- احادیثِ نبوی ﷺ

 

123

11. باب الصِّدْقِ فِي الْبَيْعِ وَالْبَيَانِ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِىٍّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ قَالاَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِى الْخَلِيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « الْبَيِّعَانِ بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا فَإِنْ صَدَقَا وَبَيَّنَا بُورِكَ لَهُمَا فِى بَيْعِهِمَا وَإِنْ كَذَبَا وَكَتَمَا مُحِقَتْ بَرَكَةُ بَيْعِهِمَا ».

It was narrated from Hakim bin Hizam that the Prophet (s.a.w) said: "The two parties to a transaction have the option (of canceling it) until they part. If they are honest and disclose any defects, their transaction will be blessed, but if they lie and conceal defects the blessing will be erased."

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: خرید و فروخت کرنے والے دونوں فریقین جب تک متفرق نہ ہوجائیں ان کو اختیار ہے ، اگر وہ دونوں سچ بولیں اور (عیب کو)بیان کردیں تو ان دونوں کی بیع میں برکت ہوگی اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور (عیوب کو)چھپائیں تو ان کی بیع کی برکت مٹادی جائے گی۔


حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِىٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ أَبِى التَّيَّاحِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. بِمِثْلِهِ. قَالَ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ وُلِدَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ فِى جَوْفِ الْكَعْبَةِ وَعَاشَ مِائَةً وَعِشْرِينَ سَنَةً.

It was narrated that Abu At-Tayyah. said: "I heard 'Abdullah bin AI-Harith narrating from Hakim bin Hizam from the Prophet (s.a.w)..." a similar report (as no. 3858). Muslim bin AI-Hajjaj said: Hakim bin Hizam was born inside the Ka'bah and lived for one hundred and twenty years.

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ نے نبیﷺسے اس کی طرح روایت بیان کی ہے ، امام مسلم فرماتے ہیں کہ حضرت حکیم بن حزام کعبہ میں پیدا ہوئے اور ایک سو بیس سال تک زندہ رہے۔

12. باب مَنْ يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ ذَكَرَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ يُخْدَعُ فِى الْبُيُوعِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ بَايَعْتَ فَقُلْ لاَ خِلاَبَةَ ». فَكَانَ إِذَا بَايَعَ يَقُولُ لاَ خِيَابَةَ.

Ibn 'Umar said that a man told the Messenger of Allah (s.a.w) that he was often deceived in transactions, and the Messenger of Allah (s.a.w) said: "When you enter into a transaction, say: 'There should be no deceit.'" So when he entered into a transaction he would say: "There should be no deceit."

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺکو بتایا کہ مجھے خرید و فروخت میں دھوکا دیا جاتا ہے۔رسول اللہ ﷺنے فرمایاکہ تم جس سے بھی بیع کروتو اس سے کہہ دیا کرو کہ د ھوکا نہیں ہوگا، وہ آدمی جب بیع کرتا تھا تو یہ کہہ دیتا تھا کہ دھوکا نہیں ہوگا۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَيْسَ فِى حَدِيثِهِمَا فَكَانَ إِذَا بَايَعَ يَقُولُ لاَ خِيَابَةَ.

A similar report (as no. 3860) was narrated from 'Abdullah bin Dinar with this chain, but it does not say in their Hadith: "When he entered into a transaction he would say: 'There should be no deceit."'

ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے لیکن اس میں یہ نہیں ہے کہ جب وہ بیع کرتا تو کہتا دھوکا نہیں ہوگا۔

13. باب النَّهْيِ عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلاَحِهَا بِغَيْرِ شَرْطِ الْقَطْعِ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهَا نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُبْتَاعَ.

It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade selling produce until its goodness appears. He forbade it for the seller and the buyer.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے پھلوں کو ظہور صلاحیت سے قبل بیچنے سے منع فرمایا،بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کو منع فرمایا۔


حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِمِثْلِهِ.

A similar report (as no. 3862) was narrated from Ibn 'Umar, from the Prophet (s.a.w).

ایک اور سند سے حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ سے اسی طرح مروی ہے۔


وَحَدَّثَنِى عَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِىُّ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ وَعَنِ السُّنْبُلِ حَتَّى يَبْيَضَّ وَيَأْمَنَ الْعَاهَةَ نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِىَ.

It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade selling the fruit of date palms until it began to develop color (turn yellow or red) and ears (of grain) until they turned white (having developed) and were free of blight. He forbade that to the seller and the buyer.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے کھجوروں کی بیع سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ سرخ یا زرد نہ ہوجائیں،اور سفید ہونے سے پہلے بالیوں کی بیع سے منع فرمایا یہاں تک کہ وہ آفات سے محفوظ نہ ہوجائیں،بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کو منع فرمایا۔


حَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهُ وَتَذْهَبَ عَنْهُ الآفَةُ قَالَ يَبْدُوَ صَلاَحُهُ حُمْرَتُهُ وَصُفْرَتُهُ.

It was narrated that Ibn 'Umar said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Do not sell produce until its goodness appears and there is no longer any fear of blight."' He said: "Until its goodness appears means when it turns red or yellow."

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جب تک پھلوں کی صلاحیت ظاہر نہ ہوجائے ، اور وہ قدرتی آفات سے محفوظ نہ ہوجائیں اس وقت تک ان کو فروخت مت کرو۔آپ ﷺنے ظہور صلاحیت کا یہ معیار بیان فرمایا: کہ وہ سرخ یا زرد ہوجائیں۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ أَبِى عُمَرَ قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ يَحْيَى بِهَذَا الإِسْنَادِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهُ لَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.

It was narrated from Yahya with this chain (a Hadith similar to no. 3865), up to (the words); "until its goodness appears;" and he did not mention what comes after that.

ایک اور سند سے بھی یہ روایت مروی ہے ، اس میں صرف پھلوں کی ظہور صلاحیت کا ذکر ہے اور بعد کی علامتوں کا ذکر نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى فُدَيْكٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الْوَهَّابِ.

A Hadith like that of 'Abdul-Wahhab (no. 3866) was narrated from Ibn 'Umar, from the Prophet (s.a.w).

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ایک اور سند سے اسی طرح مروی ہے۔


حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ حَدَّثَنِى مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ وَعُبَيْدِ اللَّهِ.

A Hadith like that of Malik and 'Ubaidullah (nos. 3862, 3863) was narrated from Ibn 'Umar from the Prophet (s.a.w).

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ایک دیگر سند سےبھی مذکورہ بالا حدیث کی طرح مروی ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ - عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ تَبِيعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهُ ».

It was narrated from 'Abdullah bin Dinar that he heard Ibn 'Umar say: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Do not sell produce until its goodness appears."'

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ظہور صلاحیت سے قبل پھلوں کو فروخت مت کرو۔


وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كِلاَهُمَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَزَادَ فِى حَدِيثِ شُعْبَةَ فَقِيلَ لاِبْنِ عُمَرَ مَا صَلاَحُهُ قَالَ تَذْهَبُ عَاهَتُهُ.

It was narrated from 'Abdullah bin Dinar with this chain (a Hadith similar to no 3869). In the Hadith of Shu'bah it adds: "It was said to Ibn 'Umar: 'What does its goodness mean?' He said: 'When there is no more danger of blight.'"

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ پھلوں کی ظہور صلاحیت کا کیا معیار ہے تو انہوں نے فرمایا: وہ آفات سے محفوظ ہوجائیں۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى - أَوْ نَهَانَا - رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَطِيبَ.

It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade" - or "forbade us - selling fruits until they became good."

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے منع کیا ،یا ہمیں منع کیا ظہور صلاحیت سے قبل پھلوں کو فروخت کرنے سے۔


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ح وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالاَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهُ.

Jabir bin 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade selling produce until its goodness appeared."

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ظہور صلاحیت سے قبل پھلوں کو فروخت کرنے سے منع فرمایا۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِى الْبَخْتَرِىِّ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَأْكُلَ مِنْهُ أَوْ يُؤْكَلَ وَحَتَّى يُوزَنَ. قَالَ فَقُلْتُ مَا يُوزَنُ فَقَالَ رَجُلٌ عِنْدَهُ حَتَّى يَحْزَرَ.

It was narrated that Abu Al-Bakhtari said: "I asked Ibn 'Abbas about selling the fruit of date palms. He said: 'The Messenger of Allah (s.a.w) forbade selling the fruit of date palms until it (some of it) could be eaten, and until it was weighed.' I said: 'What does weighed mean?' A man who was with him said: 'Until it is estimated."'

ابو البختری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کھجوروں کی بیع کے بارے میں پوچھا ، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺنے اس وقت تک کھجوروں کی بیع سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ وہ کھائی جانے یا کھلائی جانے کے قابل اور وزن کے لائق ہوجائیں ، میں نے پوچھا : وزن کے لائق ہونے کا کیا مطلب ہے؟ تو ان کے پاس ایک شخص بیٹھا تھا اس نے کہا : یہاں تک وہ کاٹ کر محفوظ رکھنے کے لائق ہوجائیں۔


حَدَّثَنِى أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاَءِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِى نُعْمٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ تَبْتَاعُوا الثِّمَارَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهَا ».

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Do not sell produce until its goodness appears.'"

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: پھلوں کو ظہور صلاحیت سے پہلے فروخت نہ کرو۔

14. بابُ تَحْرِيمِ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ إِلاَّ فِي الْعَرَايَا

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِىِّ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لَهُمَا - قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الزُّهْرِىُّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهُ وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ.

