قرآن سمجھ کر پڑھنا کیوں ضروری ہے ؟

(1) تلاوت کے معنی میں پڑھنے کے ساتھ ”عمل کرنے کی نیت سے پڑھنا” بھی شامل ہے۔یعنی تلاوت کا معنی ہوا” پڑھنا ،عمل کرنے کی نیت سے”۔[تہذیب اللغۃ:ج٥ص٢١،لسان العرب ج١٤ص١٠٢،قاموس القرآن ص١٦٩]اس کا یہ مطلب ہوا کہ بغیر سمجھے قرآن کی تلاوت کرنے سے قرآن پر عمل کرنا محال ہے ۔ (2) قرآن سمجھنے کی کتاب ہے ، اللّٰه کا فرمان ہے : لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ كِتٰبًا فِيْہِ ذِكْرُكُمْ۝۰ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۝۱۰ۧ (الانبیاء)ترجمہ: تحقیق ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب بھیجی ہے جس میں تمہارا ہی ذکر ہے کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے۔ اس لئے سمجھ کر قرآن پڑھنا نہایت ہی ضروری ہے۔(3)قرآن کے نزول کا مقصد تاریکی سے روشنی کی طرف لے جاناہے جیسا کہ اللّٰه تعالی نے فرمایا :كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰہُ اِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَي النُّوْرِ۝۰ۥۙ بِـاِذْنِ رَبِّھِمْ ( ابراھیم)ترجمہ : یہ کتاب (قرآن) ہے جس کو ہم نے آپؐ پرنازل کیا تاکہ اس کی روشنی میں اپ صلى الله عليه وسلم انسانوں کو گمراہیوں کی تاریکی سے نکال کر ایمان و عمل کی روشنی کی طرف لائیں ، ان کے پروردگار کے حکم سے۔اور یہ مقصد بغیر قرآن سمجھے پورا نہیں ہوسکتا۔ (4)قرآن ہدایت کی کتاب ہے ، فرمان رب ہے : شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنٰتٍ مِّنَ الْہُدٰى وَالْفُرْقَانِ۝۰ۚ(البقرہ : ۱۸۵) ترجمہ : (ماہ رمضان ہی میں قرآن کے نزول کی ابتداء ہوئی جو انسانوں کے لئے کھلی کھلی ہدایت ہے اور حق و باطل معلوم کرنے کی کسوٹی بھی ہے)اس آیت میں اللّٰه کی طرف سے انسانوں کو ہدایت حاصل کرنے کا امر ہے اور یہ امر متحقق ہے کہ بغیرسمجھے قرآن سے ہم ہدایت نہیں حاصل کر سکتے ۔(5) نصیحت حاصل کرنے والوں کیلئے قرآن کو آسان و سہل بنایا گیا ہے، اللّٰه کا فرمان ہے : وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۝۱۷ (القمر) ترجمہ : ( اور ہم نے قرآن کو آسان بنایا ہے نصیحت کیلئے پس ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا) (6) قرآن اختلافات دور کرنے والی کتاب ہے: كَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً۝۰ۣ فَبَعَثَ اللّٰهُ النَّبِيّٖنَ مُبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ۝۰۠ وَاَنْزَلَ مَعَہُمُ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِــيَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ فِـيْمَا اخْتَلَفُوْا فِيْہِ۝۰ۭ (البقرہ۔۲۱۳)ترجمہ : (تمام انسان ابتداً بلحاظ عقائد و اعمال بالکل ایک ہی اُمّت کی طرح تھے پس جب اختلافات پیدا کر کے فرقے و جماعتیں بنا لئے تو ان کی رہبری کے لئے اللّٰه تعالیٰ نے بشارت دینے والے اور عذاب سے خبردار کرنے والے پیغمبروں کو مبعوث فرمایا جن کے ساتھ حق باتوں پر مشتمل کتابیں بھی نازل فرمایا تاکہ کتاب کی روشنی میں ان امور میں فیصلہ کر دیں جن میں یہ لوگ اختلافات پیدا کر کے فرقے و جماعتیں بنا لئے تھے)آج اختلاف کی اہم وجہ قرآن کو بغیر سمجھے پڑھنا ہے ۔ (7) ایمان بالقرآن کا تقاضہ ہے کہ ہم قرآن سمجھ کر پڑھیں ، اللہ تعالیٰ نے قرآن پر ایمان لانے کے اوّلین اور بنیادی تقاضہ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰھُمُ الْكِتٰبَ يَتْلُوْنَہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ۝۰ۭ اُولٰۗىِٕكَ يُؤْمِنُوْنَ بِہٖ۝۰ۭ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِہٖ فَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْخٰسِرُوْنَ۝۱۲۱ۧ (البقرہ)ترجمہ : (ہم جس کو بھی کتاب دیتے ہیں اس کو ایسا پڑھتے ہیں جیسے اس کے پڑھنے کا حق ہے ایسا کرنے والے ہی لوگ اس کتاب پر ایمان رکھتے ہیں۔ جو کوئی کتاب کے ساتھ ایسا نہ کرے پس ایسے ہی لوگ گھاٹا پانے والے ہیں)(8)اللہ کا فرمان ہے : وَقَالَ الرَّسُوْلُ يٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَہْجُوْرًا۝۳۰ (الفرقان) ترجمہ : (اور رسول صلى الله عليه وسلم کہیں گے کہ اے میرے پروردگار میری امّت نے اس قرآن کو بالکل نظر انداز کر رکھا تھا)۔ہجرالقرآن کے معانی میں سے ایک معنی قرآن کریم میں غور و فکر کرنا اور اس سے فہم و سمجھ حاصل کرنا چھوڑ دینا ہے ۔ (9)اللّٰه نے فرمایا : وَلَا تَــقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِہٖ عِلْمٌ۝۰ۭ (بنی اسرائیل: ۳۶)ترجمہ : (اس چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہیں ہے) کیونکہ ان ہی باتوں کا علم دیا گیا ہے جن کی کل قیامت میں ہم سب سے پوچھ ہو گی۔(10) قرآن کریم تین دن سے کم میں ختم کرنے سے ممانعت کا مقصد یہ ہے کہ آدمی قرآن بلاسمجھے نہ پڑھے جیسا کہ محمد ﷺنے فرمایا :‘‘ جو اسے تین دن سےکم مدت میں ختم کرتا ہے وہ اسے سمجھ نہیں سکا۔’’(ابوداؤد ،الصلوٰۃ :۱۳۹۰،۱۳۹۵)مذکورہ چند دلائل کی روشنی میں یہ بات اظہرمن الشمس ہو جاتی ہے کہ قرآن کریم بلا سمجھے نہ پڑھا جائے ، جتنا ہی ہوسکے ہم سمجھ سمجھ پڑھیں مگر دین کے کچھ ٹھیکہ داروں نے مسلمانوں کو یہ باور کرایا کہ قرآن اللّٰه کا کلام ہے اور وہ عربی زبان میں ہے اس لئے اس کلام کا سمجھنا کسی کے بس کی بات نہیں , اس کے لئے اٹھارہ علوم چاہئے ، تم صرف دین کی جو باتیں ہم بتلائیں اس پر عمل کرو اور قرآن کی ناظرہ تلاوت کر کے برکت و ثواب حاصل کرتے رہو۔ “”تعجب ہے اس قوم پر جو دنیا کے مشکل سے مشکل علوم حاصل کرلیتی ہے مگر رب کی بھیجی ہوئی نصیحت حاصل کرنے والی آسان کتاب نہیں سمجھ سکتی ۔ سچ فرمایا محمد عربی ﷺ نے : إِنَّ اللّٰه یَرْفَعُ بِہَذَا الْکِتَابِ أَقْوَامًا وَیَضَعُ بِہِ آخَرِینَ))[صحیح مسلم:کتاب صلاۃ المسافرین،رقم الکتاب:7،رقم الباب47،رقم الحدیث:1934]”بے شک االلّٰه اس کتاب (قرآن)کے ذریعےقوموں کو ترقی دیتے ہیں اوردوسروں(اس پر عمل نہ کرنے والوں) کو تنزلی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Previous post کھانے پینے کے آداب، تفصیلی دلائل کے ساتھ !!!
Next post سورہ الانعام: آیت 114
WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com