- احادیثِ نبوی ﷺ

 

‹ First234

31. بَابُ الْأَمْرِ بِتَسْوِيَةِ الْقَبْرِ

وَحَدَّثَنِى أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِى عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ح وَحَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِى عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ - فِى رِوَايَةِ أَبِى الطَّاهِرِ - أَنَّ أَبَا عَلِىٍّ الْهَمْدَانِىَّ حَدَّثَهُ - وَفِى رِوَايَةِ هَارُونَ - أَنَّ ثُمَامَةَ بْنَ شُفَىٍّ حَدَّثَهُ قَالَ كُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِأَرْضِ الرُّومِ بِرُودِسَ فَتُوُفِّىَ صَاحِبٌ لَنَا فَأَمَرَ فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ بِقَبْرِهِ فَسُوِّىَ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَأْمُرُ بِتَسْوِيَتِهَا.

'Amr bin Al-Harith narrated: "We were with Fadalah bin 'Ubaid in the land of the Romans, in Rudis, and a companion of ours died. Fadalah bin 'Ubaid ordered that his grave be leveled, then he said: 'I heard the Messenger of Allah (s.a.w) ordering that graves be leveled."'

حضرت ثمامہ بن شفی سے روایت ہے کہ ہم فضالہ بن عبید کے ساتھ روم کے شہر رُودِس میں تھے ہمارے ایک ساتھی کا انتقال ہوگیا تو حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ نےحکم دیا کہ ان کی قبر (زمین کے)برابر کردی جائےاور بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺقبروں کو ہموار کرنے کا حکم فرمایا کرتے تھے ۔


حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِى ثَابِتٍ عَنْ أَبِى وَائِلٍ عَنْ أَبِى الْهَيَّاجِ الأَسَدِىِّ قَالَ قَالَ لِى عَلِىُّ بْنُ أَبِى طَالِبٍ أَلاَّ أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ لاَ تَدَعَ تِمْثَالاً إِلاَّ طَمَسْتَهُ وَلاَ قَبْرًا مُشْرِفًا إِلاَّ سَوَّيْتَهُ.

It was narrated that Abu Al-Hayyaj Al-Asadi said: 'Ali bin Abi Talib said to me: "Shall I not send you on the same mission as the Messenger of Allah (s.a.w) sent me (saying): 'Do not leave any statue without destroying it nor any raised grave without leveling it."'

حضرت ابو الہیاج اسدی سے روایت ہے۔ مجھے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کیا میں تجھے اس کام کے لئے نہ بھیجوں جس کام کے لئے مجھے رسول اللہ ﷺنے بھیجا تھا کہ میں ہر مجسمے(تصویر )کو مٹادوں اور ہر اونچی قبر کو (زمین کے )برابر کردوں۔


وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلاَّدٍ الْبَاهِلِىُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى - وَهُوَ الْقَطَّانُ - حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِى حَبِيبٌ بِهَذَا الإِسْنَادِ وَقَالَ وَلاَ صُورَةً إِلاَّ طَمَسْتَهَا.

Habib narrated it with this chain (a similar Hadith as no. 2343) and he said: "...or any image without erasing it."

ایک اور سند سے ایسی ہی روایت ہے لیکن اس میں صورت کا لفظ ہے۔(جبکہ پچھلی روایت میں تمثال کا لفظ ذکر ہوا ہے)

32. بَاب النَّهْيِ عَنْ تَجْصِيصِ الْقَبْرِ وَالْبِنَاءِ عَلَيْهِ

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يُجَصَّصَ الْقَبْرُ وَأَنْ يُقْعَدَ عَلَيْهِ وَأَنْ يُبْنَى عَلَيْهِ.

It was narrated that Jabir said: "The Messenger of Allah (s.a.w) forbade plastering graves, sitting on them and erecting structures over them."

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے قبروں کو پختہ بنانے اور ان پر بیٹھنے اور ان پر عمارت تعمیر کرنے سے منع فرمایا ہے۔


وَحَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ح وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِى أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- بِمِثْلِهِ.