It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet (s.a.w) forbade selling produce until it became ripe, and he forbade selling fresh dates for dry dates.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے ظہور صلاحیت سے قبل پھلوں کی بیع سے منع فرمایا،اور تازہ کھجوروں کی خشک کھجوروں کے عوض بیع سے منع فرمایا۔


قَالَ ابْنُ عُمَرَ وَحَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَخَّصَ فِى بَيْعِ الْعَرَايَا. زَادَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِى رِوَايَتِهِ أَنْ تُبَاعَ.

Zaid bin Thabit narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) granted a concession with regard to selling 'Araya.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے بیع عرایا کی اجازت دی اور ابن نمیر کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ عرایا کو بیچنے کی اجازت دی۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ - وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ - قَالاَ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِى سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهُ وَلاَ تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ بِالتَّمْرِ ». قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَحَدَّثَنِى سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- مِثْلَهُ سَوَاءً.

Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Do not sell produce until it becomes ripe, and do not sell fresh dates for dry dates."' Ibn Shihab said: "Salim bin 'Abdullah bin 'Umar narrated a similar report to me from his father from the Messenger of Allah (s.a.w)."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ظہور صلاحیت سے قبل پھلوں کو فروخت نہ کرو، اور تازہ کھجوروں کو خشک کھجوروں کے بدلے مت بیچو۔ ابن شہاب فرماتے ہیں کہ مجھے سالم بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے باپ سے اور انہوں نے نبی ﷺسے یہ روایت بیان کی ہے۔


وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يُبَاعَ ثَمَرُ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ وَالْمُحَاقَلَةُ أَنْ يُبَاعَ الزَّرْعُ بِالْقَمْحِ وَاسْتِكْرَاءُ الأَرْضِ بِالْقَمْحِ. قَالَ وَأَخْبَرَنِى سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ قَالَ « لاَ تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهُ وَلاَ تَبْتَاعُوا الثَّمَرَ بِالتَّمْرِ ». وَقَالَ سَالِمٌ أَخْبَرَنِى عَبْدُ اللَّهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُ رَخَّصَ بَعْدَ ذَلِكَ فِى بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِالرُّطَبِ أَوْ بِالتَّمْرِ وَلَمْ يُرَخِّصْ فِى غَيْرِ ذَلِكَ.

It was narrated from Sa'eed bin Al-Musayyab that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade Muzabanah and Muhaqalah transactions. Muzabanah is when dates on the tree are sold for dry dates, and Muhaqalah is when crops in the field are sold for dry wheat, or land is leased out for wheat. He said: "Salim bin 'Abdullah narrated to me that the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Do not sell produce until it becomes ripe, and do not sell fresh dates for dry dates.' Salim said: ''Abdullah bin Zaid bin Thabit told me that after that the Messenger of Allah (s.a.w) granted a concession allowing the sale of 'Araya for fresh dates or dried dates, but he did not grant a concession in any other case.'"

حضرت سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا،مزابنہ سے مرا د یہ ہے کہ تازہ کھجوروں کو چھواروں کے عوض فروخت کیا جائے۔اور محاقلہ یہ ہے کہ کھڑی کھیت کی فصل کوگندم کے عوض فروخت کیا جائے،اور گندم کے عوض زمین کرائے پر لینے سے آپﷺنے منع فرمایا ہے۔اور سالم بن عبد اللہ بن عمر نے نبی ﷺسے یہ روایت بیان کی ہے کہ ظہور صلاحیت سے قبل پھلوں کی بیع مت کرو، اور تازہ کھجوروں کو خشک کھجوروں کے بدلے میں فروخت مت کرواور سالم نے کہا: مجھ سے حضرت عبد اللہ بن عمر نے حضرت زید بن ثابت سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺنے بیع عرایا میں تازہ کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی اجازت دی اور عرایا کے علاوہ اور کسی میں اجازت نہیں دی۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَخَّصَ لِصَاحِبِ الْعَرِيَّةِ أَنْ يَبِيعَهَا بِخَرْصِهَا مِنَ التَّمْرِ.

It was narrated from Zaid bin Thabit that the Messenger of Allah (s.a.w) granted a concession to the owner of 'Araya; allowing him to sell it for an estimated measure of dried dates.

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ا للہ ﷺنے صاحب عرایا کو اندازے سے خشک کھجوروں کے عوض تازہ کھجوروں کی بیع کی اجازت دی ہے۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَخْبَرَنِى نَافِعٌ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَخَّصَ فِى الْعَرِيَّةِ يَأْخُذُهَا أَهْلُ الْبَيْتِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا يَأْكُلُونَهَا رُطَبًا.

Zaid bin Thabit narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) granted a concession with regard to 'Araya, by which the people of a household could eat fresh dates in return for a estimated measure of dried dates.

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ا للہ ﷺنے عرایا میں یہ اجازت دی ہے کہ گھر والے اندازے کے ساتھ خشک کھجوریں دیں اور تازہ کھجوریں کھائیں۔


وَحَدَّثَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ أَخْبَرَنِى نَافِعٌ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

Nafi' narrated a similar report (as no. 3880).

ایک اور سند سے بھی یہ روایت اسی طرح منقول ہے۔


وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَالْعَرِيَّةُ النَّخْلَةُ تُجْعَلُ لِلْقَوْمِ فَيَبِيعُونَهَا بِخَرْصِهَا تَمْرًا.

It was narrated from Yahya bin Sa'eed with this chain (a Hadith similar to no. 3880), except that he said: 'Araya refers to the produce of palm trees that is given to people, and they sell it for a similar measure of dried dates.

ایک اور سند سے بھی یہ روایت اسی طرح ہے ، البتہ اس میں یہ ہے کہ عریہ کھجور کا وہ درخت ہے جو (نادار) لوگوں کو دیا جائے ، پھر اندازے سے اس کے پھلوں کو خشک کھجوروں کے عوض میں فروخت کیا جائے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَنِى زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَخَّصَ فِى بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا. قَالَ يَحْيَى الْعَرِيَّةُ أَنْ يَشْتَرِىَ الرَّجُلُ ثَمَرَ النَّخَلاَتِ لِطَعَامِ أَهْلِهِ رُطَبًا بِخَرْصِهَا تَمْرًا.

It was narrated from 'Abdullah bin 'Umar: "Zaid bin Thabit told me that the Messenger of Allah (s.a.w) granted a concession allowing the sale of 'Araya for a similar measure of dried dates." Yahya said: "'Araya is when a man buys the produce of date palms so that he can give his family fresh dates to eat, in return for an estimated measure of dried dates."

ایک اور سند سے بھی یہ روایت اسی طرح ہے ، البتہ اس میں یہ ہے کہ عریہ وہ کھجور کا درخت ہے جو کسی قوم کو دے دیا جائے پھر وہ اندازے کے ساتھ اس کے پھلوں کو خشک کھجور کے بدلے فروخت کر دے۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِى نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَخَّصَ فِى الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا كَيْلاً.

It was narrated from Zaid bin Thabit that the Messenger of Allah (s.a.w) granted a concession with regard to 'Araya, allowing it to be sold for a similar measure.

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے عرایا میں ناپ کے اندازے سے بیع کی رخصت دی ہے۔


وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ أَنْ تُؤْخَذَ بِخَرْصِهَا.

It was narrated from 'Ubaidullah with this chain (a Hadith similar to no. 3884).

ایک اور سند سے بھی اسی طرح منقول ہے ۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح وَحَدَّثَنِيهِ عَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ كِلاَهُمَا عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَخَّصَ فِى بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا.

It was narrated from Nafi' with this chain that the Messenger of Allah (s.a.w) granted a concession allowing 'Araya to be sold for a similar measure.

حضرت نافع سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے بیع عرایا میں اندازے کے ساتھ بیع کی رخصت دی ہے۔


وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِىُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ - يَعْنِى ابْنَ بِلاَلٍ - عَنْ يَحْيَى - وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ - عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ أَهْلِ دَارِهِمْ مِنْهُمْ سَهْلُ بْنُ أَبِى حَثْمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَقَالَ « ذَلِكَ الرِّبَا تِلْكَ الْمُزَابَنَةُ ». إِلاَّ أَنَّهُ رَخَّصَ فِى بَيْعِ الْعَرِيَّةِ النَّخْلَةِ وَالنَّخْلَتَيْنِ يَأْخُذُهَا أَهْلُ الْبَيْتِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا يَأْكُلُونَهَا رُطَبًا.

It was narrated from Bushair bin Yasar from some of the Companions of the Messenger of Allah (s.a.w) who were members of his family, including Sahl bin Abi Hathmah, that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade selling fresh dates for dried dates. He said: "That is Riba, that is Muzabanah." But he granted a concession allowing the sale of 'Ariyyah, where the produce of one or two palm trees is assigned to a household in return for an estimated measure of dried dates, so that they can eat fresh dates.

بشیر بن یسار ، رسول اللہ ﷺکے چند ان صحابہ سے روایت کرتے ہیں جو ان کے گھر میں رہتے تھے ،ان میں حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ ہیں فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺنے تازہ کھجوروں کی خشک کھجوروں کے عوض بیع سے منع کیا ہے۔اور فرمایا: کہ یہی سود ہے ،اوریہی مزابنہ ہے ، ہاں بیع عریہ میں آپﷺنے رخصت دی ہے کہ ایک یا دو کھجور کے درختوں کو گھر والے خشک کھجوریں دے کر خرید لیں۔


وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّهُمْ قَالُوا رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا.

