فِى سَبِيلِ اللَّهِ.

It was narrated that 'Umar said: The wealth of Banu An-Nadir was among the Fai' that Allah granted to His Messenger (s.a.w), where the Muslims did not undertake any expedition with their cavalry or camelry. It was only for the Prophet (s.a.w), and he used to spend it on the annual expenditure of his family, and whatever was left he spent on animals (for fighting) and weapons, in preparation for (Jihad) for the sake of Allah.

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو نضیر کے اموال ان اموال میں سے تھے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ پرلوٹادیے تھے ،مسلمانوں نے ان کے حصول کے لیے نہ گھوڑے دوڑائے تھے اور نہ ہی اونٹ ، یہ اموال بالخصوص نبیﷺکے تصرف میں تھے ، آپ ﷺان اموال میں سے اپنے اہل کے لیے ایک سال کا خرچ نکال لیتے تھے ، او رجو مال باقی بچتا اس کو جہاد کی سواریوں اور ہتھیاریوں کی تیاری پر خرچ کرتے تھے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ.

It was narrated from Az-Zuhri with this chain.

یہ حدیث ایک اورسند سے اسی طرح مروی ہے۔


وَحَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ الضُّبَعِىُّ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ مَالِكٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ أَنَّ مَالِكَ بْنَ أَوْسٍ حَدَّثَهُ قَالَ أَرْسَلَ إِلَىَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَجِئْتُهُ حِينَ تَعَالَى النَّهَارُ - قَالَ - فَوَجَدْتُهُ فِى بَيْتِهِ جَالِسًا عَلَى سَرِيرٍ مُفْضِيًا إِلَى رِمَالِهِ مُتَّكِئًا عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ. فَقَالَ لِى يَا مَالُ إِنَّهُ قَدْ دَفَّ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ قَوْمِكَ وَقَدْ أَمَرْتُ فِيهِمْ بِرَضْخٍ فَخُذْهُ فَاقْسِمْهُ بَيْنَهُمْ - قَالَ - قُلْتُ لَوْ أَمَرْتَ بِهَذَا غَيْرِى قَالَ خُذْهُ يَا مَالُ. قَالَ فَجَاءَ يَرْفَا فَقَالَ هَلْ لَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فِى عُثْمَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدٍ فَقَالَ عُمَرُ نَعَمْ. فَأَذِنَ لَهُمْ فَدَخَلُوا ثُمَّ جَاءَ. فَقَالَ هَلْ لَكَ فِى عَبَّاسٍ وَعَلِىٍّ قَالَ نَعَمْ. فَأَذِنَ لَهُمَا فَقَالَ عَبَّاسٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اقْضِ بَيْنِى وَبَيْنَ هَذَا الْكَاذِبِ الآثِمِ الْغَادِرِ الْخَائِنِ. فَقَالَ الْقَوْمُ أَجَلْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَاقْضِ بَيْنَهُمْ وَأَرِحْهُمْ. فَقَالَ مَالِكُ بْنُ أَوْسٍ يُخَيَّلُ إِلَىَّ أَنَّهُمْ قَدْ كَانُوا قَدَّمُوهُمْ لِذَلِكَ - فَقَالَ عُمَرُ اتَّئِدَا أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِى بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ». قَالُوا نَعَمْ. ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ وَعَلِىٍّ فَقَالَ أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ الَّذِى بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَاهُ صَدَقَةٌ ». قَالاَ نَعَمْ. فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ كَانَ خَصَّ رَسُولَهُ -صلى الله عليه وسلم- بِخَاصَّةٍ لَمْ يُخَصِّصْ بِهَا أَحَدًا غَيْرَهُ قَالَ (مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ) مَا أَدْرِى هَلْ قَرَأَ الآيَةَ الَّتِى قَبْلَهَا أَمْ لاَ. قَالَ فَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَيْنَكُمْ أَمْوَالَ بَنِى النَّضِيرِ فَوَاللَّهِ مَا اسْتَأْثَرَ عَلَيْكُمْ وَلاَ أَخَذَهَا دُونَكُمْ حَتَّى بَقِىَ هَذَا الْمَالُ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَأْخُذُ مِنْهُ نَفَقَةَ سَنَةٍ ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِىَ أُسْوَةَ الْمَالِ. ثُمَّ قَالَ أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِى بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاءُ وَالأَرْضُ أَتَعْلَمُونَ ذَلِكَ قَالُوا نَعَمْ. ثُمَّ نَشَدَ عَبَّاسًا وَعَلِيًّا بِمِثْلِ مَا نَشَدَ بِهِ الْقَوْمَ أَتَعْلَمَانِ ذَلِكَ قَالاَ نَعَمْ. قَالَ فَلَمَّا تُوُفِّىَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَنَا وَلِىُّ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَجِئْتُمَا تَطْلُبُ مِيرَاثَكَ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ وَيَطْلُبُ هَذَا مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ». فَرَأَيْتُمَاهُ كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ ثُمَّ تُوُفِّىَ أَبُو بَكْرٍ وَأَنَا وَلِىُّ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَوَلِىُّ أَبِى بَكْرٍ فَرَأَيْتُمَانِى كَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنِّى لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ فَوَلِيتُهَا ثُمَّ جِئْتَنِى أَنْتَ وَهَذَا وَأَنْتُمَا جَمِيعٌ وَأَمْرُكُمَا وَاحِدٌ فَقُلْتُمَا ادْفَعْهَا إِلَيْنَا فَقُلْتُ إِنْ شِئْتُمْ دَفَعْتُهَا إِلَيْكُمَا عَلَى أَنَّ عَلَيْكُمَا عَهْدَ اللَّهِ أَنْ تَعْمَلاَ فِيهَا بِالَّذِى كَانَ يَعْمَلُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَخَذْتُمَاهَا بِذَلِكَ قَالَ أَكَذَلِكَ قَالاَ نَعَمْ. قَالَ ثُمَّ جِئْتُمَانِى لأَقْضِىَ بَيْنَكُمَا وَلاَ وَاللَّهِ لاَ أَقْضِى بَيْنَكُمَا بِغَيْرِ ذَلِكَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ فَإِنْ عَجَزْتُمَا عَنْهَا فَرُدَّاهَا إِلَىَّ.

Malik bin Aws said: 'Umar bin Al-Khattab sent for me, and I came to him when the sun had risen high. I found him in his house, lying on his mattress, reclining on a leather pillow. He said to me: O Malik, some of your people have come to me for urgent help and I have ordered that they be given a little money. Take it and divide it among them. I said: Would that you had ordered someone else to do this. He said: Take it, O Malik. Then Yarfa' came to him and said: O Amir Al-Mu'minin, will you let 'Uthman, 'Abdur-Rahman bin 'Awf, Az-Zubair and Sa'd come in? 'Umar said: Yes, so he let them in, and they came in. Then he came and said: Will you let 'Abbas and 'Ali come in? He said: Yes, so he let them in. 'Abbas said: O Amir Al-Mu'minin, will you judge between me and this treacherous, betraying, sinful liar? The people said: Yes, O Amir Al-Mu'minin, judge between them and let them settle the matter. - Malik bin Aws said: I could well imagine that they had sent them on ahead for that purpose. - 'Umar said: Wait a minute. I adjure you by Allah, by Whose permission the heavens and earth exist, do you know that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "We (Prophets) have no heirs and whatever we leave behind is charity"? They said: Yes. Then he turned to Al-'Abbas and 'Ali and said: I adjure you by Allah, by Whose permission the heavens and earth exist, do you know that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "We (Prophets) have no heirs and whatever we leave behind is charity"? They said: Yes. 'Umar said: Allah bestowed upon His Messenger (s.a.w) that which He did not bestow upon anyone else. He said: "What Allah gave as booty (Fai') to His Messenger (Muhammad (s.a.w))from the people of the townships - it is for Allah, His Messenger (Muhammad (s.a.w))" [Al-Hashr 59:7] - I do not know whether he recited the Verse that comes before it or not-. He said: The Messenger of Allah (s.a.w) divided the wealth of Banu An-Nadir among you, and by Allah, he did not prefer himself over you, and he did not take it and exclude you, until this property was left. The Messenger of Allah (s.a.w) used to take his annual expenditure from it, and spend an equal amount for the sake of Allah. Then he said: I adjure you by Allah, by Whose permission the heavens and earth exist, do you know that? They said: Yes. Then he adjured 'Abbas and 'Ali as he had adjured the others: Do you know that? They said: Yes. He said: When the Messenger of Allah (s.a.w) died, Abu Bakr said: I am the successor of the Messenger of Allah (s.a.w), and you came seeking your inheritance from the son of your brother, and this one came seeking the inheritance of his wife from her father, and Abu Bakr said: The Messenger of Allah (s.a.w) said: "We (Prophets) have no heirs and whatever we leave behind is charity". You thought that he was lying, sinning, cheating and betraying, but Allah knows that he was honest, righteous, well guided and following the truth. Then Abu Bakr died, and I am the successor of the Messenger of Allah (s.a.w) and the successor of Abu Bakr. You think that I am lying, sinning, cheating and betraying, but Allah knows that I am honest, righteous, well guided and following the truth. I became the guardian (of this property) and you and he came to me, both with the same purpose. You said: Give it to us, and I said: If you wish, I will give it to you, on condition that you pledge to Allah that you will use it as the Messenger of Allah (s.a.w) used it, and you took it on that basis. He said: Is that not so? They said: Yes. He said: Then you came to me, to judge between you. No, by Allah, I will not judge between you in any other way until the Hour begins. If you are unable (to fulfill the condition), then give it back to me.