Abu Az-Zubair narrated that he heard Jabir bin 'Abdullah say: "I heard the Prophet (s.a.w)..." a similar report (as no. 2245).

ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت ہے۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِى الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ نُهِىَ عَنْ تَقْصِيصِ الْقُبُورِ.

It was narrated that Jabir said: "It was forbidden to plaster graves."

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے قبروں کو پختہ بنانے سے منع فرمایا ہے۔

33. بَابُ النَّهْيِ عَن الْجُلُوسِ عَلَى الْقَبْرِ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ

وَحَدَّثَنِى زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ فَتُحْرِقَ ثِيَابَهُ فَتَخْلُصَ إِلَى جِلْدِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ عَلَى قَبْرٍ ».

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'If one of you were to sit on an ember which burned his garment and reached his skin, that would be better for him than sitting on a grave."'

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا تم میں سے اگر کوئی شخص انگارے پر بیٹھ جائے اس کے کپڑے جل جائیں اور آگ اس کی کھال تک پہنچ جائے تو یہ قبر پر بیٹھنے سے بہتر ہے۔


وَحَدَّثَنَاهُ قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ - يَعْنِى الدَّرَاوَرْدِىَّ ح وَحَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِىُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ كِلاَهُمَا عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الإِسْنَادِ. نَحْوَهُ.

A similar report (as no. 2248) was narrated from Suhail with this chain.

ایک اور سند سے بھی ایسی ہی روایت منقول ہے۔


وَحَدَّثَنِى عَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِىُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنِ ابْنِ جَابِرٍ عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ وَاثِلَةَ عَنْ أَبِى مَرْثَدٍ الْغَنَوِىِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « لاَ تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ وَلاَ تُصَلُّوا إِلَيْهَا ».

It was narrated that Abu Marthad Al-Ghanawi said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'Do not sit on graves and do not pray towards them.'"

حضرت ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: قبروں پر مت بیٹھو اور نہ ہی ان کی طرف نماز پڑھو۔


وَحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ الْبَجَلِىُّ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِى إِدْرِيسَ الْخَوْلاَنِىِّ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الأَسْقَعِ عَنْ أَبِى مَرْثَدٍ الْغَنَوِىِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « لاَ تُصَلُّوا إِلَى الْقُبُورِ وَلاَ تَجْلِسُوا عَلَيْهَا ».

It was narrated that Abu Marthad Al-Ghanawl said: "I heard the Messenger of Allah (s.a.w) say: 'Do not pray towards graves and do not sit on them."'

حضرت ابومرثد غنوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قبروں کی طرف نماز مت پڑھو اور نہ ہی ان پر بیٹھو۔

34. بَابُ الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ فِي الْمَسْجِدِ

وَحَدَّثَنِى عَلِىُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِىُّ وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِىُّ - وَاللَّفْظُ لإِسْحَاقَ - قَالَ عَلِىٌّ حَدَّثَنَا وَقَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ أَمَرَتْ أَنْ يُمَرَّ بِجَنَازَةِ سَعْدِ بْنِ أَبِى وَقَّاصٍ فِى الْمَسْجِدِ فَتُصَلِّىَ عَلَيْهِ فَأَنْكَرَ النَّاسُ ذَلِكَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ مَا أَسْرَعَ مَا نَسِىَ النَّاسُ مَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ الْبَيْضَاءِ إِلاَّ فِى الْمَسْجِدِ.

It was narrated from 'Abbad bin 'Abdullah bin Az-Zubair that 'Aishah issued orders that the funeral of Sa'd bin Abi Waqqas be brought into the Masjid and the funeral prayer be offered for him. The people objected to that, but she said: "How quickly the people forget! The Prophet (s.a.w) did not offer the funeral prayer for Suhail bin Al-Baida' except in the Masjid."