It was narrated from Bushair bin Yasar, that the Companions of the Messenger of Allah (s.a.w) said: "The Messenger of Allah (s.a.w) granted a concession with regard to the sale of 'Ariyyah for an estimated measure of dried dates."

بشیر بن یسار ، اصحاب رسول اللہ ﷺسے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺنے عریہ میں اندازے سے خشک کھجوروں کی بیع کی رخصت دی ہے۔


وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِى عُمَرَ جَمِيعًا عَنِ الثَّقَفِىِّ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ أَخْبَرَنِى بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- مِنْ أَهْلِ دَارِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى. فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ عَنْ يَحْيَى غَيْرَ أَنَّ إِسْحَاقَ وَابْنَ الْمُثَنَّى جَعَلاَ مَكَانَ الرِّبَا الزَّبْنَ وَقَالَ ابْنُ أَبِى عُمَرَ الرِّبَا.

Bushair bin Yasar narrated from some Companions of the Messenger of Allah (s.a.w) who were members of his family that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade... and he mentioned a Hadith like that of Sulaiman bin Bilal from Yahya (no. 3887), except that lshaq and Ibn Al-Muthanna said Zabn instead of Riba, but Ibn Abi 'Umar said Riba.

بشیر بن یسار ، رسول اللہ ﷺکے چند اصحاب سے روایت کرتے ہیں جو ان کے گھر میں رہتے تھے ،کہ رسول اللہ ﷺنے منع فرمایا: اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے ، البتہ اسحاق اور ابن مثنی کی روایت میں ربا کی جگہ مزابنہ کا ذکر ہے اور ابن ابی عمر کی روایت میں ربا کا ذکر ہے۔


وَحَدَّثَنَاهُ عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِى حَثْمَةَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.

A Hadith like theirs (i.e. lshaq and Ibn Al-Muthanna, no. 3889) was narrated from Sahl bin Abi Hathmah from the Prophet (s.a.w).

ایک اور سند سے حضرت سہل بن ابی حثمہ کی نبی ﷺسے مذکورہ بالا حدیث کی طرح مروی ہے۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِىُّ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ حَدَّثَنِى بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِى حَارِثَةَ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ وَسَهْلَ بْنَ أَبِى حَثْمَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ إِلاَّ أَصْحَابَ الْعَرَايَا فَإِنَّهُ قَدْ أَذِنَ لَهُمْ.

Rafi' bin Khadij and Sahl bin Abi Hathmah narrated that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade Muzabanah, selling fresh dates for dried dates, except for those who owned 'Araya - he gave them permission.

حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے مزابنہ سے منع کیا یعنی تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے عوض بیع سے منع فرمایا ۔البتہ اصحاب عرایا کو اس بیع میں رخصت دی ہے۔


حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ قُلْتُ لِمَالِكٍ حَدَّثَكَ دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ عَنْ أَبِى سُفْيَانَ - مَوْلَى ابْنِ أَبِى أَحْمَدَ - عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- رَخَّصَ فِى بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ فِى خَمْسَةِ - يَشُكُّ دَاوُدُ قَالَ خَمْسَةٌ أَوْ دُونَ خَمْسَةٍ - قَالَ نَعَمْ.

It was narrated from Abu Hurairah that the Messenger of Allah (s.a.w) granted a concession allowing the sale of 'Araya for estimated amounts less than five Wasq, or up to five Wasq. Dawud was unsure and said: "Five or less than five?" He said: "Yes."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے بیع عرایا میں اندازے سے بیع کی رخصت دی ہے ، جبکہ یہ بیع پانچ وسق سے کم یا پانچ وسق ہو، راوی کو شک ہے ۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِىُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ كَيْلاً وَبَيْعُ الْكَرْمِ بِالزَّبِيبِ كَيْلاً.

It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade Muzabanah. Muzabanah refers to selling fresh dates for dried dates by measure, and selling grapes for raisins by measure.

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے بیع مزابنہ سے منع فرمایا ہے اور مزابنہ یہ ہے کہ درختوں پر لگی ہوئی کھجوروں کو ناپ کے ساتھ خشک کھجوروں کے بدلہ میں فروخت کرنا یا انگوروں کو ناپ کے ساتھ کشمش کے بدلہ میں فروخت کرنا۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ بَيْعِ ثَمَرِ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ كَيْلاً وَبَيْعِ الْعِنَبِ بِالزَّبِيبِ كَيْلاً وَبَيْعِ الزَّرْعِ بِالْحِنْطَةِ كَيْلاً.

It was narrated from Nafi' that 'Abdullah told him that the Prophet (s.a.w) forbade Muzabanah. Muzabanah means selling the produce of palm trees for dried dates by measure, or selling grapes for raisins by measure, or selling crops for dried wheat by measure.

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے بیع مزابنہ سے منع فرمایا ہے ۔اور بیع مزابنہ یہ ہے کہ درخت پر لگی ہوئی ترکھجوروں کو خشک کھجوروں کے بدلے ناپ سے فروخت کرنا، اسی طرح انگوروں کو کشمش کے ساتھ ناپ سے فروخت کرنا اورایسے ہی اندازے سے گندم کے کھیت کو گندم کے بدلہ میں بیچنا۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى زَائِدَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الإِسْنَادِ. مِثْلَهُ.

A similar report (as no. 3894) was narrated from 'Ubaidullah with this chain.

ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے


حَدَّثَنِى يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ ثَمَرِ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ كَيْلاً وَبَيْعُ الزَّبِيبِ بِالْعِنَبِ كَيْلاً وَعَنْ كُلِّ ثَمَرٍ بِخَرْصِهِ.

It was narrated that Ibn 'Umar said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade Muzabanah. Muzabanah means selling the produce of palm trees for dried dates by measure, or selling grapes for raisins by measure, or selling any kind of produce for an estimated measure of the same kind of produce."

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے مزابنہ سے منع فرمایا ہے کہ اور مزابنہ یہ ہے کہ تر کھجوروں کو خشک کھجوروں کے عوض ناپ سے فروخت کرنا ، انگور کو ناپ سے کشمش کے عوض اور ہر پھل کو اندازے سے فروخت کرنا۔


حَدَّثَنِى عَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِىُّ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ - عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يُبَاعَ مَا فِى رُءُوسِ النَّخْلِ بِتَمْرٍ بِكَيْلٍ مُسَمًّى إِنْ زَادَ فَلِى وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَىَّ.

It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade Muzabanah. Muzabanah means selling what is up on the palm trees for dried dates of a specified amount (by saying), "If there is more it is mine and if there is less then I owe you."

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے مزابنہ سے منع فرمایا ہے کہ اور مزابنہ یہ ہے کہ درختوں پر لگی ہوئی کھجوروں کو معروف ناپ سے خشک کھجوروں کے عوض فروخت کیا جائے ، اور اس اعتبار سے کہ اگر زیادہ ہوں تو اس کا نفع میرا ، اور اگر کم ہو تو اس کا نقصان بھی مجھے ہے ۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

Ayyub narrated a similar report (as no. 3897) with this chain.

ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے ۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ الْمُزَابَنَةِ أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَ حَائِطِهِ إِنْ كَانَتْ نَخْلاً بِتَمْرٍ كَيْلاً وَإِنْ كَانَ كَرْمًا أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ كَيْلاً وَإِنْ كَانَ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلِ طَعَامٍ. نَهَى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ. وَفِى رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ أَوْ كَانَ زَرْعًا.

It was narrated that 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade Muzabanah, selling the produce of one's garden. If it is palm trees; for dried dates by measure, and if it is grapes; selling them for raisins by measure, and if it is unharvested produce; selling it for a measure of harvested produce. He forbade all of that."

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے مزابنہ سے منع فرمایا ہے اور مزابنہ یہ ہے کہ اگر باغ کے پھل کھجور ہوں تو ان کو خشک کھجوروں کے عوض ناپ کر ، اور اگر انگور ہوں تو ان کو کشمش کے عوض ناپ کر اور اگر اس کا کھیت ہو تو اس کو غلہ کے عوض ناپ کر فروخت کیا جائے ، آپﷺنے ان تمام بیوع سے منع فرمایا ہے ۔ قتیبہ کی روایت میں ، او کا ن زرعا ، کے الفاظ ہیں ۔


وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِى يُونُسُ ح وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى فُدَيْكٍ أَخْبَرَنِى الضَّحَّاكُ ح وَحَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ حَدَّثَنِى مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ كُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ.

A Hadith similar to theirs (i.e. Qutaiba and others, no. 3899) was narrated from Nafi' with this chain.

حضرت نافع سے اسی سند سے یہ روایت مروی ہے۔

15. باب مَنْ بَاعَ نَخْلاً عَلَيْهَا ثَمَرٌ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ بَاعَ نَخْلاً قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ».

It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Whoever sells date palms that have been pollinated, the produce belongs to the seller, unless the buyer stipulates otherwise."

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنےفرمایا: جس آدمی نے پیوند لگی کھجور کے درخت فروخت کیے ، تو اس کے پھل بیچنے والے کے ہیں ، ہاں اگر خریدار ان کی شرط لگائے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « أَيُّمَا نَخْلٍ اشْتُرِىَ أُصُولُهَا وَقَدْ أُبِّرَتْ فَإِنَّ ثَمَرَهَا لِلَّذِى أَبَّرَهَا إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَ الَّذِى اشْتَرَاهَا ».

It was narrated from Ibn 'Umar that the Messenger of Allah (s.a.w) said: "Any palm trees which are purchased and they have been pollinated, the produce belongs to the one who pollinated them, unless the one who buys them stipulates otherwise."