حضرت مالک بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے پیغام بھیج کر بلوایا میں دن چڑھے آپ کی خدمت میں آ گیا حضرت مالک فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ آپ گھر میں خالی تخت پر چمڑے کا تکیہ لگائے بیٹھے ہیں فرمانے لگے :اے مالک ! کہ تیری قوم کے کچھ آدمی جلدی جلدی میں آئے تھے میں نے ان کو کچھ سامان دینے کا حکم کر دیا ہے اب تم وہ مال لے کر ان کے درمیان تقسیم کر دو میں نے عرض کیا: اے امیر المومنین! آپ میرے علاوہ کسی اور کو اس کام پر مقرر فرما دیں آپ نے فرمایا: اے مالک! تم ہی لے لو۔ اسی دوران (آپ کا غلام) یرفاء اندر آیا اور اس نے عرض کیا اے امیر المومنین! حضرت عثمان، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت زبیر اور حضرت سعد رضوان اللہ علیہم اجمعین حاضر خدمت ہیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ان کے لئے اجازت ہے وہ اندر تشریف لائے، پھر وہ غلام آیا اور عرض کیا کہ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے ہیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اچھا ، اور ان کو بھی اجازت دے دی، حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المؤمنین ! میرے اور اس جھوٹے گناہ گار، دھوکے باز،اور خائن کے درمیان فیصلہ کر دیجئے، لوگوں نے کہا: ہاں اے امیر المومنین! ان کے درمیان فیصلہ کردیں اور ان کو ان سے راحت دلائیں حضرت مالک بن اوس کہنے لگے کہ میرا خیال ہے کہ ان دونوں حضرات یعنی عباس اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان حضرت کو اسی لئے پہلے بھیجا ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ٹھہرو! میں تمہیں اس ذات کی قسم دیتا ہوں کہ جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ہمارا وارث نہیں بنایا جائے گا ہم نے جو کچھ بھی چھوڑا ہے وہ صدقہ ہے ۔ انہوں نے کہا: ہاں ،پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے کہ میں تم دونوں کو قسم دیتا ہوں کہ جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تم دونوں جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ہمارا وارث نہیں بنایا جائے گا ہم نے جو کچھ بھی چھوڑا ہے وہ صدقہ ہے انہوں نے کہا: جی ہاں،حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہﷺکو ایک چیز کے ساتھ خاص کیا تھا جس کے ساتھ کسی اور کو خاص نہیں کیا تھا، یہ بستیوں کے وہ اموال ہیں جو اللہ تعالیٰ نے رسول اللہﷺپر لوٹا دیے تھے ، یہ اموال اللہ اور اس کے رسول ﷺکے لیے ہیں (یعنی اموال فئے) راوی کہتے ہیں : مجھے علم نہیں کہ انہوں نے اس سے پہلے والی آیت پڑھی تھے یا نہیں ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺنے تمہارے درمیان بنو نضیر کے اموال تقسیم کردیے ، اللہ کی قسم! رسول اللہﷺنے ان اموال کو اپنے ساتھ خاص نہیں کیا اور نہ تمہیں چھوڑ کر ان اموال کو خود رکھا ، یہاں تک کہ یہ مال باقی رہ گیا ، رسول اللہﷺ اس مال سے ایک سال کا خرچ لے لیتے تھے ، باقی جو بچتا وہ بیت المال میں رکھ لیتے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پھر فرمایا: میں تم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں جس کے اذن سے آسمان و زمین قائم ہیں ، کیا تم کو اس کا علم ہے ؟ انہوں نے کہا: ہاں ، پھر حضرت عمررضی اللہ عنہ حضرت عباس اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کو بھی وہی قسم دی جو باقی صحابہ کو دی تھی ، اور کہا: کیا تم کو اس کا علم ہے ؟ انہوں نے کہا: ہاں ، حضر ت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب رسول اللہ ﷺوفات پاگئے تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسو ل اللہ ﷺکا خلیفہ ہوں ، پھر تم دونوں آئے تم اپنے بھتیجے کی میراث سے طلب کرتے تھے اور یہ اپنی زوجہ کے لیے ان کے والد کی میراث سے طلب کرتے تھے تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: ہم کسی کو وارث نہیں بناتے ، ہم نے جو کچھ چھوڑا ہے وہ صدقہ ہے ، سو تم دونوں نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو جھوٹا ، گنہ گار ، عہد شکن اور خائن گمان کیا اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا تھا کہ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ سچے ، نیک ، ہدایت یافتہ اور حق کی پیروی کرنے والے ہیں ،پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ فوت ہوگئے ، اور میں رسول اللہ ﷺاور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا خلیفہ بنایا گیا ، سو تم دونوں نے مجھے بھی جھوٹا ، گنہ گار ، عہد شکن اور خائن گمان کیا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں سچا ، نیک ، ہدایت یافتہ اور حق کی پیروی کرنے والا ہوں ،پھر میں ان اموال کا ولی بنایا گیا ، پھر تم اور یہ میرے پاس آئے تم دونوں کی رائے متفق تھے ، تم دونوں نے کہا: ان اموال کی نگرانی ہمارے سپرد کردیجئے ، میں نے کہا: اگر تم چاہو تو میں یہ اموال اس شرط کے ساتھ تمہارے سپرد کردیتا ہوں کہ تم ان اموال میں اسی طرح تصرف کروگے جس طرح ان اموال میں رسو ل اللہ ﷺتصرف کرتے تھے ، تم دونوں نے اس کا اقرار کیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا اسی طرح معاہدہ ہوا تھا؟ انہوں نےکہا: ہاں ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اب پھرتم دونوں میرے پاس آئے ہوکہ میں تم دونوں کے درمیان فیصلہ کروں ، نہیں ، اللہ کی قسم!قیامت تک میں تمہارے درمیان اس کے سوا کوئی اور فیصلہ نہیں کروں گا ، اگر تم ان اموال کا انتظام کرنے سے عاجز ہوگئے ہو تو پھر یہ مجھے واپس کردو۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ - قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ - أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ قَالَ أَرْسَلَ إِلَىَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ حَضَرَ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ قَوْمِكَ. بِنَحْوِ حَدِيثِ مَالِكٍ. غَيْرَ أَنَّ فِيهِ فَكَانَ يُنْفِقُ عَلَى أَهْلِهِ مِنْهُ سَنَةً وَرُبَّمَا قَالَ مَعْمَرٌ يَحْبِسُ قُوتَ أَهْلِهِ مِنْهُ سَنَةً ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِىَ مِنْهُ مَجْعَلَ مَالِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.

It was narrated that Malik bin Aws bin Al-Hadathan said: 'Umar bin Al-Khattab sent for me and said: some families of your people have come to me... a Hadith like that of Malik (no. 4578), except that it says ('Umar bin Al-Khattab said): He (s.a.w) used to spend his annual expenditure on his family from it. And Ma'mar said: he would keep his family's annual sustenance from it, then whatever was left he would spend in the cause of Allah.

حضرت مالک بن اوس بن حدثان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے میری طرف پیغام بھیج کر بلوایا اور فرمایا: تمہاری قوم کے کچھ لوگ میرے پاس آئے تھے ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے ، لیکن اس میں یہ اضافہ ہے کہ رسول اللہﷺ ان اموال میں سے اپنے اہل و عیال کے لیے ایک سال کا خرچ نکالتے تھے ، اور معمر کی روایت میں ہے کہ ان اموال میں سے اپنے اہل کے لیے ایک سال کی خوراک رکھتے تھے ، اور باقی مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کے لیے رکھ لیتے تھے ۔

16. باب قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ»

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- حِينَ تُوُفِّىَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَرَدْنَ أَنْ يَبْعَثْنَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ إِلَى أَبِى بَكْرٍ فَيَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ مِنَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَتْ عَائِشَةُ لَهُنَّ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ ».