حضرت عباد بن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حکم دیا کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جنازہ مسجد میں لایا جائے تاکہ وہ بھی اس پر نماز جنازہ پڑھیں لوگوں نے اس بات پر اعتراض کیا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا لوگ کتنی جلدی بھول گئے کہ رسول اللہ ﷺنے سہیل بن بیضاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نماز جنازہ مسجد میں ہی پڑھی تھی۔


وَحَدَّثَنِى مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا لَمَّا تُوُفِّىَ سَعْدُ بْنُ أَبِى وَقَّاصٍ أَرْسَلَ أَزْوَاجُ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- أَنْ يَمُرُّوا بِجَنَازَتِهِ فِى الْمَسْجِدِ فَيُصَلِّينَ عَلَيْهِ فَفَعَلُوا فَوُقِفَ بِهِ عَلَى حُجَرِهِنَّ يُصَلِّينَ عَلَيْهِ أُخْرِجَ بِهِ مِنْ بَابِ الْجَنَائِزِ الَّذِى كَانَ إِلَى الْمَقَاعِدِ فَبَلَغَهُنَّ أَنَّ النَّاسَ عَابُوا ذَلِكَ وَقَالُوا مَا كَانَتِ الْجَنَائِزُ يُدْخَلُ بِهَا الْمَسْجِدَ. فَبَلَغَ ذَلِكَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ مَا أَسْرَعَ النَّاسَ إِلَى أَنْ يَعِيبُوا مَا لاَ عِلْمَ لَهُمْ بِهِ. عَابُوا عَلَيْنَا أَنْ يُمَرَّ بِجَنَازَةٍ فِى الْمَسْجِدِ وَمَا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ إِلاَّ فِى جَوْفِ الْمَسْجِدِ.

It was narrated from 'Aishah that when Sa'd bin Abi Waqqas died, the wives of the Prophet (s.a.w) sent word telling them to bring his funeral into the Masjid so that they might offer the funeral prayer for him, and they did so. It was placed in front of their apartments so that they could offer the prayer for him, then it was taken out through Bab Al-Jana'iz (the Gate of Funerals) which was near a place where people used to sit. Then they heard that the people were criticizing them for that and saying that funerals would not be brought into the Masjid. News of that reached 'Alshah and she said: "How quick the people are to criticize that of which they have no knowledge! They criticized us for bringing a funeral into the Masjid, but the Messenger of Allah (s.a.w) did not offer the funeral prayer for Suhail bin Baida' except in the Masjid." Muslim said: (That is) Suhail bin Da'd, and he is Ibn Al-Baida', his mother was Baida'.

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں جب سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہو گیا تو نبیﷺکی بیویوں نے پیغام بھجوایا کہ ان کا جنازہ مسجد میں لے آؤ تاکہ وہ بھی نماز جنازہ ادا کرلیں لوگوں نے ایسا ہی کیا اور ان کے حجروں کے آگے جنازہ رکھ دیا گیا تاکہ وہ اس پر نماز جنازہ ادا کرلیں پھر جنازہ کو مقاعد کی طرف باب الجنائز سے باہر لے جایا گیا ، جب صحابہ کو اس کا پتا چلا تو انہوں نے اس پر اعتراض کیا اور کہا جنازے کو مساجد میں نہیں لے جایا جاتا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا لوگ کس قدر جلد اس بات پر اعتراض کرنے لگے ہیں جس کو وہ نہیں جانتے ، وہ جنازہ کو مسجد میں لائے جانے پر اعتراض کررہے ہیں حالانکہ رسول اللہ ﷺنے سہیل بن بیضاء کی نماز جنازہ مسجد ہی میں پڑھی تھی۔


وَحَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ - وَاللَّفْظُ لاِبْنِ رَافِعٍ - قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى فُدَيْكٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ - يَعْنِى ابْنَ عُثْمَانَ - عَنْ أَبِى النَّضْرِ عَنْ أَبِى سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ لَمَّا تُوُفِّىَ سَعْدُ بْنُ أَبِى وَقَّاصٍ قَالَتِ ادْخُلُوا بِهِ الْمَسْجِدَ حَتَّى أُصَلِّىَ عَلَيْهِ. فَأُنْكِرَ ذَلِكَ عَلَيْهَا فَقَالَتْ وَاللَّهِ لَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَلَى ابْنَىْ بَيْضَاءَ فِى الْمَسْجِدِ سُهَيْلٍ وَأَخِيهِ. قَالَ مُسْلِمٌ سُهَيْلُ بْنُ دَعْدٍ وَهُوَ ابْنُ الْبَيْضَاءِ أُمُّهُ بَيْضَاءُ.