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس آدمی نے پورا درخت خرید لیا اس حال میں کہ اس میں پیوند لگایا گیا ہو تو اس درخت کا پھل پیوند لگانے والے کا ہے ، مگر یہ کہ خریدنے والا ان پھلوں کی شرط لگالے۔


وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « أَيُّمَا امْرِئٍ أَبَّرَ نَخْلاً ثُمَّ بَاعَ أَصْلَهَا فَلِلَّذِى أَبَّرَ ثَمَرُ النَّخْلِ إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ».

It was narrated from Ibn 'Umar that the Prophet (s.a.w) said: "Any person who pollinates palm trees then sells them, the produce of the palm tree belongs to the one who pollinated it, unless the buyer stipulates otherwise."

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس آدمی نے کھجور کے درخت میں پیوند لگایا ہو، پھر وہ اس کو بیچ دے تو اس درخت کے پھل پیوند لگانے والے کے ہوں گے ، ہاں اگر خریدنے والا اس کی شرط لگالے۔


وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ كِلاَهُمَا عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

A similar report (as no. 3903) was narrated from Nafi' with this chain.

ایک اور سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالاَ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « مَنِ ابْتَاعَ نَخْلاً بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلَّذِى بَاعَهَا إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ وَمَنِ ابْتَاعَ عَبْدًا فَمَالُهُ لِلَّذِى بَاعَهُ إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ».

It was narrated that 'Abdullah bin 'Umar said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'Whoever buys palm trees after they have been pollinated, their produce belongs to the seller, unless the buyer stipulates otherwise. Whoever buys a slave, his property belongs to the one who sold him, unless the buyer stipulated otherwise.'"

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو آدمی پیوند لگائے جانے کے بعد کھجور کا درخت خریدے تو اس کاپھل بیچنے والے کے لیے ہیں مگر یہ کہ خریدار اس کی شرط لگائے اور جو آدمی کسی غلام کو خریدے تو اس کا مال بیچنے والے کے لیے ہے مگر یہ کہ خریدنے والا اس کی شرط لگائے۔


وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِىِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.

A similar report (as no. 3905) was narrated from Az-Zuhri with this chain.

ایک اور سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔


وَحَدَّثَنِى حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى يُونُسُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِى سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ بِمِثْلِهِ.

Salim bin 'Abdullah bin 'Umar narrated that his father said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say..." a similar report (as no. 3905).

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: اس کے بعد حسب سابق روایت ہے ۔

16. بابُ النَّهْيِ عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَعَنِ الْمُخَابَرَةِ وَبَيْعِ الثَّمَرَةِ قَبْلَ بُدُوِّ صَلاَحِهَا وَعَنْ بَيْعِ الْمُعَاوَمَةِ وَهُوَ بَيْعُ السِّنِينَ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا جَمِيعًا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاَحُهُ وَلاَ يُبَاعُ إِلاَّ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ إِلاَّ الْعَرَايَا.

It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade Muhaqalah, Muzabanah and Mukhabarah, and selling produce before its goodness appears; it should not be sold except for Dinar and Dirham, except in the case of 'Araya."

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے محاقلہ ، مزابنہ ، اور مخابرہ سے منع فرمایا اور ظہور صلاحیت سے قبل پھلوں کی بیع سے منع کیا اور فرمایا: پھلوں کو صرف دینار اور درہم کے بدلے فروخت کیا جائے، سوائے بیع عرایا کے۔


وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ وَأَبِى الزُّبَيْرِ أَنَّهُمَا سَمِعَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ.

Jabir bin 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade..." and he mentioned something similar (to Hadith no. 3908).

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا ہے اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِىُّ أَخْبَرَنَا مَخْلَدُ بْنُ يَزِيدَ الْجَزَرِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى عَطَاءٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تُطْعِمَ وَلاَ تُبَاعُ إِلاَّ بِالدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ إِلاَّ الْعَرَايَا. قَالَ عَطَاءٌ فَسَّرَ لَنَا جَابِرٌ قَالَ أَمَّا الْمُخَابَرَةُ فَالأَرْضُ الْبَيْضَاءُ يَدْفَعُهَا الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ فَيُنْفِقُ فِيهَا ثُمَّ يَأْخُذُ مِنَ الثَّمَرِ. وَزَعَمَ أَنَّ الْمُزَابَنَةَ بَيْعُ الرُّطَبِ فِى النَّخْلِ بِالتَّمْرِ كَيْلاً. وَالْمُحَاقَلَةُ فِى الزَّرْعِ عَلَى نَحْوِ ذَلِكَ يَبِيعُ الزَّرْعَ الْقَائِمَ بِالْحَبِّ كَيْلاً.

It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade Mukhabarah, Muhaqalah and Muzabanah, and selling produce until it is fit to eat; it should not be sold except for Dirham and Dinar except in the case of 'Araya. ''Ata' said: "Jabir explained it to us and said: 'Mukhabarah refers to unused land which a man gives to another man who spends on it then (the owner) takes some of its produce in return. He said that Muzabanah means selling fresh dates on the tree for dried dates by measure, and Muhaqalah refers to something similar with regard to crops, where standing crops are sold for grains by measure."'

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے مخابرہ ، محاقلہ ، مزابنہ اور ان پھلوں کی بیع سے منع فرمایا ہے جو کھانے کے لائق نہ ہوں ، اور عرایا کے بغیر باقی پھل دینار اور درہم سے ہی فروخت کیے جائیں۔ عطاء کہتے ہیں کہ حضرت جابر نے ان الفاظ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: مخابرہ یہ ہے کہ ایک آدمی کسی کو غیر آباد زمین دے ،وہ اس میں خرچ کرے ، اور جب پیداوار ہو تو اس میں سے حصہ لے ، مزابنہ یہ ہے کہ مثلا تازہ کھجوروں کی خشک کھجوروں کے عوض وزن سے بیع کی جائے ۔محاقلہ کھیت میں اسی قسم کی بیع ہے مثلاً خوشوں میں گندم کی خشک گندم کے عوض وزن سے بیع کی جائے۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِى خَلَفٍ كِلاَهُمَا عَنْ زَكَرِيَّاءَ قَالَ ابْنُ أَبِى خَلَفٍ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِىٍّ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِى أُنَيْسَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الْمَكِّىُّ وَهُوَ جَالِسٌ عِنْدَ عَطَاءِ بْنِ أَبِى رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَأَنْ تُشْتَرَى النَّخْلُ حَتَّى تُشْقِهَ - وَالإِشْقَاهُ أَنْ يَحْمَرَّ أَوْ يَصْفَرَّ أَوْ يُؤْكَلَ مِنْهُ شَىْءٌ - وَالْمُحَاقَلَةُ أَنْ يُبَاعَ الْحَقْلُ بِكَيْلٍ مِنَ الطَّعَامِ مَعْلُومٍ وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يُبَاعَ النَّخْلُ بِأَوْسَاقٍ مِنَ التَّمْرِ وَالْمُخَابَرَةُ الثُّلُثُ وَالرُّبُعُ وَأَشْبَاهُ ذَلِكَ. قَالَ زَيْدٌ قُلْتُ لِعَطَاءِ بْنِ أَبِى رَبَاحٍ أَسَمِعْتَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَذْكُرُ هَذَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ نَعَمْ.

It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade Muhaqalah, Muzabanah and Mukhabarah, and buying palm trees until (their produce is) ripe. And ripening means that they turn red or yellow, or are fit to eat. Muhaqalah means selling the field for a known measure of food. Muzabanah means selling the palm tree for some Wasq of dried dates. Mukhabarah refers to a share, one-third or one-quarter and so on. Zaid said: "I said to 'Ata' bin Abi Rabah: 'Did you hear Jabir bin 'Abdullah narrate that from the Messenger of Allah (s.a.w)?' He said: 'Yes.'"

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے محاقلہ ، مزابنہ، اور مخابرہ سے منع فرمایا ہے، اور جب تک کھجوریں سرخ یا زرد نہ ہوں یا کھانے کے قابل نہ ہوں ان کی بیع سے منع فرمایا۔محاقلہ یہ ہے کہ کھیت کی فصل کو معلوم پیمانوں سے غلہ کے عوض بیچا جائے ، مزابنہ یہ ہے کہ تر کھجوروں کی چند وسق خشک کھجوروں کے عوض بیچا جائے اور مخابرہ کھیت کی پیداوار کی تہائی ، چوتھائی یا اس کی مثل کا لینا ہے ، زید کہتے ہیں کہ میں نے عطاء بن ابی رباح سے پوچھا : کیا تم نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے یہ سنا ہے کہ وہ اس تفسیر کو رسول اللہ ﷺسے نقل کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا: ہاں۔


وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ وَالْمُخَابَرَةِ وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرَةِ حَتَّى تُشْقِحَ. قَالَ قُلْتُ لِسَعِيدٍ مَا تُشْقِحُ قَالَ تَحْمَارُّ وَتَصْفَارُّ وَيُؤْكَلُ مِنْهَا.

It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade Muzabanah, Muhaqalah and Mukhabarah, and selling produce until it is ripe (Tushqih)." He said: "I said to Sa'eed: 'What does Tushqih mean?' He said: 'When they tum red or yellow and are fit to eat."'