It was narrated that 'Aishah said: When the Messenger of Allah (s.a.w) died, the wives of the Prophet (s.a.w) wanted to end 'Uthman bin 'Affan to Abu Bakr, to ask him for their inheritance from the Prophet (s.a.w). 'Aishah said to them: Didn't the Messenger of Allah (s.a.w) say: "We (Prophets) have no heirs and whatever we leave behind is charity"?

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺفوت ہوگئے تو نبی ﷺکی ازواج نے یہ ارادہ کیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج کر ان سے نبی ﷺکی میراث میں سے اپنا حصہ طلب کریں ۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ازواج مطہرات کو فرمایا: کیا رسول اللہﷺنے یہ نہیں فرمایا: ہمارا وارث نہیں بنایا جائے گا، ہم نے جو کچھ بھی چھوڑا ہے وہ صدقہ ہے ؟۔


حَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ أَخْبَرَنَا حُجَيْنٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَرْسَلَتْ إِلَى أَبِى بَكْرٍ الصِّدِّيقِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ وَفَدَكٍ وَمَا بَقِىَ مِنْ خُمْسِ خَيْبَرَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ إِنَّمَا يَأْكُلُ آلُ مُحَمَّدٍ - -صلى الله عليه وسلم- - فِى هَذَا الْمَالِ ». وَإِنِّى وَاللَّهِ لاَ أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ حَالِهَا الَّتِى كَانَتْ عَلَيْهَا فِى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَلأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَى فَاطِمَةَ شَيْئًا فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَى أَبِى بَكْرٍ فِى ذَلِكَ - قَالَ - فَهَجَرَتْهُ فَلَمْ تُكَلِّمْهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سِتَّةَ أَشْهُرٍ فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِىُّ بْنُ أَبِى طَالِبٍ لَيْلاً وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَكْرٍ وَصَلَّى عَلَيْهَا عَلِىٌّ وَكَانَ لِعَلِىٍّ مِنَ النَّاسِ وِجْهَةٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ فَلَمَّا تُوُفِّيَتِ اسْتَنْكَرَ عَلِىٌّ وُجُوهَ النَّاسِ فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِى بَكْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ وَلَمْ يَكُنْ بَايَعَ تِلْكَ الأَشْهُرَ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِى بَكْرٍ أَنِ ائْتِنَا وَلاَ يَأْتِنَا مَعَكَ أَحَدٌ - كَرَاهِيَةَ مَحْضَرِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - فَقَالَ عُمَرُ لأَبِى بَكْرٍ وَاللَّهِ لاَ تَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَحْدَكَ. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَمَا عَسَاهُمْ أَنْ يَفْعَلُوا بِى إِنِّى وَاللَّهِ لآتِيَنَّهُمْ. فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ. فَتَشَهَّدَ عَلِىُّ بْنُ أَبِى طَالِبٍ ثُمَّ قَالَ إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَضِيلَتَكَ وَمَا أَعْطَاكَ اللَّهُ وَلَمْ نَنْفَسْ عَلَيْكَ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْكَ وَلَكِنَّكَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالأَمْرِ وَكُنَّا نَحْنُ نَرَى لَنَا حَقًّا لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. فَلَمْ يَزَلْ يُكَلِّمُ أَبَا بَكْرٍ حَتَّى فَاضَتْ عَيْنَا أَبِى بَكْرٍ فَلَمَّا تَكَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ قَالَ وَالَّذِى نَفْسِى بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَحَبُّ إِلَىَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِى وَأَمَّا الَّذِى شَجَرَ بَيْنِى وَبَيْنَكُمْ مِنْ هَذِهِ الأَمْوَالِ فَإِنِّى لَمْ آلُ فِيهِ عَنِ الْحَقِّ وَلَمْ أَتْرُكْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَصْنَعُهُ فِيهَا إِلاَّ صَنَعْتُهُ. فَقَالَ عَلِىٌّ لأَبِى بَكْرٍ مَوْعِدُكَ الْعَشِيَّةُ لِلْبَيْعَةِ. فَلَمَّا صَلَّى أَبُو بَكْرٍ صَلاَةَ الظُّهْرِ رَقِىَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَتَشَهَّدَ وَذَكَرَ شَأْنَ عَلِىٍّ وَتَخَلُّفَهُ عَنِ الْبَيْعَةِ وَعُذْرَهُ بِالَّذِى اعْتَذَرَ إِلَيْهِ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَتَشَهَّدَ عَلِىُّ بْنُ أَبِى طَالِبٍ فَعَظَّمَ حَقَّ أَبِى بَكْرٍ وَأَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَى الَّذِى صَنَعَ نَفَاسَةً عَلَى أَبِى بَكْرٍ وَلاَ إِنْكَارًا لِلَّذِى فَضَّلَهُ اللَّهُ بِهِ وَلَكِنَّا كُنَّا نَرَى لَنَا فِى الأَمْرِ نَصِيبًا فَاسْتُبِدَّ عَلَيْنَا بِهِ فَوَجَدْنَا فِى أَنْفُسِنَا فَسُرَّ بِذَلِكَ الْمُسْلِمُونَ وَقَالُوا أَصَبْتَ. فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى عَلِىٍّ قَرِيبًا حِينَ رَاجَعَ الأَمْرَ الْمَعْرُوفَ.

It was narrated from 'Aishah that Fatimah, the daughter of the Messenger of Allah (s.a.w), sent word to Abu Bakr As-Siddiq, asking for her inheritance from the Messenger of Allah (s.a.w), from the booty that Allah had granted him in Al-Madinah and Fadak, and what was left of the booty of Khaibar. Abu Bakr said: The Messenger of Allah (s.a.w) said: "We (Prophets) have no heirs and whatever we leave behind is charity. Rather the family of Muhammad may live on the income of these properties." By Allah, I will not change any of the charity of the Messenger of Allah (s.a.w) from how it was at the time of the Messenger of Allah (s.a.w), and I will do the same with it as the Messenger of Allah (s.a.w) did. Abu Bakr refused to give Fatimah anything, and Fatimah felt angry with Abu Bakr for that, and she forsook him and did not speak to him until she died, and she lived for six months after the Messenger of Allah (s.a.w), When she died, her husband 'Ali bin Abi Talib buried her at night, and did not tell Abu Bakr about that, and 'Ali offered the funeral prayer for her. 'Ali was held in special esteem among the people during Fatimah's lifetime, but when she died, 'Ali noticed a change in the people's attitude towards him. He sought to reconcile with Abu Bakr and swear allegiance to him, as he had not sworn allegiance to him all those months. He sent word to Abu Bakr saying: Come to us and do not bring anyone else with you - objecting to the presence of 'Umar bin Al-Khattab. 'Umar said to Abu Bakr: By Allah, you should not enter upon them alone. Abu Bakr said: What will they do to me? By Allah, I will go to them. So Abu Bakr entered upon them, and 'Ali bin Abi Talib recited the Tashah-hud, then he said: O Abu Bakr, we acknowledge your virtue and what Allah has given you. We do not envy you for any favor that Allah has bestowed upon you, but you did it without consulting us and we thought that we had the right (to be consulted) because of our kinship with the Messenger of Allah (s.a.w). He kept speaking to Abu Bakr until Abu Bakr's eyes filled with tears. When Abu Bakr spoke, he said: By the One in Whose Hand is my soul, kinship with the Messenger of Allah (s.a.w) is dearer to me than kinship with my own people. As for this dispute that occurred between me and you concerning these properties, I have not deviated from the right path with regard to them, and I have not given up something that I saw the Messenger of Allah (s.a.w) do with them, rather I have done it too. 'Ali said to Abu Bakr: Your appointment for my oath of allegiance is this afternoon. When Abu Bakr had prayed Zuhr, he ascended the Minbar and recited the Tashah-hud, and he spoke of 'Ali and his delay in swearing allegiance, and the excuse that he had given, then he prayed for his forgiveness. And 'Ali bin Abi Talib recited the Tashah-hud and spoke highly of Abu Bakr, and said that what he had done was not due to jealousy of Abu Bakr, or a refusal to accept the favor that Allah had bestowed upon him, but we thought that we should have had a share in the matter, but it had been decided without consulting us, and we were upset with that. The Muslims were pleased with this and said: You have done the right thing. Then the Muslims became closer to 'Ali, when he did the right thing.