It was narrated from Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman that when Sa'd bin Abi Waqqas? died, 'Aishah said: "Bring him into the Masjid so that I may offer the funeral prayer for him. She was criticized for that but she said: 'By Allah, the Messenger of Allah (s.a.w) offered the funeral prayer for the two sons of Baida' in the Masjid, Suhail and his brother."'

حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ جب سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا انتقال ہوا تو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا جنازہ مسجد میں لے آؤ تاکہ میں ان پر نماز جنازہ پڑھوں لوگوں نے اس بات پر اعتراض کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺنے بیضاء کے دو بیٹوں سہیل اور اس کے بھائی کا جنازہ مسجد میں پڑھا تھا۔

35. بَاب مَا يُقَالُ عِنْدَ دُخُولِ الْقُبُورِ وَالدُّعَاءِ لِأَهْلِهَا

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِىُّ وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شَرِيكٍ - وَهُوَ ابْنُ أَبِى نَمِرٍ - عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- - كُلَّمَا كَانَ لَيْلَتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- - يَخْرُجُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقُولُ « السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَأَتَاكُمْ مَا تُوعَدُونَ غَدًا مُؤَجَّلُونَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لاَحِقُونَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لأَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ ». وَلَمْ يُقِمْ قُتَيْبَةُ قَوْلَهُ « وَأَتَاكُمْ ».

It was narrated that 'Aishah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) - every time it was her night with the Messenger of Allah (s.a.w) - used to go out at the end of the night to Al-Baqi' and say: 'Peace be upon you, O abode of believing people. What you were promised will come to you soon, after some delay, and we - if Allah wills - will join you soon. O Allah, forgive the people of Baqi' Al-Gharqad."'

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جب میری باری کی رات ہوتی تو رسول اللہ ﷺرات کے آخری حصہ میں بقیع قبرستان کی طرف تشریف لے جاتے اور فرماتے : اے مؤمنین کی جماعت ! "السلام علیکم دار قوم مؤمنین واتاکم ما توعدون غدا مؤجلون وانا ان شاء اللہ بکم لاحقون اللہم اغفر لاھل بقیع الغرقد"(ترجمہ) تمہارے پاس وہ چیز آچکی ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا ۔ ان شاء اللہ ہم بھی تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں اے اللہ ! بقیع غرقد والوں کی مغفرت فرما!۔ قتیبہ نے "اتاکم" کا لفظ ذکر نہیں کیا۔