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے مزابنہ ، محاقلہ اور مخابرہ سے منع فرمایا اور جب تک پھل سرخ یا زرد ، یا کھانے کے لائق نہ ہوجائے ان کی بیع سے منع فرمایا۔


حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِىُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِىُّ - وَاللَّفْظُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ - قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ وَسَعِيدِ بْنِ مِينَاءَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ وَالْمُعَاوَمَةِ وَالْمُخَابَرَةِ - قَالَ أَحَدُهُمَا بَيْعُ السِّنِينَ هِىَ الْمُعَاوَمَةُ - وَعَنِ الثُّنْيَا وَرَخَّصَ فِى الْعَرَايَا.

It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade Muhaqalah, Muzabanah, Mu'awamah and Mukhabarah - one of them said: selling years ahead is Mu'awamah - and exemption of something unspecified, but he granted a concession with regard to 'Araya.''

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے محاقلہ ، مزابنہ ، معاومہ اور مخابرہ سے منع فرمایا: راویوں میں سے کسی ایک نے کہاکہ معاومہ چند سالوں کی بیع کو کہتے ہیں ، اور آپﷺنے عرایا کے علاوہ بیع میں استثناء سے بھی منع فرمایا ہے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَعَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ - عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-. بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ لاَ يَذْكُرُ بَيْعُ السِّنِينَ هِىَ الْمُعَاوَمَةُ.

A similar report (as no. 3913) was narrated from Jabir from the Prophet (s.a.w), except that he did not mention: "Selling years ahead is Mu'awamah."

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے،مگر اس میں کئی سالوں کی بیع(معاومہ) کا ذکر نہیں ہے۔

17. باب كِرَاءِ الأَرْضِ

وَحَدَّثَنِى إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا رَبَاحُ بْنُ أَبِى مَعْرُوفٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ وَعَنْ بَيْعِهَا السِّنِينَ وَعَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَطِيبَ.

It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade leasing out land, selling it years ahead and selling produce until it is good (i.e. ready to eat)."

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺنے زمین کو کرایہ پر دینے اور اس کو کئی سالوں کے لیے بیچنے اور پھلوں کو مٹھاس آنے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِىُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ - يَعْنِى ابْنَ زَيْدٍ - عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ.

It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade leasing out land.

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺنے کرایہ پر زمین دینے سے منع فرمایا ہے۔


وَحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ - لَقَبُهُ عَارِمٌ وَهُوَ أَبُو النُّعْمَانِ السَّدُوسِىُّ - حَدَّثَنَا مَهْدِىُّ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا مَطَرٌ الْوَرَّاقُ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا فَإِنْ لَمْ يَزْرَعْهَا فَلْيُزْرِعْهَا أَخَاهُ ».

It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever has land, let him cultivate it, and if he does not cultivate it, he should let his brother cultivate it."'

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس آدمی کے پاس زمین ہو وہ اس میں کاشت کاری کرے، اگر وہ نہ کرے ، تو اپنے بھائی سے کاشت کاری کرائے۔


حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا هِقْلٌ - يَعْنِى ابْنَ زِيَادٍ - عَنِ الأَوْزَاعِىِّ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ لِرِجَالٍ فُضُولُ أَرَضِينَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ كَانَتْ لَهُ فَضْلُ أَرْضٍ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ ».

It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "One of the Companions of the Messenger of Allah (s.a.w) had some surplus land, and the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever has surplus land, let him cultivate it or lend it to his brother, but if he insists, let him keep his land."'

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ کےچند صحابہ کے پاس زائد زمینیں تھیں ۔ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : جس آدمی کے پاس فالتو زمین ہے وہ اس مین کھیتی باڑی کرے یا وہ زمین اپنے بھائی کو عطا (گفٹ) کردے اور اگر وہ لینے سے انکار کردے تو اپنی زمین اپنے پاس رکھے۔


وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ الرَّازِىُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ أَخْبَرَنَا الشَّيْبَانِىُّ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَخْنَسِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يُؤْخَذَ لِلأَرْضِ أَجْرٌ أَوْ حَظٌّ.

It was narrated that Jabir bin 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade taking rent or a share for land."

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے کرائے پر زمین دینے یا اس کا کوئی فائدہ حاصل کرنے سے منع فرمایا ہے۔


حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَزْرَعَهَا وَعَجَزَ عَنْهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ الْمُسْلِمَ وَلاَ يُؤَاجِرْهَا إِيَّاهُ ».

It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever has land, let him cultivate it. If he cannot cultivate it, or is unable to do so, let him lend it to his Muslim brother, but he should not take rent for it."'

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس آدمی کے پاس زمین ہو وہ اس میں کھیتی باڑی کرے اور اگر وہ نہ کرسکے ، اور کھیتی باڑی کرنے سے عاجز ہوجائے تو وہ زمین اپنے کسی مسلمان بھائی کو گفٹ کردے اور اس سے کرایہ نہ لے۔


وَحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ سَأَلَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى عَطَاءً فَقَالَ أَحَدَّثَكَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ وَلاَ يُكْرِهَا ». قَالَ نَعَمْ.

Hammam narrated: "Sulaiman bin Musa asked 'Ata': 'Did Jabir bin 'Abdullah tell you that the Prophet (s.a.w) said: "Whoever has land, let him cultivate it or let his brother cultivate it, and he should not lease it out"? He said: "Yes."

سلیمان بن موسی نے عطاء سے پوچھا کہ کیا آپ کو حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: جس کے پاس زمین ہو وہ اس میں کھیتی باڑی کرے ، یا پھر اپنے بھائی سے کھیتی باڑی کرائے ، اور اس کو کرایہ پر نہ دے ، عطاء نے کہا: ہاں۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنِ الْمُخَابَرَةِ.

It was narrated from Jabir that the Prophet (s.a.w) forbade Mukhabarah.

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے مخابرہ سے منع فرمایا ہے ۔(مخابرہ یہ ہے کہ ایک آدمی کسی کو غیر آباد زمیں دے ، وہ اس میں خرچ کرے اور جب پیداوار ہو تو اس میں سے حصہ لے۔)


وَحَدَّثَنِى حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- قَالَ « مَنْ كَانَ لَهُ فَضْلُ أَرْضٍ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ وَلاَ تَبِيعُوهَا ». فَقُلْتُ لِسَعِيدٍ مَا قَوْلُهُ وَلاَ تَبِيعُوهَا يَعْنِى الْكِرَاءَ. قَالَ نَعَمْ.

Jabir bin 'Abdullah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever has surplus land, let him cultivate it or let his brother cultivate it, and not sell it.' I said to Sa'eed: Does 'not sell it' refer to leasing? He said: 'Yes."'

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس آدمی کے پاس زائد زمیں ہو وہ اس میں کھیتی باڑی کرے ، یا اپنے بھائی سے کھیتی باڑی کرائے ،اور اس کو مت فروخت کرو۔راوی کہتا ہے کہ میں نے سعید سے پوچھا : فروخت کرنے کی ممانعت سے کرایہ پر دینا مرا د ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں جی۔


حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كُنَّا نُخَابِرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَنُصِيبُ مِنَ الْقِصْرِىِّ وَمِنْ كَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ فَلْيُحْرِثْهَا أَخَاهُ وَإِلاَّ فَلْيَدَعْهَا ».

It was narrated that Jabir said: "We used to rent (Khabir) land at the time of the Messenger of Allah (s.a.w) and we would get a share of the grain left in the ears after threshing and of such-and-such (a quantity). Then the Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever has land (surplus) let him cultivate it or let his brother till it, otherwise, let him leave it."'

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺکے زمانے میں زمین کو بٹائی پر دیتے تھے اور کوٹنے کے بعد خوشوں میں جو دانے رہ جاتے ہیں ان میں سے حصہ لیا کرتے تھے ، رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس آدمی کے پاس زمین ہو وہ اس میں کھیتی باڑی کرے یا اپنے بھائی سے کھیتی باڑی کرائے ورنہ زمین کو چھوڑ دے۔


حَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى جَمِيعًا عَنِ ابْنِ وَهْبٍ - قَالَ ابْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ - حَدَّثَنِى هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّىَّ حَدَّثَهُ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كُنَّا فِى زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَأْخُذُ الأَرْضَ بِالثُّلُثِ أَوِ الرُّبُعِ بِالْمَاذِيَانَاتِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى ذَلِكَ فَقَالَ « مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا فَإِنْ لَمْ يَزْرَعْهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ فَإِنْ لَمْ يَمْنَحْهَا أَخَاهُ فَلْيُمْسِكْهَا ».

Jabir bin 'Abdullah said: "At the time of the Messenger of Allah (s.a.w) we used to take land in return for one-third or one-quarter of that which grew along the water channels. The Messenger of Allah (s.a.w) addressed us concerning that and said: 'Whoever has land, let him cultivate it. If he does not cultivate it, let him lend it to his brother. If he does not lend it to his brother, let him keep it."'

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺکے زمانے میں نہروں کے کنارے والی زمین کو تہائی اور چوتھائی پیداوار پر لیا کرتے تھے۔رسول اللہ ﷺ(خطبہ کے لیے ) کھڑے ہوئے اور اس بارے میں فرمایا: جس آدمی کے پاس زمین ہو تو وہ اس میں کھیتی باڑی کرے اور اگر وہ اس میں کھیتی باڑی نہیں کرسکتا تو ا پنے کوعطاء کردے اور اگر وہ اپنے بھائی کو عطاء نہیں کرتا تو پھراپنے پاس رکھے۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا أَبُو سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَهَبْهَا أَوْ لِيُعِرْهَا ».

It was narrated that Jabir said: "I heard the Prophet (s.a.w) say: 'Whoever has land, let him donate it or lend it."'