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا رسول اللہ ﷺکی صاحبزادی نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے اپنی میراث کے بارے میں پوچھنے کے لئے پیغام بھیجا جو آپ ﷺکو اللہ تعالی نے مدینہ اور فدک میں مال فئے دیا ہے اور خیبر کے خمس میں سے جو مال بچا ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:رسول اللہ ﷺنے فرمایا ہم کسی کو وارث نہیں بناتے اور ہم جو چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے البتہ آل محمد ﷺاس مال سے کھاتے رہیں گے اور میں اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺکے صدقہ میں کسی چیز کی بھی تبدیلی نہیں کروں گا،رسول اللہ ﷺکے زمانے میں جس طرح وہ مال خرچ ہوتا تھا اس میں کوئی تغیر نہیں ہوگا ،اور میں ان اموال میں اسی طرح تصرف کرتا رہوں گا جس طرح رسول اللہﷺان میں تصرف کرتے تھے ، سو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو (بطور میراث) کچھ دینے سے انکار کردیا۔حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس وجہ سے ناراضگی ہوئی تو انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بولنا ترک کر دیا اور ان سے بات نہ کی یہاں تک کہ وہ فوت ہو گئیں اور وہ رسول اللہ ﷺکے بعد چھ ماہ تک زندہ رہیں جب وہ فوت ہو گئیں تو انہیں ان کے خاوند حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رات کو ہی دفن کر دیا اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کی اطلاع نہ دی اور ان کا جنازہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پڑھایا اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے لوگوں کا فاطمہ کی زندگی میں کچھ میلان تھا جب وہ فوت ہو گئیں تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں کے رویہ میں کچھ تبدیلی محسوس کی تو انہوں نے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ صلح اور بیعت کا راستہ ہموار کرنا چاہا کیونکہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان مہینوں تک بیعت نہ کی تھی اور انہوں نے ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف پیغام بھیجا کہ ہمارے پاس آؤ اور تمہارے سوا کوئی اور نہ آئے کیونکہ وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا آنا ناپسند کرتے تھے ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا اللہ کی قسم! آپ ان کے پاس اکیلے نہ جائیں حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا مجھے ان سے یہ امید نہیں کہ وہ میرے ساتھ کوئی ناروا سلوک کریں گے میں اللہ کی قسم ان کے پاس ضرور جاؤں گا پس حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے پاس تشریف لے گئے تو حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا، اور کہا: اے ابو بکر! ہم آپ کی فضیلت کو پہچانتے ہیں اور اللہ نے جو آپ کو مرتبہ دیا ہے اس سے ہم واقف ہیں او رجو خلافت اللہ نے آپ کو دی ہے اس کو آپ سے چھیننے میں رغبت نہیں رکھتے ، لیکن آپ نے خود ہی یہ حکومت حاصل کرلی (یعنی ہم سے مشورہ نہیں کیا) حالانکہ ہم رسول اللہﷺسے قرابت کی بناء پر اس میں اپنا حق سمجھتے تھے ، پھر وہ اس مسئلہ میں حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ سے مسلسل گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں میں آنسو بہنے لگے ۔پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺکے قرابت داروں سے حسن سلوک کرنا مجھے ا پنے قرابت داروں سے زیادہ عزیز ہے اور جن اموال کی وجہ سے میرے اور تمہارے درمیان اختلاف ہوا ہے میں نے ان میں کس حق کو ترک نہیں کیا، اور رسول اللہﷺان اموال کو جہاں جہاں صرف کرتے تھے میں نے ان میں کوئی کمی نہیں کی ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ سے کہا: آج سہ پہر کے وقت ہم آپ سے بیعت کریں گے اور جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ظہر کی نماز سے فارغ ہوگئے تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے ، کلمہ شہادت پڑھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا معاملہ بیان کیا ، او ربیعت میں ان کی تاخیر کرنے کا عذر بیان کیا ، جو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا تھا،پھر استغفار کیا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھا اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے حق کی عظمت کو بیان کیا اور یہ بتلایا کہ انہوں نے جو تاخیر کی اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کے خلاف خلافت میں کچھ رغبت رکھتے تھے اور نہ وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خداداد فضیلت کا انکار کرتے تھے ، لیکن ہم یہ سمجھتے تھے کہ اس حکومت میں ہمارا بھی کچھ حصہ ہے اور ہم سے مشورہ لیے بغیر یہ حکومت بنائی گئی ، اس وجہ سے ہمارے دلوں کو رنج پہنچا۔ مسلمان اس بیان سے خوش ہوئے اور کہا: آپ نے ٹھیک فرمایا: اور جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس معروف راستہ کو اختیار کرلیا، تو لوگ ان کی طرف پھر مائل ہوگئے۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ وَالْعَبَّاسَ أَتَيَا أَبَا بَكْرٍ يَلْتَمِسَانِ مِيرَاثَهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَهُمَا حِينَئِذٍ يَطْلُبَانِ أَرْضَهُ مِنْ فَدَكٍ وَسَهْمَهُ مِنْ خَيْبَرَ. فَقَالَ لَهُمَا أَبُو بَكْرٍ إِنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ عُقَيْلٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ثُمَّ قَامَ عَلِىٌّ فَعَظَّمَ مِنْ حَقِّ أَبِى بَكْرٍ وَذَكَرَ فَضِيلَتَهُ وَسَابِقَتَهُ ثُمَّ مَضَى إِلَى أَبِى بَكْرٍ فَبَايَعَهُ فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَى عَلِىٍّ فَقَالُوا أَصَبْتَ وَأَحْسَنْتَ. فَكَانَ النَّاسُ قَرِيبًا إِلَى عَلِىٍّ حِينَ قَارَبَ الأَمْرَ الْمَعْرُوفَ.

It was narrated from Aishah that Fatimah and Al-'Abbas came to Abu Bakr seeking their inheritance from the Messenger of Allah (s.a.w). At that time they were asking for his land at Fadak and his share of Khaibar. Abu Bakr said to them: I heard the Messenger of Allah (s.a.w)... and he quoted a Hadith like that of 'Uqail, from Az-Zuhri (no. 4580) , except that he said: Then 'Ali stood up and spoke highly of Abu Bakr, and he mentioned his virtue and the fact that he had been one of the first to enter Islam. Then he went to Abu Bakr and swore allegiance to him, and the people came to 'Ali and said: You have done the right thing, you have done well. And the people became close to 'Ali when he did the right thing.

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور اپنا حصہ رسول اللہ ﷺ کی میراث سے طلب کرنے لگے ، وہ دونوں فدک کی زمین ، اور خیبر کے حصہ میں مطالبہ کررہے تھے ، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺسے یہ سنا ہے اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے ،البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حق کی عظمت ان کی فضیلت اور دین میں ان کی سبقت بیان کی ، پھر حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کے پاس جاکر ان کی بیعت کی ، پھر لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوکر کہنے لگے: آپ نے صحیح اورمناسب کام کیا ، اور جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس نیک کام کو اپنالیا تو لوگ ان کے قریب ہوگئے ۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِى ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِىٍّ الْحُلْوَانِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ - حَدَّثَنَا أَبِى عَنْ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِى عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سَأَلَتْ أَبَا بَكْرٍ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يَقْسِمَ لَهَا مِيرَاثَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ. فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ». قَالَ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- سِتَّةَ أَشْهُرٍ وَكَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَكْرٍ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ خَيْبَرَ وَفَدَكٍ وَصَدَقَتِهِ بِالْمَدِينَةِ فَأَبَى أَبُو بَكْرٍ عَلَيْهَا ذَلِكَ وَقَالَ لَسْتُ تَارِكًا شَيْئًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَعْمَلُ بِهِ إِلاَّ عَمِلْتُ بِهِ إِنِّى أَخْشَى إِنْ تَرَكْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ أَنْ أَزِيغَ فَأَمَّا صَدَقَتُهُ بِالْمَدِينَةِ فَدَفَعَهَا عُمَرُ إِلَى عَلِىٍّ وَعَبَّاسٍ فَغَلَبَهُ عَلَيْهَا عَلِىٌّ وَأَمَّا خَيْبَرُ وَفَدَكُ فَأَمْسَكَهُمَا عُمَرُ وَقَالَ هُمَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- كَانَتَا لِحُقُوقِهِ الَّتِى تَعْرُوهُ وَنَوَائِبِهِ وَأَمْرُهُمَا إِلَى مَنْ وَلِىَ الأَمْرَ قَالَ فَهُمَا عَلَى ذَلِكَ إِلَى الْيَوْمِ.