وَحَدَّثَنِى هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِىُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ قَيْسٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تُحَدِّثُ فَقَالَتْ أَلاَ أُحَدِّثُكُمْ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- وَعَنِّى. قُلْنَا بَلَى ح وَحَدَّثَنِى مَنْ سَمِعَ حَجَّاجًا الأَعْوَرَ - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى عَبْدُ اللَّهِ - رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ - عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسِ بْنِ مَخْرَمَةَ بْنِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهُ قَالَ يَوْمًا أَلاَ أُحَدِّثُكُمْ عَنِّى وَعَنْ أُمِّى قَالَ فَظَنَنَّا أَنَّهُ يُرِيدُ أُمَّهُ الَّتِى وَلَدَتْهُ. قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ أَلاَ أُحَدِّثُكُمْ عَنِّى وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم-. قُلْنَا بَلَى. قَالَ قَالَتْ لَمَّا كَانَتْ لَيْلَتِىَ الَّتِى كَانَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- فِيهَا عِنْدِى انْقَلَبَ فَوَضَعَ رِدَاءَهُ وَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عِنْدَ رِجْلَيْهِ وَبَسَطَ طَرَفَ إِزَارِهِ عَلَى فِرَاشِهِ فَاضْطَجَعَ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلاَّ رَيْثَمَا ظَنَّ أَنْ قَدْ رَقَدْتُ فَأَخَذَ رِدَاءَهُ رُوَيْدًا وَانْتَعَلَ رُوَيْدًا وَفَتَحَ الْبَابَ فَخَرَجَ ثُمَّ أَجَافَهُ رُوَيْدًا فَجَعَلْتُ دِرْعِى فِى رَأْسِى وَاخْتَمَرْتُ وَتَقَنَّعْتُ إِزَارِى ثُمَّ انْطَلَقْتُ عَلَى إِثْرِهِ حَتَّى جَاءَ الْبَقِيعَ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ انْحَرَفَ فَانْحَرَفْتُ فَأَسْرَعَ فَأَسْرَعْتُ فَهَرْوَلَ فَهَرْوَلْتُ فَأَحْضَرَ فَأَحْضَرْتُ فَسَبَقْتُهُ فَدَخَلْتُ فَلَيْسَ إِلاَّ أَنِ اضْطَجَعْتُ فَدَخَلَ فَقَالَ « مَا لَكِ يَا عَائِشُ حَشْيَا رَابِيَةً ». قَالَتْ قُلْتُ لاَ شَىْءَ. قَالَ « لَتُخْبِرِينِى أَوْ لَيُخْبِرَنِّى اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ ». قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِى أَنْتَ وَأُمِّى. فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ « فَأَنْتِ السَّوَادُ الَّذِى رَأَيْتُ أَمَامِى ». قُلْتُ نَعَمْ. فَلَهَدَنِى فِى صَدْرِى لَهْدَةً أَوْجَعَتْنِى ثُمَّ قَالَ « أَظَنَنْتِ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ ». قَالَتْ مَهْمَا يَكْتُمِ النَّاسُ يَعْلَمْهُ اللَّهُ نَعَمْ. قَالَ « فَإِنَّ جِبْرِيلَ أَتَانِى حِينَ رَأَيْتِ فَنَادَانِى فَأَخْفَاهُ مِنْكِ فَأَجَبْتُهُ فَأَخْفَيْتُهُ مِنْكِ وَلَمْ يَكُنْ يَدْخُلُ عَلَيْكِ وَقَدْ وَضَعْتِ ثِيَابَكِ وَظَنَنْتُ أَنْ قَدْ رَقَدْتِ فَكَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَكِ وَخَشِيتُ أَنْ تَسْتَوْحِشِى فَقَالَ إِنَّ رَبَّكَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَأْتِىَ أَهْلَ الْبَقِيعِ فَتَسْتَغْفِرَ لَهُمْ ». قَالَتْ قُلْتُ كَيْفَ أَقُولُ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ « قُولِى السَّلاَمُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَيَرْحَمُ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنَّا وَالْمُسْتَأْخِرِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بِكُمْ لَلاَحِقُونَ ».