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺنے فرمایا: جس آدمی کے پاس زمین ہو وہ اس کو ہبہ کردے، یا عاریتا دے دے۔


وَحَدَّثَنِيهِ حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ عَنِ الأَعْمَشِ بِهَذَا الإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ « فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ فَلْيُزْرِعْهَا رَجُلاً ».

It was narrated from Al-A'mash with this chain (a Hadith similar to no. 3926), except that he (s.a.w) said: "Let him cultivate it, or let his brother cultivate it."

ایک اور سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے لیکن اس میں یہ بھی ہے کہ اس زمین میں کھیتی باڑی کرے یا کسی اور آدمی سے کھیتی باڑی کرائے۔


وَحَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عَمْرٌو - وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ - أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِى سَلَمَةَ حَدَّثَهُ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ أَبِى عَيَّاشٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ.قَالَ بُكَيْرٌ وَحَدَّثَنِى نَافِعٌ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ كُنَّا نُكْرِى أَرْضَنَا ثُمَّ تَرَكْنَا ذَلِكَ حِينَ سَمِعْنَا حَدِيثَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ.

It was narrated from Jabir bin 'Abdullah that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade leasing out land. Bukhair said: "Nafi' told me that he heard Ibn 'Umar say: 'We used to lease out land, then we stopped doing that when we heard the Hadith of Rafi' bin Khadij."'

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے زمین کو کرایہ پر دینے سے منع فرمایا۔ راوی بکیر کہتے ہیں کہ نافع نے کہا کہ انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ فرماتے سنا کہ ہم اپنی زمینوں کو کرائے پر دیتے تھے ،پھر ہم نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے حدیث سن کر چھوڑدیا۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ بَيْعِ الأَرْضِ الْبَيْضَاءِ سَنَتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا.

It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade selling (leasing) unused land for two or three years."

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے خالی زمین کو دو یا تین سال کے لیے بیچنے سے منع فرمایا ہے۔(یعنی کرایہ پر دینے سے)


وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ. وَفِى رِوَايَةِ ابْنِ أَبِى شَيْبَةَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ سِنِينَ.

It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade selling years ahead." According to the report of Ibn Abi Shaibah: (the Messenger of Allah (s.a.w) forbade) "Selling produce for years ahead."

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے کئی سالوں کی بیع سے منع فرمایا اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ آپﷺنے کئی سالوں کے لیے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا۔


حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِىٍّ الْحُلْوَانِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ ».

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Whoever has land, let him cultivate it or lend it to his brother, and if he insists, let him keep his land."'

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا: جس آدمی کے پاس زمین ہو اس میں وہ کھیتی باڑی کرے ، یا وہ زمین اپنے بھائی کو عطا کردے ، ورنہ پھر اسے اپنے پاس رکھ دے۔


وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِى كَثِيرٍ أَنَّ يَزِيدَ بْنَ نُعَيْمٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَنْهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْحُقُولِ. فَقَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَابَنَةُ الثَّمَرُ بِالتَّمْرِ. وَالْحُقُولُ كِرَاءُ الأَرْضِ.

Jabir bin 'Abdullah narrated that he heard the Messenger of Allah (s.a.w) forbidding Muzabanah and Huqul. Jabir bin 'Abdullah said: "Muzabanah means selling fresh dates for dried dates, and Huqul means leasing out land (Kira')."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے مزابنہ اور حقول سے منع فرمایا ، مزابنہ ترکھجوروں کے عوض خشک کھجوروں والی بیع ہے۔اور حقول زمین کو کرایہ پر دینے کو کہتے ہیں۔


حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ - يَعْنِى ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِىَّ - عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِى صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ الْمُحَاقَلَةِ وَالْمُزَابَنَةِ.

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade Muhaqalah and Muzabanah."

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺنے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔


وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ مَوْلَى ابْنِ أَبِى أَحْمَدَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِىَّ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُحَاقَلَةِ. وَالْمُزَابَنَةُ اشْتِرَاءُ الثَّمَرِ فِى رُءُوسِ النَّخْلِ. وَالْمُحَاقَلَةُ كِرَاءُ الأَرْضِ.

Abu Sa'eed Al-Khudri said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade Muzabanah and Muhaqalah. Muzabanah means buying dates on the tops of the palm trees and Muhaqalah means leasing out land."

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا ہے۔اور مزابنہ درخت پر لگی ہوئی کھجوروں کو بیچنا ، اور محاقلہ زمین کو کرائے پر دینے کو کہتے ہیں۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِىُّ قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا وَقَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرٍو قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ كُنَّا لاَ نَرَى بِالْخِبْرِ بَأْسًا حَتَّى كَانَ عَامُ أَوَّلَ فَزَعَمَ رَافِعٌ أَنَّ نَبِىَّ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنْهُ.

It was narrated that 'Amr said: "I heard Ibn 'Umar say: 'We did not see anything wrong with renting out land until last year, then Rafi' said that the Prophet of Allah (s.a.w) had forbidden it."'

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم زمین کو بٹائی پر دینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے ، یہاں تک کہ جب پہلا سال آیا تو حضرت رافع رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺنے اس سے منع فرمایا ہے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ح وَحَدَّثَنِى عَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ - عَنْ أَيُّوبَ ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كُلُّهُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ. مِثْلَهُ وَزَادَ فِى حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ فَتَرَكْنَاهُ مِنْ أَجْلِهِ.

A similar report (as no. 3935) was narrated from 'Amr bin Dinar with this chain. In the Hadith of Ibn 'Uyaynah it adds: "So we stopped it because of that."

ایک اور سند سےبھی یہ حدیث مروی ہے لیکن اس میں یہ زیادہ ہے کہ ہم نے اس حدیث کی وجہ سے زمین کو بٹائی پر دینا چھوڑ دیا۔


وَحَدَّثَنِى عَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِى الْخَلِيلِ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ لَقَدْ مَنَعَنَا رَافِعٌ نَفْعَ أَرْضِنَا.

It was narrated that Mujahid said: "Ibn 'Umar said: 'Rafi' stopped us from benefiting from our land."'

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں حضرت رافع رضی اللہ عنہ نے زمین کی آمدنی سے روک دیا ہے۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُكْرِى مَزَارِعَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- وَفِى إِمَارَةِ أَبِى بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ وَصَدْرًا مِنْ خِلاَفَةِ مُعَاوِيَةَ حَتَّى بَلَغَهُ فِى آخِرِ خِلاَفَةِ مُعَاوِيَةَ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يُحَدِّثُ فِيهَا بِنَهْىٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَدَخَلَ عَلَيْهِ وَأَنَا مَعَهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَنْهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ. فَتَرَكَهَا ابْنُ عُمَرَ بَعْدُ. وَكَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْهَا بَعْدُ قَالَ زَعَمَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنْهَا.

It was narrated from Nafi' that Ibn 'Umar used to lease out his farmland at the time of the Prophet (s.a.w) and during the leadership of Abu Bakr, 'Umar and 'Uthman, and the beginning of the leadership of Mu'awiyah. Until, at the end of the leadership of Mu'awiyah, he heard that Rafi' bin Khadij narrated a Hadith in which (he mentioned) it was forbidden by the Prophet (s.a.w). He entered upon him, when I was with him, and asked him. He said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade leasing out farmland." Then Ibn 'Umar stopped doing that. When he was asked about that afterwards he said: "Rafi' bin Khadij said that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade it."

نافع سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی ﷺکے زمانے میں اور ابو بکر ، اور عمر، اور عثمان رضی اللہ عنہم کی حکومت میں ، اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ابتدائی دور میں اپنی زمینوں کو بٹائی پر دیا کرتے تھے ،یہاں تک کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت کے آخر میں انہیں حضرت رافع بن خدیج کی یہ حدیث پہنچی کہ نبی ﷺنے اس سے منع فرمایا ہے۔راوی نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے اور میں ان کے ساتھ تھا اور ان سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺزمینوں کو کرایہ پر دینے سے منع فرماتے تھے ، سو اس کے بعد حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ نے زمین کو کرایہ پر دینا ترک کردیا۔پھر جب ابن عمررضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں سوال پوچھا جاتا تو وہ فرماتے : رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺنے اس سے منع فرمایا ہے۔


وَحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو كَامِلٍ قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح وَحَدَّثَنِى عَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ كِلاَهُمَا عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الإِسْنَادِ. مِثْلَهُ وَزَادَ فِى حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ قَالَ فَتَرَكَهَا ابْنُ عُمَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَكَانَ لاَ يُكْرِيهَا.

A similar report (as no. 3938) was narrated from Ayyub with this chain. In the Hadith of Ibn 'Ulayyah it adds: "He said: 'Ibn 'Umar stopped doing it after that, and he did not lease it out."'

ایک اور سند سے بھی یہ حدیث منقول ہے اور اس میں ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد زمین کو کرائے پر دینا چھوڑ دیا۔


وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِى حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ قَالَ ذَهَبْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ إِلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ حَتَّى أَتَاهُ بِالْبَلاَطِ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ.

It was narrated that Nafi' said: "I went with Ibn 'Umar to Rafi' bin Khadij in Al-Balat, and he told him that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade leasing out farmland."

نافع فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ، یہاں تک کہ وہ بلاط میں گئے (مسجد نبوی کے قریب ایک جگہ کا نام ہے) تو رافع بن خدیج نے انہیں یہ حدیث سنائی کہ رسول اللہ ﷺنے کھیتی باڑی کی زمینوں کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔


وَحَدَّثَنِى ابْنُ أَبِى خَلَفٍ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالاَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ عَدِىٍّ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَيْدٍ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ أَتَى رَافِعًا فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-.