'Urwah bin Az-Zubair narrated that 'Aishah, the wife of the Prophet (s.a.w), told him that Fatimah, the daughter of the Messenger of Allah (s.a.w), asked Abu Bakr, after the death of the Messenger of Allah (s.a.w), to give her, her share of inheritance from that which the Messenger of Allah (s.a.w) had left behind, of the Fai' that Allah had bestowed upon him. Abu Bakr said to her: The Messenger of Allah (s.a.w) said: "We (Prophets) have no heirs and whatever we leave behind is charity." She lived for six months after the Messenger of Allah (s.a.w), and Fatimah used to ask Abu Bakr for her share of that which the Messenger of Allah (s.a.w) had left behind of Khaibar and Fadak, and his endowments in Al-Madinah, but Abu Bakr refused to give her that He said: I will not stop doing something that the Messenger of Allah (s.a.w) used to do, rather I will continue to do it. I am afraid that if I give up something that he did, I will go astray. As for his endowment in Al-Madinah, 'Umar gave it to 'Ali and 'Abbas, but 'Ali took most of it. As for Khaibar and Fadak, 'Umar kept them and said: They are the endowment of the Messenger of Allah (s.a.w) and were spent on his responsibilities and on emergencies. They were to be cared for by whoever became caliph, and this remains the case until today.

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺکی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺکے وصال کے بعد حضرت ابو بکرر ضی اللہ عنہ سے یہ سوال کیا کہ وہ رسول اللہﷺکے اس ترکہ سے جو آپﷺکو اللہ تعالیٰ نے بطور فئے دیا تھا ، ان کی میراث تقسیم کریں ، حضرت ابو بکرر ضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ ﷺنے فرمایا:رسول اللہﷺنے فرمایا: ہمارا وارث نہیں بنایا جائے گا ، ہم نے جو چھوڑا ہے وہ صدقہ ہے ،رسول اللہﷺکے وصال کے بعد حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا چھ ماہ زندہ رہیں اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے اس ترکہ سے اپنے حصے کا سوال کرتی رہیں جو آپﷺکو خیبر ، فدک اور مدینہ کے صدقات سے حاصل تھا، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان کو دینے سے انکار کیا اور کہا: میں رسول اللہ ﷺکے کیے ہوئے کاموں میں سے کسی کو نہیں چھوڑ سکتا۔مجھے خدشہ ہے کہ اگر میں نے رسول اللہﷺکے کیے ہوئے کسی کام کو ترک کیا ،تو میں گمراہ ہوجاؤں گا ۔ البتہ مدینہ کے صدقات حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی تولیت میں دے دیے ، سو ان پر حضرت علی رضی اللہ عنہ غالب آگئے ، اور خیبر اور فدک کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی تولیت میں رکھا اور کہا: کہ یہ رسول اللہﷺاپنے حقوق اور ریاست کی ضروریات میں خرچ کرتے تھے اور یہ اس شخص کی تولیت میں رہیں گے جو مسلمانوں کا خلیفہ ہوگا ، سو آج تک ان کے ساتھ یہی معمول ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ يَقْتَسِمُ وَرَثَتِى دِيِنَارًا مَا تَرَكْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِى وَمَئُونَةِ عَامِلِى فَهُوَ صَدَقَةٌ ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "My heirs cannot even share a Dink Whatever I have left, after the maintenance of my wives and the remuneration of my agent, is charity."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: میرے ترکہ میں سے میرے وارث ایک دینار بھی تقسیم نہیں کرسکتے ، میری ازواج اور میرے عامل کے خرچ کے بعد جوکچھ باقی بچے گا وہ صدقہ ہے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِى عُمَرَ الْمَكِّىُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِى الزِّنَادِ بِهَذَا الإِسْنَادِ. نَحْوَهُ.

A similar report (as no. 4583) was narrated from Abu Az-Zinnad with this chain.

یہ حدیث ایک اور سند سے اسی طرح مروی ہے۔


وَحَدَّثَنِى ابْنُ أَبِى خَلَفٍ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِىٍّ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنِ الأَعْرَجِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « لاَ نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ ».

It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (s.a.w) said: "We (Prophets) have no heirs and whatever we leave behind is charity."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: ہمارا وارث نہیں بنایا جائے گا ، جو کچھ ہم نے چھوڑا ہے وہ صدقہ ہے۔

17. باب كَيْفِيَّةِ قِسْمَةِ الْغَنِيمَةِ بَيْنَ الْحَاضِرِينَ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ كِلاَهُمَا عَنْ سُلَيْمٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَسَمَ فِى النَّفَلِ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ وَلِلرَّجُلِ سَهْمًا.

It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) divided the spoils of war: two shares for the horseman and one share for the foot soldier.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے مال غنیمت سے گھوڑے کو دو حصے دیے اور آدمی کو ایک حصہ دیا۔


حَدَّثَنَاهُ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِى النَّفَلِ.

'Ubaidullah narrated a similar report (as no. 4586) with this chain, but he did not mention: the spoils of war.

یہ حدیث ایک اور سند سے اسی طرح مروی ہے اور اس میں غنیمت کا ذکر نہیں ہے۔

18. بابُ الإِمْدَادِ بِالْمَلاَئِكَةِ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ وَإِبَاحَةِ الْغَنَائِمِ

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِىِّ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ حَدَّثَنِى سِمَاكٌ الْحَنَفِىُّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ حَدَّثَنِى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ ح وَحَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِىُّ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنِى أَبُو زُمَيْلٍ - هُوَ سِمَاكٌ الْحَنَفِىُّ - حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ قَالَ حَدَّثَنِى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- إِلَى الْمُشْرِكِينَ وَهُمْ أَلْفٌ وَأَصْحَابُهُ ثَلاَثُمِائَةٍ وَتِسْعَةَ عَشَرَ رَجُلاً فَاسْتَقْبَلَ نَبِىُّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الْقِبْلَةَ ثُمَّ مَدَّ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ « اللَّهُمَّ أَنْجِزْ لِى مَا وَعَدْتَنِى اللَّهُمَّ آتِ مَا وَعَدْتَنِى اللَّهُمَّ إِنْ تَهْلِكْ هَذِهِ الْعِصَابَةُ مِنْ أَهْلِ الإِسْلاَمِ لاَ تُعْبَدْ فِى الأَرْضِ ». فَمَازَالَ يَهْتِفُ بِرَبِّهِ مَادًّا يَدَيْهِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ حَتَّى سَقَطَ رِدَاؤُهُ عَنْ مَنْكِبَيْهِ فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ فَأَلْقَاهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ ثُمَّ الْتَزَمَهُ مِنْ وَرَائِهِ. وَقَالَ يَا نَبِىَّ اللَّهِ كَذَاكَ مُنَاشَدَتُكَ رَبَّكَ فَإِنَّهُ سَيُنْجِزُ لَكَ مَا وَعَدَكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ (إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّى مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلاَئِكَةِ مُرْدِفِينَ) فَأَمَدَّهُ اللَّهُ بِالْمَلاَئِكَةِ. قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ فَحَدَّثَنِى ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَئِذٍ يَشْتَدُّ فِى أَثَرِ رَجُلٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ أَمَامَهُ إِذْ سَمِعَ ضَرْبَةً بِالسَّوْطِ فَوْقَهُ وَصَوْتَ الْفَارِسِ يَقُولُ أَقْدِمْ حَيْزُومُ. فَنَظَرَ إِلَى الْمُشْرِكِ أَمَامَهُ فَخَرَّ مُسْتَلْقِيًا فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَإِذَا هُوَ قَدْ خُطِمَ أَنْفُهُ وَشُقَّ وَجْهُهُ كَضَرْبَةِ السَّوْطِ فَاخْضَرَّ ذَلِكَ أَجْمَعُ. فَجَاءَ الأَنْصَارِىُّ فَحَدَّثَ بِذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « صَدَقْتَ ذَلِكَ مِنْ مَدَدِ السَّمَاءِ الثَّالِثَةِ ». فَقَتَلُوا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ وَأَسَرُوا سَبْعِينَ. قَالَ أَبُو زُمَيْلٍ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَلَمَّا أَسَرُوا الأُسَارَى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- لأَبِى بَكْرٍ وَعُمَرَ « مَا تَرَوْنَ فِى هَؤُلاَءِ الأُسَارَى ». فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا نَبِىَّ اللَّهِ هُمْ بَنُو الْعَمِّ وَالْعَشِيرَةِ أَرَى أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُمْ فِدْيَةً فَتَكُونُ لَنَا قُوَّةً عَلَى الْكُفَّارِ فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُمْ لِلإِسْلاَمِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَا تَرَى يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ». قُلْتُ لاَ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَرَى الَّذِى رَأَى أَبُو بَكْرٍ وَلَكِنِّى أَرَى أَنْ تُمَكِّنَّا فَنَضْرِبَ أَعْنَاقَهُمْ فَتُمَكِّنَ عَلِيًّا مِنْ عَقِيلٍ فَيَضْرِبَ عُنُقَهُ وَتُمَكِّنِّى مِنْ فُلاَنٍ - نَسِيبًا لِعُمَرَ - فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ فَإِنَّ هَؤُلاَءِ أَئِمَّةُ الْكُفْرِ وَصَنَادِيدُهَا فَهَوِىَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَلَمْ يَهْوَ مَا قُلْتُ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ جِئْتُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَبُو بَكْرٍ قَاعِدَيْنِ يَبْكِيَانِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِى مِنْ أَىِّ شَىْءٍ تَبْكِى أَنْتَ وَصَاحِبُكَ فَإِنْ وَجَدْتُ بُكَاءً بَكَيْتُ وَإِنْ لَمْ أَجِدْ بُكَاءً تَبَاكَيْتُ لِبُكَائِكُمَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَبْكِى لِلَّذِى عَرَضَ عَلَىَّ أَصْحَابُكَ مِنْ أَخْذِهِمُ الْفِدَاءَ لَقَدْ عُرِضَ عَلَىَّ عَذَابُهُمْ أَدْنَى مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ ». شَجَرَةٍ قَرِيبَةٍ مِنْ نَبِىِّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ (مَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِى الأَرْضِ) إِلَى قَوْلِهِ (فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلاَلاً طَيِّبًا) فَأَحَلَّ اللَّهُ الْغَنِيمَةَ لَهُمْ.