It was narrated that Muhammad bin Qais bin Makhramah bin Al-Muttalib said one day: "Shall I not narrate to you from me and from my mother?" He (the narrator) said: "We thought that he meant his mother who had given birth to him." He said: 'Aishah said: 'Shall I not narrate to you from me and from the Messenger of Allah (s.a.w)?' We said: 'Yes.' She said: 'When it was my night while the Messenger of Allah (s.a.w) was with me, he came in and took off his Rida', took off his sandals and put them by his feet, spread the edge of his waist wrapper on his bed and lay down. He waited until he thought that I had gone to sleep, then he slowly picked up his Rida', slowly put on his sandals, opened the door slowly, and went out, then he closed it slowly. I put my chemise over my head and covered my head, and wrapped my waist wrapper around me, then I set out following him, until he reached Al-Baqi' where he stood for a long time, then he raised his hands three times. Then he set off, so I set off, then he hastened so I hastened, then he jogged, so I jogged, then he ran so I ran then I reached home before him and went in. No sooner had I laid down but he came in and said: "What is the matter, O 'Aish? Why are you out of breath?" I said: "It is nothing." He said: "Either you tell me or the Subtle One, the All-Aware will tell me." I said: "O Messenger of Allah, may my father and mother be sacrificed for you!" And I told him. He said: "So you were the person that I saw in front of me?" I said: "Yes." He gave me a painful shove on the chest, then he said: "Did you think that Allah and His Messenger would be unjust to you?" I said: "Whatever the people conceal, Allah knows it; yes." He said: "Jibril came to me when you saw (me). He called me but he concealed it from you, and I answered him but I concealed it from you. He would not enter upon you when you were not fully dressed. I thought that you had gone to sleep and I did not want to wake you up, and I was afraid that you might be frightened." He (Jibril) said: "Your Lord is commanding you to go to the people of Al-Baqi' and pray for forgiveness for them." I said: "What should I say to them, O Messenger of Allah?" He said: "Say: As-Salamu 'ala ahlid-diyari min al-mu'minin wal-muslimin wa yarhamullahul-mustaqdimin minna walmusta 'khirin, wa inna, in sha' Allhhu bikum lalahiqun (Peace be upon the people of these abodes, believers and Muslims. May Allah have mercy on those of us who have gone on before and those who come later, and we will - if Allah wills - join you soon.)"'

حضرت محمد بن قیس بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک دن کہا کیا میں آپ کو اپنی اور اپنی ماں کے ساتھ بیتی ہوئی بات نہ سناؤں ؟ راوی کہتے ہیں کہ ہم نے سمجھا کہ شاید وہ اپنی نسبی ماں کا ذکرکررہے ہیں،انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کیا میں تم کو اپنی طرف سے اور رسول اللہ ﷺکی طرف سے حدیث بیان نہ کروں؟ ہم نے کہا کیوں نہیں!حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اس رات کی بات ہے جب رسول اللہ ﷺمیرے گھر تھے ، آپ ﷺنے کروٹ لیکر چادر اوڑھی اور جوتے نکال کر اپنے قدموں کے سامنے رکھے اور چادر کی ایک طرف اپنے بستر پر بچھا کر لیٹ گئے ، تھوڑی دیر میری نیند کے خیال سے ٹھہرے رہے ، پھر آہستہ سے چادر اوڑھی ، جوتا پہنا، چپکے سے دروازہ کھولا ، آرام سے باہر نکلے اور آہستہ سے دروازہ بند کردیا ، میں نے بھی ایک چادر سر پر اوڑھی ، ایک چادر اپنے گرد لپیٹی اور آپﷺکے پیچھے پیچھے چل پڑی، آپ ﷺبقیع (قبرستان) پہنچے اور دیر تک کھڑے رہے ، پھر آپ نے تین بار اپنے ہاتھ اٹھائے اور واپس لوٹنے لگے ۔ میں بھی واپس چل پڑی ، آپ تیز چلے میں بھی تیز چلی، آپ اور تیز چلے ، میں بھی اور تیز چلی ، آپ گھر آئے میں آپﷺسے پہلے گھر پہنچ گئی اور آتے ہی لیٹ گئی آپ نے فرمایا اے عائشہ ! کیا ہوا؟ تمہارا سانس کیوں چڑھ رہا ہے ؟ میں نے کہا کوئی خاص بات نہیں ! آپﷺنے فرمایا : تم خود بتلادو ورنہ لطیف و خبیر (اللہ تعالیٰ)مجھے بتلادے گا !میں نے یارسول اللہ ﷺآپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں پھر میں نے ساری بات بتلادی ۔ آپﷺنے فرمایا مجھے اپنے آگے ایک ہیولیٰ سا جو نظر آرہا تھا وہ تم تھیں ؟ میں نے کہا : ہاں ! آپ نے میرے سینہ پر ایک ہاتھ مارا جس سے مجھے درد ہوا پھر فرمایا : کیا تم نے یہ خیال کیا تھا کہ اللہ اور اس کا رسول تمہارا حق مار رہا ہے(یعنی تمہاری باری میں اور کسی بیوی کے پاس چلا جاؤں گا )۔تب میں نے کہا لوگ جس طرح بھی کوئی چیز چھپالیں گے تو ہاں اللہ اس کو جانتا ہے (یعنی اگر آپ مجھ سے کسی بیوی کے پاس جاتے بھی تو بھی اللہ دیکھتا تھا) آپﷺنے فرمایا جب تم نے مجھے دیکھا تھا اس وقت جبرائیل میرے پاس آئے تھے اور اس نے مجھے بلایا اور تم سے مخفی رکھا میں اس کے بلانے پر گیا اور میں نے بھی تم سے مخفی رکھا ۔وہ تمہارے پاس نہیں آئے تھے کیونکہ تم (زائد ) کپڑے اتار چکی تھیں اور میں نے یہ خیال کیا تھا کہ تم سوچکی ہو، میں نے تمہیں جگانا مناسب نہیں سمجھا اور یہ بھی خیال آیا کہ تم گھبراؤگی ، آپ ﷺنے فرمایا تمہارا رب تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم جاکر اہل بقیع کے لیے بخشش کی دعا کرو! حضرت عائشہ کہتی ہیں میں نے پوچھا : یا رسول اللہ !کس طرح دعا کروں ، آپﷺنے فرمایا جاکر کہنا: اے مؤمنوں اور مسلمانوں کے گھر والو!جو ہم سے پہلے جاچکے ہیں اور جو بعد میں جانے والے ہیں سب پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اور ہم بھی ان شاء اللہ تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَسَدِىُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يُعَلِّمُهُمْ إِذَا خَرَجُوا إِلَى الْمَقَابِرِ فَكَانَ قَائِلُهُمْ يَقُولُ - فِى رِوَايَةِ أَبِى بَكْرٍ - السَّلاَمُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ - وَفِى رِوَايَةِ زُهَيْرٍ - السَّلاَمُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَلاَحِقُونَ أَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِيَةَ.