It was narrated from Ibn 'Umar that he went to Rafi'... and he narrated this Hadith (no. 3940) from the Prophet (s.a.w).

نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ حضرت رافع بن خدیج کے پاس گئے اور انہوں نے نبی ﷺکی یہ حدیث سنائی۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ-يَعْنِى ابْنَ حَسَنِ بْنِ يَسَارٍ-حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَأْجُرُ الأَرْضَ - قَالَ - فَنُبِّئَ حَدِيثًا عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ-قَالَ-فَانْطَلَقَ بِى مَعَهُ إِلَيْهِ -قَالَ-فَذَكَرَ عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِهِ ذَكَرَ فِيهِ عَنِ النَّبِىِّ-صلى الله عليه وسلم-أَنَّهُ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ. قَالَ فَتَرَكَهُ ابْنُ عُمَرَ فَلَمْ يَأْجُرْهُ.

It was narrated from Nafi' that Ibn 'Umar used to rent out land. Then he was told a Hadith from Rafi' bin Khadij. He said to him: "Come with me," and we went to him, and he narrated from some of his paternal uncles and said that the Prophet (s.a.w) had forbidden leasing out land. Then Ibn 'Umar stopped doing that and he did not rent it out.

نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ زمین کو کرائے پر دیتے تھے ۔ پھر ان کو حضرت رافع کی ایک حدیث سنائی گئی ، میں بھی ان کے ساتھ حضرت رافع کے پاس گیا ، حضرت رافع نے اپنے بعض چچاؤں سے نقل کیا کہ نبی ﷺنے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے ، پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے زمین کو کرائے پر دینا چھوڑ دیا۔


وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ فَحَدَّثَهُ عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم-.

Ibn 'Awn narrated (a Hadith as no. 3942) it with this chain, and he said: "He (Rafi') narrated to him from some of his paternal uncles, from the Prophet (s.a.w)."

ایک اور سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے کہ حضرت رافع نے اپنے بعض چچاؤں سے نبی ﷺکی یہ حدیث نقل کی۔


وَحَدَّثَنِى عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنِى أَبِى عَنْ جَدِّى حَدَّثَنِى عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ قَالَ أَخْبَرَنِى سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُكْرِى أَرَضِيهِ حَتَّى بَلَغَهُ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ الأَنْصَارِىَّ كَانَ يَنْهَى عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ فَقَالَ يَا ابْنَ خَدِيجٍ مَاذَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى كِرَاءِ الأَرْضِ قَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ لِعَبْدِ اللَّهِ سَمِعْتُ عَمَّىَّ - وَكَانَا قَدْ شَهِدَا بَدْرًا - يُحَدِّثَانِ أَهْلَ الدَّارِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ فِى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَّ الأَرْضَ تُكْرَى ثُمَّ خَشِىَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَحْدَثَ فِى ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يَكُنْ عَلِمَهُ فَتَرَكَ كِرَاءَ الأَرْضِ.

Salim bin 'Abdullah narrated that 'Abdullah bin 'Umar used to lease out his land, until he heard that Rafi' bin Khadij Al-Ansari forbade leasing out land. 'Abdullah met him and said: "O Ibn Khadij, what are you narrating from the Messenger of Allah (s.a.w) about leasing out land?" Rafi' bin Khadij said to 'Abdullah: "I heard my two paternal uncles, who had been present at (the battle of) Badr, narrating to the family, that the Messenger of Allah ~ forbade leasing out land." 'Abdullah said: "At the time of the Messenger of Allah (s.a.w) I knew that land could be leased out." Then 'Abdullah was afraid that the Messenger of Allah (s.a.w) had said something new that he did not know of, so he stopped leasing out land.

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ زمین کرائے پر دے دیتے تھے یہاں تک کہ انہیں یہ حدیث پہنچی کہ حضرت رافع بن خدیج انصاری زمین کو کرائے پر دینے سے منع کرتے ہیں ، پھر حضرت عبد اللہ نے ان سے ملاقات کی او رکہا: اے ابن خدیج! زمین کو کرایہ پر دینے کے بارے میں تم رسول اللہ ﷺسے کون سی حدیث بیان کرتے ہو؟ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: میں نے اپنے دو چچوں سے سنا ہے جو غزوہ بدر میں شریک ہوچکے ہیں ، وہ گھر والوں سے حدیث بیان کرتے تھے ، کہ رسو ل اللہ ﷺنے زمین کو کرایہ پر دینے سے منع کیا ہے ، حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺکے زمانے میں زمین کرائے پر دی جاتی تھی ، پھر حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ خوف ہوا کہ شاید رسول اللہ ﷺنے کوئی نیا حکم دیا ہو جس کا انہیں علم نہ ہو، سو انہوں نے زمین کو کرایہ پر دینا چھوڑ دیا۔

18. باب كِرَاءِ الأَرْضِ بِالطَّعَامِ

وَحَدَّثَنِى عَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِىُّ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالاَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ - وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ - عَنْ أَيُّوبَ عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ كُنَّا نُحَاقِلُ الأَرْضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَنُكْرِيهَا بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى فَجَاءَنَا ذَاتَ يَوْمٍ رَجُلٌ مِنْ عُمُومَتِى فَقَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَنَا نَافِعًا وَطَوَاعِيَةُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْفَعُ لَنَا نَهَانَا أَنْ نُحَاقِلَ بِالأَرْضِ فَنُكْرِيَهَا عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالطَّعَامِ الْمُسَمَّى وَأَمَرَ رَبَّ الأَرْضِ أَنْ يَزْرَعَهَا أَوْ يُزْرِعَهَا وَكَرِهَ كِرَاءَهَا وَمَا سِوَى ذَلِكَ.

It was narrated that Rafi' bin Khadij said: "We used to rent land at the time of the Messenger of Allah (s.a.w), leasing it for one-third or one-quarter (of the yield of a specified crop) and a specified amount of food. Then one day, one of my paternal uncles came to us and said: 'The Messenger of Allah (s.a.w) has forbidden to us something that was beneficial to us, but obedience to Allah and His Messenger is more beneficial to us. He forbade us to rent land and lease it for one-third or one-quarter (of the yield of a specified crop) and a specified amount of food, and he ordered the owner of the land to cultivate it or let it be cultivated, and he disliked leasing it out or anything else."'

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسو ل اللہ ﷺکے زمانے میں زمین کو کرائے پر دیا کرتے تھے ، ہم زمین کو تہائی ، چوتھائی پیداوار ، اور غلہ کی ایک معین مقدار کے عوض کرائے پر دیتے تھے ، ایک روز میرے پاس میرے چچاؤں میں سے کوئی ایک آیا اور کہا: رسو ل اللہ ﷺنے ہمیں ایک ایسے کام سے منع کیا جس میں ہمارے لیے نفع تھا اور اللہ اور رسول کی اطاعت میں زیادہ نفع ہے۔آپﷺنے ہمیں زمین کو کرایہ پر دینے سے منع فرمادیا۔ ہم زمین کو تہائی ، چوتھائی پیداور اور غلہ کی ایک معین مقدار کے بدلے دیتے تھے ، آپﷺنے زمین کے مالک کو یہ حکم دیا ہے کہ زمین کی کاشت خود کرے ، یا پھر کسی سے کرائے ،اور زمین کو کرایہ پر دینے کو اور اس کے علاوہ کام کو مکروہ فرمایا۔


وَحَدَّثَنَاهُ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ قَالَ كَتَبَ إِلَىَّ يَعْلَى بْنُ حَكِيمٍ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يُحَدِّثُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ كُنَّا نُحَاقِلُ بِالأَرْضِ فَنُكْرِيهَا عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ. ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ.

It was narrated that Rafi' bin Khadij said: "We used to rent land and lease it for one-third or one-quarter..." then he narrated a Hadith like that of Ibn 'Ulayyah (no. 3945).

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم زمین کو کرایہ پر تہائی ، اور چوتھائی پیداوار کے عوض بٹائی پر دیتے تھے ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی طرح ہے۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ح وَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِىٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ أَبِى عَرُوبَةَ عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ. مِثْلَهُ.

A similar report (as no. 3945) was narrated from Ya'la bin Hakim, with this chain.

ایک اور سند سے بھی یہ روایت اسی طرح منقول ہے ۔


وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَلَمْ يَقُلْ عَنْ بَعْضِ عُمُومَتِهِ.

It was narrated from Rafi' bin Khadij from the Prophet (s.a.w) (a Hadith similar to no. 3945) but he did not say: "From some of his paternal uncles."

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺسے روایت کی ، اور اس میں یہ نہیں کہا کہ میرے بعض چچوں سے روایت ہے ۔


حَدَّثَنِى إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْهِرٍ حَدَّثَنِى يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنِى أَبُو عَمْرٍو الأَوْزَاعِىُّ عَنْ أَبِى النَّجَاشِىِّ مَوْلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ رَافِعٍ أَنَّ ظُهَيْرَ بْنَ رَافِعٍ - وَهُوَ عَمُّهُ - قَالَ أَتَانِى ظُهَيْرٌ فَقَالَ لَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ أَمْرٍ كَانَ بِنَا رَافِقًا. فَقُلْتُ وَمَا ذَاكَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَهُوَ حَقٌّ. قَالَ سَأَلَنِى كَيْفَ تَصْنَعُونَ بِمَحَاقِلِكُمْ فَقُلْتُ نُؤَاجِرُهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَى الرَّبِيعِ أَوِ الأَوْسُقِ مِنَ التَّمْرِ أَوِ الشَّعِيرِ. قَالَ « فَلاَ تَفْعَلُوا ازْرَعُوهَا أَوْ أَزْرِعُوهَا أَوْ أَمْسِكُوهَا ».