'Umar bin Al-Khattab said: On the day of (the battle of) Badr, the Messenger of Allah (s.a.w) looked at the idolaters and saw that they numbered one thousand, whilst his Companions numbered three hundred and nineteen. The Prophet of Allah (s.a.w) turned to face the Qiblah, then he stretched forth his hands and started supplicating to his Lord (saying): "O Allah, accomplish for me what You have promised me! O Allah, give me what You have promised me! O Allah, if this small band of Muslims is destroyed, You will not be worshiped on earth." He kept calling out to his Lord, stretching out his hands and facing towards the Qiblah, until his cloak fell from his shoulders. Abu Bakr came to him, picked up his cloak and put it on his shoulders. Then he embraced him from behind and said: O Prophet of Allah, this prayer of yours to your Lord will suffice you, for He will accomplish for you what He has promised to you. Then Allah revealed the words: "(Remember) when you sought help of your Lord and He answered you (saying): 'I will help you with a thousand of the angels each behind the other (following one another) in succession"' [Al-Anfal 8:9]. And Allah supported him by means of the angels. Abu Zumayl said: Ibn 'Abbas said: Whilst a Muslim man was pursuing a Mushrik man that day, he heard the crack of a whip above him, and the sound of a rider above him, saying: Onward, Hayzum! He looked at the Mushrik in front of him, who had fallen down on his back, and saw that he had been struck on the nose, and his face was cut as if with a whip, and it had turned green. The Ansari came and told the Messenger of Allah (s.a.w) about that and he said: "You have spoken the truth. That is part of the reinforcements from the third heaven." And on that day they killed seventy and took seventy prisoners. Abu Zumayl said: Ibn 'Abbas said: When the prisoners were captured, the Messenger of Allah (s.a.w) said to Abu Bakr and 'Umar: "What do you think (we should do) with these prisoners?" Abu Bakr said: O Prophet of Allah, they are our cousins and kinsmen. I think that you should accept a ransom for them, which will strengthen us against the Kuffar, and perhaps Allah will guide them to Islam. The Messenger of Allah (s.a.w) said: "What do you think, O son of Al-Khattab?" I said: No, by Allah, O Messenger of Allah. I do not think as Abu Bakr thinks. I think that you should hand them over to us so that we may strike their necks. You should hand 'Aqil over to 'Ali so that he may strike his neck, and you should hand over so-and-so - a relative of 'Umar's - to me so that I may strike his neck, for these are the leaders and prominent figures of Kufr. But the Messenger of Allah (s.a.w) inclined towards the view of Abu Bakr, and he did not incline towards what I said. The next day, I came and found the Messenger of Allah (s.a.w) and Abu Bakr sitting and weeping. I said: O Messenger of Allah, tell me why you and your companion are weeping. If I find it is a cause for weeping, I will weep too, and if it is not, then I will make myself weep with you. The Messenger of Allah (s.a.w) said: "I am weeping because of what your companions suggested about accepting a ransom for the prisoners. I have been shown their punishment as close as this tree" - a tree that was close to the Prophet of Allah (s.a.w). Then Allah revealed the words: "It is not for a Prophet that he should have prisoners of war (and free them with ransom) until he had made a great slaughter (among his enemies) in the land. You desire the good of this world (i.e. the money of ransom for freeing the captives), but Allah desires (for you) the Hereafter. And Allah is All-Mighty, All-Wise. Were it not a previous ordainment from Allah, a severe torment would have touched you for what you took. So enjoy what you have gotten of booty in war, lawful and good" [Al-Anfal 8:67-69]. And Allah permitted the booty to them.

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: غزوہ بدر کے دن رسول اللہﷺنے مشرکین کی طرف دیکھا تو وہ ایک ہزار تھے ، اور آپﷺ کے ساتھ تین سو انیس مرد تھے ، اللہ کے نبیﷺنے قبلہ کی طرف منہ کیا اور ہاتھ اٹھاکر بلند آواز سے اپنے رب سے یہ دعا کی : اے اللہ ! تو نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے اس کو پورا فرما، اے اللہ ! مجھے دے جس کا تو نے وعدہ فرمایا ہے ،اے اللہ! اسلام والوں کی یہ جماعت اگر ہلاک ہوگئی تو پھر روئے زمین پر تیری عبادت نہیں جائے گی ،آپﷺہاتھ بلند فرماکر مسلسل دعا کرتے رہے یہاں تک کہ آپﷺکے کندھوں سے چادر گر گئی ، پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ آپﷺکے پاس آئے اور چادر پکڑ کر آپﷺکے کندھوں پر ڈالی اور پھر پیچھے سے آپ کے ساتھ لپٹ گئے اور کہنے لگے : اے اللہ کے نبی ﷺ!اللہ سے آپ کی یہ دعا کافی ہے ،آپ کا رب آپ سے کیے ہوئے وعدے کو عنقریب پورا فرمائے گا ، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی : (ترجمہ) جب تم اپنے رب سے مدد طلب کررہے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول فرمائی ، میں تمہاری لگاتار ایک ہزار فرشتوں سے مدد فرماؤں گا ، پھر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے آپ کی مدد فرمائی ۔ ابو زمیل نے کہا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ، اس روز ایک مسلمان ایک مشرک کے پیچھے دوڑ رہا تھا جو اس سے آگے تھا ، اتنے میں اس نے اپنے اوپر سے ایک کوڑے کی آواز سنی او رایک گھوڑے سوار کی آواز آئی جو کہہ رہا تھا، اے حیزوم!آگے بڑھ ، (حیزوم فرشتے کے گھوڑے کا نام تھا) پھر اچانک اس نے دیکھا کہ وہ مشرک اس کے سامنے چت گر پڑا ، اس مسلمان نے اس مشرک کی طرف دیکھا تو اس کی ناک پر چوٹ تھی اور اس کا چہرہ اس طرح پھٹ گیا تھا جیسے کوڑا لگا ہوا اور اس کا پورا جسم نیلا پڑ گیا تھا ، اس انصاری نے رسو ل اللہﷺکی خدمت میں حاضر ہوکر یہ واقعہ بیان کیا ، آپﷺنے فرمایا: تم نے سچ کہا، یہ تیسرے آسمان سے مدد آئی تھی، اس دن مسلمانوں نے ستر مشرکوں کو قتل کیا اور ستر کو گرفتار کرلیا ، ابو زمیل کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: جب مسلمانوں نے قیدیوں کو گرفتار کرلیا تو رسو ل اللہ ﷺنے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: تمہارا ان قیدیوں کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا نبی اللہﷺ! یہ ہمارے عم زاد اور ہمارے قبیلہ کے لوگ ہیں ، میری رائے یہ ہے کہ آپ ان سے فدیہ لے لیں ، اس سے ہمیں کفار کے خلاف قوت حاصل ہوگی اور شاید اللہ تعالیٰ انہیں اسلام کی ہدایت دے ، رسول اللہ ﷺنے فرمایا :اے ابن الخطاب ! تمہاری کیا رائے ہے ؟ میں نے کہا: نہیں ،اللہ کی قسم ! اے اللہ کے رسو لﷺ! میری وہ رائے نہیں ہے جو حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کی رائے ہے ، لیکن میری رائے یہ ہے کہ آپ انہیں ہمارے حوالے کیجئے تاکہ تم ان کی گردنیں اتاردیں ، آپ عقیل کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے کردیں تاکہ وہ اس کی گردن اتار دیں ، اور میرا فلاں رشتہ دار میرے حوالہ کیجئے گا تاکہ میں اس کی گردن اتار دوں ،یہ لوگ کافروں کے بڑے اور ان کے سردار ہیں ، رسول اللہﷺکو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے پسند آئی اور میری رائے پسند نہیں آئی ۔دوسرے دن جب میں رسول اللہ ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہﷺاور حضرت ابو بکر رضی اللہ بیٹھے ہوئے رو رہے ہیں ،میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ اور آپ کے صاحب کس وجہ سے رو رہے ہیں ، اگر مجھے بھی رونا آیا تو میں روؤں گا اور اگر مجھے رونا نہ آیا تو میں آپ دونوں کے رونے کی وجہ سے رونے والی صورت بنالوں گا ، رسول اللہ ﷺنے فرمایا : میں اس واقعہ کی وجہ سے رو رہا ہوں جو تمہارے ساتھیوں کے فدیہ لینے کی وجہ سے مجھ پر پیش آیا ہے ، بلاشبہ مجھ پر ان لوگوں کا عذاب پیش کیا گیا جو اس درخت سے بھی زیادہ قریب تھا ، وہ درخت نبی ﷺکے قریب تھا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺپر یہ آیت نازل فرمائی : (ترجمہ) کسی نبی ﷺکی شان کے یہ لائق نہیں ہے کہ وہ کفار کا زمین پر خون بہانے سے پہلے ان کوقیدی بنالے ۔ سو تم کو جو مال غنیمت حاصل ہے ا س کو کھاؤ اس حال میں کہ یہ حلال او رطیب ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے مال غنیمت حلال کردیا۔