It was narrated from Sulaiman bin Buraidah that his father said: "The Messenger of Allah (s.a.w) used to teach them, when they went out to the graves, to say: - according to the report of Abu Bakr: 'As-Salamu 'ala ahlad-diyar (Peace be upon the people of these abodes);' - according to the report of Zuhair: 'As-Salamu 'alaikum ahlad-diyar min al-mu'minina wal-muslimina, wa inna, in sha' Allahu lalahiqun (Peace be upon you, O people of these abodes - believers and Muslims, and we will, if Allah wills, join you soon. I ask Allah for pardon for us and for you.)"'

حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺانہیں تعلیم دیتے تھے کہ جب و ہ قبرستان جائیں تو کہیں السلام علی اھل الدیار اور ایک روایت میں ہے السلام علیکم اھل الدیار من المؤمنین والمسلمین وانا ان شاء اللہ بکم للاحقون نسال اللہ لنا ولکم العافیۃ اے مسلمانوں کے گھر والو!السلام علیکم ، ان شاء اللہ ہم تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں ۔ ہم اللہ تعالیٰ سے اپنے اور تمہارے لیے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔

36. بَابُ اسْتِئْذَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّهِ

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالاَ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ عَنْ يَزِيدَ - يَعْنِى ابْنَ كَيْسَانَ - عَنْ أَبِى حَازِمٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « اسْتَأْذَنْتُ رَبِّى أَنْ أَسْتَغْفِرَ لأُمِّى فَلَمْ يَأْذَنْ لِى وَاسْتَأْذَنْتُهُ أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأَذِنَ لِى ».

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'I asked my Lord for permission to pray for forgiveness for my mother but He did not give me permission. And I asked Him for permission to visit her grave and He gave me permission."'