It was narrated from Abu An-Najashi, the freed slave of Rafi' bin Khadij, from Rafi', that Zuhair bin Rafi' -who was his paternal uncle - (He) said: "Zuhair came to me and said: 'The Messenger of Allah (s.a.w) forbade something that was beneficial for us.' I said: 'What is that? Whatever the Messenger of Allah (s.a.w) says is right.' He said: 'He asked me: "What do you do with your fields?" I said: "We rent them, O Messenger of Allah, in return for (what grows on the edge) of the spring, or for several Wasq of dates or barley." He said: "Do not do that. Cultivate them, or let them be cultivated by others, or keep them."

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے چچا ظہیر بن رافع میرے پاس آئے اور کہا کہ رسول اللہ نے ہمیں ایک ایسے کام سے روک دیا ہے ، جس میں ہمارا فائدہ تھا، میں نے پوچھا : وہ کیا ہے ؟ رسو ل اللہ ﷺنے جو بھی فرمایا ہے وہ حق ہے ۔حضرت ظہیر بن رافع نے کہا: رسول اللہ ﷺنے مجھ سے پوچھا : تم اپنے کھیتوں میں کیا کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ﷺ!ہم اپنی زمین کو چوتھائی پیداوار یا کھجور اور جو کے معین وسق کے عوض اجرت پر دیتے ہیں ، آپﷺنے فرمایا : یہ نہ کرو، اس کو خود کاشت کرو، یا کسی سے کاشت کراؤ، یا اس کو اپنے پاس رکھو۔


حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِىٍّ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ عَنْ أَبِى النَّجَاشِىِّ عَنْ رَافِعٍ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- بِهَذَا وَلَمْ يَذْكُرْ عَنْ عَمِّهِ ظُهَيْرٍ.

This was narrated from Rafi' from the Prophet )s.a.w), (a Hadith similar to no. 3949) but he did not say: "From the paternal uncle of Zuhair."

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺسے مذکورہ بالا حدیث بیان کی ہے ۔ لیکن اس میں ان کے چچا ظہیر کا ذکر نہیں ہے۔

19. باب كِرَاءِ الأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِى عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ قَالَ فَقُلْتُ أَبِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَقَالَ أَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَلاَ بَأْسَ بِهِ.

It was narrated from Hanzalah bin Qais that he asked Rafi' bin Khadij about leasing out land. He said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade leasing out land." I said: "For gold and silver?" He said: "As for (leasing it for) gold and silver, there is nothing wrong with that."

حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں پوچھا ، تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺنے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے ، حنظلہ کہتے ہیں میں نے پوچھا : سونے اور چاندی کے بدلے زمین کو اجرت پر دیا جاسکتا ہے ؟ انہوں نے کہا: سونے اور چاندے کے بدلے میں کوئی حرج نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِىُّ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِى عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنِى حَنْظَلَةُ بْنُ قَيْسٍ الأَنْصَارِىُّ قَالَ سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَقَالَ لاَ بَأْسَ بِهِ إِنَّمَا كَانَ النَّاسُ يُؤَاجِرُونَ عَلَى عَهْدِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى الْمَاذِيَانَاتِ وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ وَأَشْيَاءَ مِنَ الزَّرْعِ فَيَهْلِكُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَسْلَمُ هَذَا وَيَهْلِكُ هَذَا فَلَمْ يَكُنْ لِلنَّاسِ كِرَاءٌ إِلاَّ هَذَا فَلِذَلِكَ زُجِرَ عَنْهُ. فَأَمَّا شَىْءٌ مَعْلُومٌ مَضْمُونٌ فَلاَ بَأْسَ بِهِ.

Hanzalah bin Qais Al-Ansari said: "I asked Rafi' bin Khadij about leasing out land for gold and silver. He said: 'There is nothing wrong with that. Rather at the time of the Prophet (s.a.w) the people used to rent land in return for what grows along the water channels, and at the springs, and in some parts of the fields, but one part would be destroyed while another part would be safe, or vice versa, and this was the only way in which people leased out land. So this was forbidden. As for something that is specified and guaranteed, there is nothing wrong with it."'

حنظلہ بن قیس انصاری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سونے اور چاندی کےبدلے زمین کو اجرت پر دینے کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں ، لوگ رسول اللہ ﷺکے زمانے میں نہروں کے کناروں اور نالوں کے ساتھ والی زمین کو پیداوار کے عوض کرائے پر دیتے تھے۔سو اس زمین کی فصل تباہ ہوجاتی اور دوسری زمین کی فصل سلامت رہتی اور بسا اوقات یہ فصل بچ جاتی اور دوسری تلف ہوجاتی، پھر لوگوں کو باقی ماندہ فصل کے علاوہ اور کچھ کرایہ نہ ملتا ، اس وجہ سے رسول اللہ ﷺنے کرائے پر دینے سے منع فرمادیا۔ البتہ اگر کرایہ کا معاوضہ کوئی معین چیز ہو جس کے تلف نہ ہونے کی ضمانت ہوتو کوئی حرج نہیں ہے۔


حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ حَنْظَلَةَ الزُّرَقِىِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ يَقُولُ كُنَّا أَكْثَرَ الأَنْصَارِ حَقْلاً - قَالَ - كُنَّا نُكْرِى الأَرْضَ عَلَى أَنَّ لَنَا هَذِهِ وَلَهُمْ هَذِهِ فَرُبَّمَا أَخْرَجَتْ هَذِهِ وَلَمْ تُخْرِجْ هَذِهِ فَنَهَانَا عَنْ ذَلِكَ وَأَمَّا الْوَرِقُ فَلَمْ يَنْهَنَا.

It was narrated from Hanzalah Az-Zuraqi that he heard Rafi' bin Khadij say: "We had the most land among the Ansar, and we used to lease out land on the basis that we would have the produce of this part, and they would have the produce of that, and perhaps one part would yield produce and the other part would not. So he forbade us to do that. As for silver, he did not forbid us."

حنظلہ زرقی کہتے ہیں کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے فرمایا : لوگوں میں سب سے زیادہ کھیت ہم انصار والوں کے پاس ہوتے تھے ،ہم زمینوں کو اس طریقہ پر کرایہ پر دیتے تھے کہ زمین کے اس حصے کی پیداوار ہمار ی ہے اور اس حصے کی پیداوار کاشت کاروں کی ہے ۔ کبھی کبھار زمین کے اس حصے میں پیداوار ہوتی تھی اور دوسرے حصہ میں نہیں ہوتی تھی،تو رسول اللہ ﷺنے ہمیں اس سے منع کیا ، البتہ چاندی کے عوض اجرت پر دینے سے نہیں روکا۔


حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ.

A similar report (as no. 3953) was narrated from Yahya bin Sa'eed, with this chain.

ایک اور سند سے بھی اسی طرح مروی ہے۔

20. باب فِي الْمُزَارَعَةِ وَالْمُؤَاجَرَةِ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِىُّ بْنُ مُسْهِرٍ كِلاَهُمَا عَنِ الشَّيْبَانِىِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْقِلٍ عَنِ الْمُزَارَعَةِ فَقَالَ أَخْبَرَنِى ثَابِتُ بْنُ الضَّحَّاكِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنِ الْمُزَارَعَةِ. وَفِى رِوَايَةِ ابْنِ أَبِى شَيْبَةَ نَهَى عَنْهَا. وَقَالَ سَأَلْتُ ابْنَ مَعْقِلٍ. وَلَمْ يُسَمِّ عَبْدَ اللَّهِ.

It was narrated that 'Abdullah bin As-Sa'ib said: "I asked 'Abdullah bin Ma'qil about Muzara'ah. He said: 'Thabit bin Ad-Dahhak told me that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade Muzara'ah."' According to the report of Ibn Abi Shaibah: "He (s.a.w) forbade it." And he said: "I asked Ibn Ma'qil," but he did not name him as 'Abdullah.

عبد اللہ بن سائب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن معقل رضی اللہ عنہ سے مزارعت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: مجھے حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنائی کہ رسول اللہ ﷺنے مزارعت سے منع کیا ہے۔اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے کہ اس سے روکا اور ابن معقل کا لفظ ہے ، عبد اللہ کا لفظ نہیں۔


حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِىِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ فَسَأَلْنَاهُ عَنِ الْمُزَارَعَةِ فَقَالَ زَعَمَ ثَابِتٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- نَهَى عَنِ الْمُزَارَعَةِ وَأَمَرَ بِالْمُؤَاجَرَةِ وَقَالَ « لاَ بَأْسَ بِهَا ».

It was narrated that 'Abdullah bin As-Sa'ib said: "We entered upon 'Abdullah bin Ma'qil and asked him about Muzara'ah. He said: 'Thabit said that the Messenger of Allah (s.a.w) forbade Muzara'ah and enjoined Mu'ajarah (renting out land), and he said: There is nothing wrong with it.'"

عبد اللہ بن سائب کہتے ہیں ہم عبد اللہ بن معقل رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، اور ان سے مزارعت کے بارے میں سوال پوچھا ، انہوں نے کہا: حضرت ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺنے مزارعت سے منع کیا ، اور زمین کو اجرت پر دینے کا حکم دیا ہے ، اور کہا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

123