19. باب رَبْطِ الأَسِيرِ وَحَبْسِهِ وَجَوَازِ الْمَنِّ عَلَيْهِ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى سَعِيدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- خَيْلاً قِبَلَ نَجْدٍ فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِى حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ. فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِى الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « مَاذَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ». فَقَالَ عِنْدِى يَا مُحَمَّدُ خَيْرٌ إِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ. فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْغَدِ فَقَالَ « مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ». قَالَ مَا قُلْتُ لَكَ إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ. فَتَرَكَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- حَتَّى كَانَ مِنَ الْغَدِ فَقَالَ « مَاذَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ ». فَقَالَ عِنْدِى مَا قُلْتُ لَكَ إِنْ تُنْعِمْ تُنْعِمْ عَلَى شَاكِرٍ وَإِنْ تَقْتُلْ تَقْتُلْ ذَا دَمٍ وَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْمَالَ فَسَلْ تُعْطَ مِنْهُ مَا شِئْتَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ ». فَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلٍ قَرِيبٍ مِنَ الْمَسْجِدِ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ يَا مُحَمَّدُ وَاللَّهِ مَا كَانَ عَلَى الأَرْضِ وَجْهٌ أَبْغَضَ إِلَىَّ مِنْ وَجْهِكَ فَقَدْ أَصْبَحَ وَجْهُكَ أَحَبَّ الْوُجُوهِ كُلِّهَا إِلَىَّ وَاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ دِينٍ أَبْغَضَ إِلَىَّ مِنْ دِينِكَ فَأَصْبَحَ دِينُكَ أَحَبَّ الدِّينِ كُلِّهِ إِلَىَّ وَاللَّهِ مَا كَانَ مِنْ بَلَدٍ أَبْغَضَ إِلَىَّ مِنْ بَلَدِكَ فَأَصْبَحَ بَلَدُكَ أَحَبَّ الْبِلاَدِ كُلِّهَا إِلَىَّ وَإِنَّ خَيْلَكَ أَخَذَتْنِى وَأَنَا أُرِيدُ الْعُمْرَةَ فَمَاذَا تَرَى فَبَشَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَمِرَ فَلَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ قَالَ لَهُ قَائِلٌ أَصَبَوْتَ فَقَالَ لاَ وَلَكِنِّى أَسْلَمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَلاَ وَاللَّهِ لاَ يَأْتِيكُمْ مِنَ الْيَمَامَةِ حَبَّةُ حِنْطَةٍ حَتَّى يَأْذَنَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-.

It was narrated from Sa'eed bin Abi Sa'eed that he heard Abu Hurairah say: The Messenger of Allah (s.a.w) sent some cavalry towards Najd, and they brought a man of Banu Hanifah who was called Thumamah bin Uthal, the leader of the people of Yamamah. They tied him to one of the pillars of the Masjid, then the Messenger of Allah (s.a.w) came out to him and said: "What do you have to say, O Thumamah?" He said: O Muhmmad, I shall say something good. If you kill me, you will kill one who has shed blood, and if you show me kindness, you will be showing kindness to one who is grateful, and if you want money, then ask, and you will be given whatever you want. The Messenger of Allah (s.a.w) left him alone until the next day, then he said: "What do you have to say, O Thumamah?" He said: What I said to you: If you show me kindness, you will be showing kindness to one who is grateful, and if you kill me, you will kill one who has shed blood, and if you want money, then ask, and you will be given whatever you want. The Messenger of Allah (s.a.w) left him alone until the next day, then he said: "What do you have to say, O Thumamah?" He said: I say what I already said to you: If you show me kindness, you will be showing kindness to one who is grateful, and if you kill me, you will kill one who has shed blood, and if you want money, then ask, and you will be given whatever you want. The Messenger of Allah (s.a.W) said: "Let Thumamah go." So he went to some date palms that were near the Masjid, and washed himself, then he entered the Masjid and said: I bear witness that none has the right to be worshiped but Allah and I bear witness that Muhammad is His slave and Messenger. O Muhammad, by Allah, there was no face on earth that was more hateful to me than your face, but now your face has become the dearest of all faces to me. By Allah, there was no religion on earth that was more hateful to me than your religion, but now your religion has become the dearest of all religions to me. By Allah, there was no city on earth that was more hateful to me than your city, but now your city has become the dearest of all cities to me. Your cavalry seized me when I was intending to do 'Umrah. What do you think? The Messenger of Allah (s.a.w) gave him glad tidings and told him to do 'Umrah. When he came to Makkah, someone said to him: Have you changed your religion? He said: No, but I have submitted myself with the Messenger of Allah (s.a.w) and no, by Allah, no grain of wheat will come to you from Yamamah unless the Messenger of Allah (s.a.w) gives permission.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے کچھ سواروں کو نجد کی طرف بھیجا وہ لوگ بنو حنیفہ کے ایک آدمی کو گرفتار کرکے لائے ، اس کانام ثمامہ بن اثال تھا ،وہ اہل یمامہ کا سردار تھا ، انہوں نے اس کو مسجد کے ایک ستوں کے ساتھ باندھ دیا ، رسول اللہﷺ اس کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: اے ثمامہ ! تمہارا کیا ارادہ ہے ؟ اس نے کہا: اے محمد ﷺ! خیر ہے ، اگر آپ قتل کریں گے تو ایک طاقتور شخص کا قتل کریں گے ، اور اگر آپ احسان کریں گے تو ایک شکر گزار شخص پر احسان کریں گے ، اور اگر آپ مال چاہتے ہیں تو سوال کیجئے ، آپ جو مال چاہیں گے آپ کو مل جائے گا، رسول اللہﷺاس کو چھوڑ کر چلے گئے ، دوسرے دن پھر آپﷺنے فرمایا: اے ثمامہ تمہارا کیا ارادہ ہے ؟ اس نے کہا: وہی ہے جو میں آپ سے کہہ چکا ہوں ، اگر آپ احسان کریں گے تو ایک شکر گزار پر احسان کریں گے اور اگر آپ قتل کریں گے تو ایک طاقتور آدمی کو قتل کریں گے ، اور اگر آپ مال چاہتے ہیں تو آپ سوال کیجئے آپ جو مال چاہیں گے وہ آپ کو مل جائے گا ، رسول اللہ ﷺ پھر اس کو چھوڑ کر چلے گئے ، یہاں تک کہ اگلے روز پھر آپ ﷺنے فرمایا: اے ثمامہ ! کیا ارادہ ہے ؟ اس نے کہا: میری وہی رائے ہے جو میں آپ سے کہہ چکا ہوں ، اگر آپ احسان کریں گے تو ایک شکر گزار شخص پر احسان ہوگا ، اوراگر آپ قتل کریں گے تو ایک طاقتور شخص کا قتل ہوگا ، اور اگر آپ مال کا ارادہ کرتے ہیں تو آپ سوال کریں ،آپ جو مال چاہیں گے وہ آپ کو دیا جائے گا ، رسول اللہﷺنے فرمایا: ثمامہ کو کھول دو، وہ مسجد کے قریب ایک کجھور کے درخت کے پاس گیا ،اور غسل کرکے مسجد میں داخل ہوگیا ،اور کہنے لگا : اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمدا عبدہ ورسولہ ۔اے محمد ﷺ!اللہ کی قسم ! پہلے میرے نزدیک روئے زمین پر آپ کے چہرے سے زیادہ ناپسندیدہ کوئی چہرہ نہیں تھا ، اور اب آپ کا چہرہ انور مجھے تما م چہروں سے زیادہ محبوب ہے ، اللہ کی قسم !پہلے میرے نزدیک آپ کے دین سے زیادہ کوئی دین ناپسندیدہ نہ تھا ، اور اب مجھے آپ کا دین تمام دینوں سے زیادہ محبوب ہے ، اللہ کی قسم! پہلے میرے نزدیک آپ کے شہر سے زیادہ کوئی شہر ناپسندیدہ نہ تھا، اب آپ کا شہر مجھے تمام شہروں سے زیادہ محبوب ہے ، آپ کے سواروں نے مجھے گرفتار کرلیا اس حال میں کہ میرا ارادہ عمرہ کرنے کا تھا ، اب آپ کا کیا حکم ہے ؟ رسول اللہﷺنے انہیں بشارت دی او ر عمرہ کرنے کا حکم دیا ، جب وہ مکہ پہنچے تو کسی آدمی نے ان سے کہا: کیا تم نے دین بدل لیا ہے ؟ انہوں نے کہا: نہیں ، لیکن میں رسو ل اللہ ﷺ پر ایمان لے آیا ہوں ، او ر سن لو! اللہ کی قسم! اب تمہارے پاس اس وقت تک یمامہ سے گندم کا کوئی دانہ نہیں پہنچے گا جب تک رسول اللہﷺ اس کی اجازت نہ دیں۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِىُّ حَدَّثَنِى عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِى سَعِيدُ بْنُ أَبِى سَعِيدٍ الْمَقْبُرِىُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- خَيْلاً لَهُ نَحْوَ أَرْضِ نَجْدٍ فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ الْحَنَفِىُّ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ. وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ إِنْ تَقْتُلْنِى تَقْتُلْ ذَا دَمٍ.