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کے لئے استغفار کی اجازت طلب کی تو مجھے اجازت نہ دی گئی اور میں نے ان کی قبر کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت دے دی گئی۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالاَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ أَبِى حَازِمٍ عَنْ أَبِى هُرَيْرَةَ قَالَ زَارَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- قَبْرَ أُمِّهِ فَبَكَى وَأَبْكَى مَنْ حَوْلَهُ فَقَالَ « اسْتَأْذَنْتُ رَبِّى فِى أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَلَمْ يُؤْذَنْ لِى وَاسْتَأْذَنْتُهُ فِى أَنْ أَزُورَ قَبْرَهَا فَأُذِنَ لِى فَزُورُوا الْقُبُورَ فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْمَوْتَ ».

It was narrated that Abu Hurairah said: "The Prophet (s.a.w) visited the grave of his mother, and he wept and caused those around him to weep too. Then he (s.a.w) said: 'I asked my Lord for permission to pray for forgiveness for her, but He did not grant me permission. And I asked Him for permission to visit her grave and He gave me permission, so visit graves, for they will remind you of death."'

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبیﷺنے اپنی والدہ کی قبر کی زیارت کی تو رو پڑے اور آپ ﷺکے اردگرد والے بھی رو پڑے تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے ان کے لئے مغفرت مانگنے کی اجازت چاہی تو مجھے اجازت نہ دی گئی اور میں نے اللہ سے ان کی قبر کی زیارت کی اجازت طلب کی تو مجھے اجازت دے دی گئی پس قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ وہ تمہیں موت یاد دلاتی ہیں۔


حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى - وَاللَّفْظُ لأَبِى بَكْرٍ وَابْنِ نُمَيْرٍ - قَالُوا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِى سِنَانٍ - وَهُوَ ضِرَارُ بْنُ مُرَّةَ - عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِىِّ فَوْقَ ثَلاَثٍ فَأَمْسِكُوا مَا بَدَا لَكُمْ وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ إِلاَّ فِى سِقَاءٍ فَاشْرَبُوا فِى الأَسْقِيَةِ كُلِّهَا وَلاَ تَشْرَبُوا مُسْكِرًا ». قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِى رِوَايَتِهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ.

It was narrated from Abu Buraidah that his father said: "The Messenger of Allah (s.a.w) said: 'I used to forbid you from visiting graves, but now visit them; and I used to forbid you to keep sacrificial meat for more than three days, but now keep whatever you see fit; and I used to forbid you to drink Nabidh except from water skins, but now drink it from all kinds of vessels, but do not drink any intoxicant."

حضرت بریدہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا ، تم ان کی زیارت کرو اور میں نے تمہیں قربانیوں کا گوشت تین دنوں سے زیادہ روکنے سے منع فرمایا تھا، پس جب تک چاہو رکھ سکتے ہو میں نے تمہیں مشکیزوں کے علاوہ اور چیزوں میں نبیذ پینے سے منع کیا تھا، اب تم سب (قسم کے) برتنوں میں نبیذ پی لیا کرو اور نشہ آور چیز کو نہ استعمال کرنا۔


وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ زُبَيْدٍ الْيَامِىِّ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ أُرَاهُ عَنْ أَبِيهِ - الشَّكُّ مِنْ أَبِى خَيْثَمَةَ - عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- ح وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِى عُمَرَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِىِّ قَالَ حَدَّثَنِى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- كُلُّهُمْ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِى سِنَانٍ.

'Abdullah bin Buraidah narrated from his father from the Prophet (s.a.w) - a Hadith similar to that of Abu Sinan (no. 2260).

کئی دیگر اسانید سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔

37. بَاب تَرْكِ الصَّلَاةِ عَلَى الْقَاتِلِ نَفْسَهُ

حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلاَّمٍ الْكُوفِىُّ أَخْبَرَنَا زُهَيْرٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ أُتِىَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- بِرَجُلٍ قَتَلَ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصَ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ.

It was narrated that Jabir bin Samurah said: "A man who had killed himself with a broad headed arrow was brought to the Prophet (s.a.w) but he did not offer the funeral prayer for him."

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺکے سامنے ایک شخص لایا گیا جس نے اپنے آپ کو ایک تیر سے ہلاک کرلیا تھا ، آپ ﷺنے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔

‹ First234