Sa'eed bin Abi Sa'eed Al-Maqburi narrated that he heard Abu Hurairah say: The Messenger of Allah (s.a.w) sent his cavalry towards Najd and they brought a man who was called Thumamah bin Uthal AI-Hanafi, the leader of the people of Yamamah... and he quoted a Hadith like that of Al-Laith (no. 4589) , except that he said: If you kill me you will have killed one who shed blood.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے نجد کی طرف گھڑسواروں کی ایک جماعت بھیجی ، وہ لوگ ایک آدمی کو گرفتار کرکے لائے جس کا نام ثمامہ بن اثال حنفی تھا جو یمامہ والوں کا سردار تھا، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے ، البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ اگر آپ مجھے قتل کریں گے تو ایک طاقتور شخص کا قتل کریں گے ۔

20. باب إِجْلاَءِ الْيَهُودِ مِنَ الْحِجَازِ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِى سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ بَيْنَا نَحْنُ فِى الْمَسْجِدِ إِذْ خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ « انْطَلِقُوا إِلَى يَهُودَ ». فَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى جِئْنَاهُمْ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَنَادَاهُمْ فَقَالَ « يَا مَعْشَرَ يَهُودَ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا ». فَقَالُوا قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ. فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « ذَلِكَ أُرِيدُ أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا ». فَقَالُوا قَدْ بَلَّغْتَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ. فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « ذَلِكَ أُرِيدُ ». فَقَالَ لَهُمُ الثَّالِثَةَ فَقَالَ « اعْلَمُوا أَنَّمَا الأَرْضُ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَنِّى أُرِيدُ أَنْ أُجْلِيَكُمْ مِنْ هَذِهِ الأَرْضِ فَمَنْ وَجَدَ مِنْكُمْ بِمَالِهِ شَيْئًا فَلْيَبِعْهُ وَإِلاَّ فَاعْلَمُوا أَنَّ الأَرْضَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ ».

It was narrated that Abu Hurairah said: Whilst we were in the Masjid, the Messenger of Allah (s.a.w) came out to us and said: "Let us go to the Jews." So we went out with him, until we reached them. The Messenger of Allah (s.a.w) stood and called them, saying: "O Jews, become Muslim and you will be safe." They said: You have conveyed (the message), O Abul-Qasim! The Messenger of Allah (s.a.w) said: "That is what I want. Become Muslim and you will be safe." They said: You have conveyed (the message), O Abul-Qasim! The Messenger of Allah (s.a.w) said: "That is what I want." He said it to them a third time, then he said: "Know that the land belongs only to Allah and His Messenger, and I intend to expel you from this land. Whoever among you has any property, let him sell it, otherwise, know that the land belongs to Allah and His Messenger."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک رسول اللہﷺہمارے پاس تشریف لائے ، اور فرمایا: یہودیوں کے پاس چلو، ہم آپ ﷺکے ساتھ اٹھ کر یہودیوں کے پاس گئے ، رسول اللہ ﷺنے کھڑے ہوکر ان سے بلند آواز سے فرمایا: اے یہودیو! مسلمان ہوجاؤ تم سلامت رہوگے ، انہوں نے کہا: اے ابوالقاسم ! آپ نے پیغام پہنچادیا ،رسول اللہﷺنے ان سے فرمایا: میں بھی یہی چاہتا ہوں کہ اسلام لے آؤ اور سلامت رہو، انہوں نے کہا: اے ابو القاسم! آپ نے پیغام پہنچادیا ، رسول اللہ ﷺنے تیسری مرتبہ فرمایا: میں بھی یہی چاہتا ہوں ، پھر رسول اللہﷺنے فرمایا: جان لو! زمین اللہ اور اس کے رسول ﷺکی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ تم کو اس زمین سے نکال دوں ، اس لیے تم میں سے جو آدمی اپنا مال بیچنا چاہیے اس کو بیچ دیے ،اور جان لو کہ زمین اللہ اور اس کے رسول ﷺکی ہے ۔


وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ يَهُودَ بَنِى النَّضِيرِ وَقُرَيْظَةَ حَارَبُوا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَجْلَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بَنِى النَّضِيرِ وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ وَمَنَّ عَلَيْهِمْ حَتَّى حَارَبَتْ قُرَيْظَةُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَتَلَ رِجَالَهُمْ وَقَسَمَ نِسَاءَهُمْ وَأَوْلاَدَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ إِلاَّ أَنَّ بَعْضَهُمْ لَحِقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَآمَنَهُمْ وَأَسْلَمُوا وَأَجْلَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَهُودَ الْمَدِينَةِ كُلَّهُمْ بَنِى قَيْنُقَاعَ - وَهُمْ قَوْمُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ - وَيَهُودَ بَنِى حَارِثَةَ وَكُلَّ يَهُودِىٍّ كَانَ بِالْمَدِينَةِ.

It was narrated from Ibn 'Umar that the Jews of Banu An-Nadir and Quraizah waged war against the Messenger of Allah (s.a.w), so the Messenger of Allah (s.a.w) expelled Banu An-Nadir but he let Quraizah stay and treated them kindly, until Quraizah waged war against him after that. Then he killed their men and distributed their women and children and their wealth among the Muslims. But some of them had joined the Messenger of Allah (s.a.w), so he granted them safety and they become Muslims. And the Messenger of Allah (s.a.w) expelled all the Jews of Al-Madinah, Banu Qaynuqa', who were the people of 'Abdullah bin Salam, and the Jews of Banu Harithah, and all the Jews who were in Al-Madinah.

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو نضیر اور بنو قریظہ کے یہودیوں نے رسول اللہﷺسے جنگ کی ، رسول اللہ ﷺنے بنو نضیر کو جلا وطن کردیا اور بنو قریظہ کو برقرار رکھا ، اور ان پر احسان فرمایا۔اس کے بعد بنو قریظہ نے جنگ کی ، آپ نے ان کے مردوں کو قتل کردیا اور ان کی عورتوں اور بچوں کو اور ان کے اموال کو مسلمانوں میں تقسیم کردیا۔ البتہ ان میں سے بعض یہودی رسول اللہﷺکے ساتھ جاملے ، آپﷺنے ان کو امن دے دیا ، اور وہ مشرف بہ اسلام ہوگئے اور رسول اللہ ﷺنے مدینہ کے تمام یہودیوں کو جلا وطن کردیا، ان میں بنو قینقاع حضرت عبد اللہ بن سلام کی قوم تھی، اور بنو حارثہ کے یہودی تھے ، اور ہر وہ یہودی تھا جو مدینہ میں رہتا تھا۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ مُوسَى بِهَذَا الإِسْنَادِ هَذَا الْحَدِيثَ وَحَدِيثُ ابْنُ جُرَيْجٍ أَكْثَرُ وَأَتَمُّ.

This Hadith was narrated from Musa with this chain, but the Hadith of Ibn Juraij (no. 4592) is longer and more complete.

یہ روایت ایک اور سند سے اسی طرح مروی ہے۔

1234Last ›